بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد کے کاروبار کی ملکیت/ادائے قرض کے لیے جائیداد کی فروخت کا حکم اور والدین کے حقوق


سوال

(1)۔ میرا آپ سے  سوال یہ ہے کہ بچوں کو کاروبار کرواتے وقت جو پیسے میں نے ان کو دیئے، اس دوران کوئی ایسی بات چیت نہیں ہوئی تھی کہ یہ کاروبار تمھارا ہے یا میرا ہے،بس میں نے اپنے بیٹوں کو کاروبار کیلئے پیسے دیئے تھے،اس کاکیاحکم ہے؟

(2) ۔ میرے پاس گھر، پلاٹ اتنا ہے کہ میں ان کو بیچ کر اپنا قرضہ اتار سکتا ہوں جو مجھے مال کی مد میں دینا ہے۔ جبکہ میری اولاد یہ کہتی ہے کہ اگر آپ نے مکان یا پلاٹ بیچ دیا تو ہم کہاں جائینگے ؟

میری اولاد کا یہ کہنا ہے کہ باپ کی قرض داری وہ باپ کے ذمے ہے، اولاد کے ذمے نہیں، لیکن ہم اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دیتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں بھی اور آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کا قرضہ ہم دیں گے، کیا میری اولا د اس کی اہل ہے؟ کیا وہ قرضہ دے سکے گی ؟ اس پر شریعت کیا حکم دیتی ہے؟

(3)۔والدین کے  حقوق قرآن و سنت کی روشنی میں بیان فرمائیں۔

جواب

(1)۔سائل  کی طرف سے دی گئی رقم سے بیٹوں کا شروع کردہ کاروبار، اگر ہبہ (تحفہ) کی صراحت نہ ہو، تو وہ سائل ہی کی ملکیت ہے اور بیٹے اس میں صرف معاون ہیں ۔

(2)۔سائل  پر مال کی مد میں جوقرض ہے، اس کی ادائیگی سائل  کے ذمہ واجب ہے۔ اگرسائل کے پاس پلاٹ اور گھر موجود ہیں، تو قرض کی ادائیگی اولاد کی خواہشات پر مقدم ہے۔ جہاں تک اولاد کا سٹامپ پیپر پر لکھ کر دینے کا تعلق ہے، تو اسے  "عقدِ حوالہ" کہا جاتا ہے [۔ اگر قرض خواہ اس بات پر راضی ہو جائے کہ وہ سائل کے بجائے سائل کے بیٹوں سے رقم وصول کرے گا، توسائل اسی وقت اس قرض سے بری ہو جائے گا ۔ اگر  قرض خواہ اس  پرراضی نہ ہو ،تو سائل ہی اصل مدیون (قرض دار) رہے گا۔

(3)۔    اللہ رب العزت نے انسانوں کو مختلف رشتوں میں پرویا ہے، ان میں کسی کو باپ بنایا ہے تو کسی کو ماں کا درجہ دیا ہے اور کسی کو بیٹا بنایا ہے تو کسی کو بیٹی کی نسبت عطا کی ہے، غرض ر شتے بنانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق مقر ر فرمائے ہیں، ان حقوق میں سے ہر ایک کا ادا کر نا ضروری ہے۔  قرآنِ کریم میں خدا تعالی نے والدین کی اطاعت کے ضروری ہونے کو توحید جیسے اہم عقیدے کے ساتھ ذکر کرکے اس کی اہمیت بتلادی ہے،اولاد کے ذمے لازم ہے کہ والدین کے شریعت کے موافق ہر حکم کو بجالائے،اور جس قدر ممکن ہو والدین کی خدمت کرے اور ان کے لیے راحت کا سبب بنے۔

         ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

''وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلاً كَرِيماً (23) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنْ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيراً (24)''

ترجمہ:”اور تیرے رب نے حکم کردیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرواگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں سو ان کو کبھی (ہاں سے) ہوں بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا۔(23) اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیے جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا پرورش کیا ہے۔(24)“(ازبیان القرآن)

         ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

''أَنْ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (14)''

ترجمہ’’ میرا شکر یہ ادا کرو اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو، میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘(ازبیان القرآن)

         ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

''وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْناً وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلا تُطِعْهُمَا''

ترجمہ’’ ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کر نے کا حکم دیا ہے اور ساتھ یہ بھی بتادیا ہے کہ اگر وہ تجھ پر اس با ت کا زور ڈالیں کہ تو ایسی چیز کو میرے ساتھ شریک ٹھہرائے، جس کے معبود ہونے کی کوئی دلیل تیرے پاس نہ ہو تو اُن کا کہنا مت ماننا ۔‘‘(ازبیان القرآن)

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

''رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ (41) ''

’’اے میرے پروردگار! روزِ حساب تو میری، میرے والدین کی اور تمام ایمان والوں کی بخشش فرما۔‘‘(از بیان القرآن)

مشکاة  المصابیح میں ہے:

"عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان.''

( کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، ج:3، ص:1382، ط:المكتب الإسلامي- بيروت)

ترجمہ:” حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا مطیع و فرماں بردار ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کوئی ایک (حیات) ہو (اور وہ اس کا مطیع ہو) تو ایک دروازہ کھول دیا جاتاہے اور جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لیے صبح کے وقت جہنم کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کسی ایک کا نافرمان ہو تو ایک دروازہ جہنم کا کھول دیا جاتاہے، ایک شخص نے سوال کیا: اگرچہ والدین ظلم کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں۔“

سنن ابن ماجہ میں ہے:

''عن جابر بن عبد الله، أن رجلا قال: يا رسول الله! إن لي مالا وولدا، وإن أبي يريد أن يجتاح مالي! فقال: أنت ومالك لأبيك۔''

ترجمہ:''جابر بن عبد الله سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:یا رسول اللہ! میرے پاس مال بھی ہے اور اولاد بھی، اور میرے والد چاہتے ہیں کہ میرا سارا مال لے لیں۔تو آپﷺ نے فرمایا:تم اور تمہارا مال تمہارے والد کے لیے ہے۔''

( اول ابواب التجارات، باب ما للرجل من مال ولده ،ص:490، ط: دار الصديق للنشر)

علل الدارقطني میں ہے:

''عن عائشة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل في أبيه: لا تمش أمامه ولا تقعد قبله.''

ترجمہ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے فرماتی ہیں: رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو اس کے والد کے بارے میں فرمایا: اپنے والد کے آگے مت چلو اور ان سے پہلے نہ بیٹھو!“

(المجلد الرابع عشر،ج:14، ص:198، ط:دار ابن جوزی)

فتاوی شامی میں ہے:

''وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام''

(كتاب الاجارة، باب الاجارة الفاسدة ،ج:6   ،ص:63  ،ط:سعید)

وفيه ايضاً:

''وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة''

(کتاب الاجارۃ،ج:6،ص:5،ط:سعید)

تکملہ حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"أن اشتراط الضمان على الأمين باطل."

(‌‌كتاب الايداع،ج:8،ص:468،ط:سعید)

فتاوی شامی ميں ہے:

''وفي خزانة الفتاوى: ‌إذا ‌دفع ‌لابنه ‌مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري.''

(کتاب الهبة، ج:5، ص:688، ط:سعید)

وفيه أيضاً:

''دفع لابنه مالا ليتصرف فيه ففعل وكثر ذلك فمات الأب إن أعطاه هبة فالكل له، وإلا فميراث وتمامه في جواهر الفتاوى.''

(كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، فصل في مسائل متفرقة، ج:5، ص:709، ط: سعيد)

درر الحكام شرح مجلة الاحكام  میں ہے:

''(المادة 673) الحوالة هي نقل الدين من ذمة إلى ذمة أخرى أي نقل الدين والمطالبة به من ذمة المحيل إلى ذمة المحال عليه، وبعد هذا النقل ينتقل أمر المطالبة بالدين من المحيل إلى المحال عليه، يعني أنه بينما كان المطالب بالدين قبل الحوالة المحيل فيصير المطالب المحال عليه بعد الحوالة.''

(الكتاب الرابع الحوالة، ج:2 ، ص:5،  ط: دار الجيل)

وفيه أيضاً:

''(المادة 680) إذا قال المحيل لدائنه: أحلتك على فلان وقبل المحال له والمحال عليه تنعقد الحوالة. يجوز أن تنعقد الحوالة بين المحيل والمحال له والمحال عليه. مثلا إذا قال المحيل لدائنه: إني أحلتك بديني البالغ كذا قرشا على فلان وقبل المحال له والمحال عليه الحوالة بإيرادهما ألفاظا تدل على الرضا كرضيت أو قبلت الحوالة تنعقد الحوالة وتكون نافذة. رضا المحال له له شرط بالإجماع.''

(الكتاب الرابع الحوالة ،الباب الاول في بيان عقد الحوالة، الفصل الاول في بيان ركن الحوالة، ج:2، ص: 18، ط: دار الجيل)

الدر المختار شرح تنوير الابصار  میں ہے:

'‌‌'كتاب الحوالة

(هي) لغة: النقل، وشرعا: (نقل الدين من ذمة المحيل إلى ذمة المحتال عليه) وهل توجب البراءة من الدين المصحح؟ نعم.

فتح (المديون محيل والدائن محتال ومحتال له ومحال ومحال له)''

(كتاب الحوالة ،ص:461،ط:دار الكتب العلمية -بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100335

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں