
کسی غیرمسلم پر جھوٹی تہمت لگانا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ شرعی طور پر یہ امر قطعی اور مسلم ہے کہ کسی غیرمسلم پر جھوٹی تہمت لگانا حرام، کبیرہ گناہ اور ظلمِ صریح ہے، یہ ایسا فعل ہے جس میں بیک وقت حقُّ اللہ کی خلاف ورزی بھی پائی جاتی ہے اور حقُّ العبد کی تلفی بھی، اس لیے اس کا وبال نہایت شدید اور اس کی ذمہ داری دوہری ہے۔
اس کی بنیاد یہ ہے کہ بہتان اور جھوٹی تہمت بذاتِ خود جھوٹ ہے، اور جھوٹ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی صریح مخالفت ہے، جو کہ حقُّ اللہ کے منافی ہے، قرآنِ کریم نے جھوٹ اور ناحق الزام تراشی کو سخت مذمت اور وعید کے ساتھ بیان فرمایا ہے، جس سے اس گناہ کی سنگینی واضح ہوتی ہے۔
پھر جب یہی جھوٹ کسی انسان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ،تو اس کے نتیجے میں اس کی عزت، وقار اور ذہنی سکون مجروح ہوتا ہے، اور بلا شبہ جھوٹی تہمت انسان کو شدید قلبی اور معاشرتی تکلیف پہنچاتی ہے،شریعت کی رو سے کسی انسان کو تکلیف دینا ایذا ہے، اور ایذا رسانی ہر صورت میں حرام ہے،چونکہ ایذا دینا ظلم کی ایک واضح اور قطعی صورت ہے، اور ظلم شریعت میں کبیرہ گناہ ہے، اس لیے بہتان کے ذریعے کسی کو اذیت دینا نہایت سنگین جرم شمار ہوتا ہے۔
یہ حکم مسلمان اور غیرمسلم دونوں کے حق میں یکساں ہے، کیونکہ شریعتِ اسلامیہ نے انسان کی عزت کو بلا امتیازِ مذہب محترم قرار دیا ہے، غیرمسلم، بالخصوص وہ جو پرامن طور پر اسلامی معاشرے میں رہتا ہو ،یا جس سے معاہدہ ہو، اس کی جان، مال اور عزت محفوظ ہے، اور اس پر جھوٹی تہمت لگانا شرعاً کسی درجے میں بھی جائز نہیں۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100514
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن