
میں عرصہ دراز سے اس قسم کا درود شریف پڑھتا ہوں:
"اللهم صل على محمد بعدد مخلوقاتك الف الف مرة.
اللهم صل على محمد بعدد حروف القرآن الف الف مرة.
اللهم صل على محمد بعدد اوراق الأشجار الف الف مرة.
وضح رہے کہ بعینہ احادیث میں وارد شدہ الفاظ کے ساتھ درود شریف پڑھنا لازم اور ضروری نہیں ہے، بلکہ ہر وہ صلاۃ و سلام کے الفاظ جن کے معانی درست ہوں، ان الفاظ سے درود شریف پڑھنا جائز ہے، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ درود شریف کے تینوں جُملے اپنے معانی کے اعتبار سے درست ہیں، لہٰذا ان الفاظ سے درود شریف پڑھنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ تاہم جو الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، ان کے ساتھ درودھ پڑھنا زیادہ باعثِ فضیلت ہے۔
معارف القرآن میں ہے:
"یہ کوئی ایسی تعین نہیں جس میں تبدیلی ممنوع ہو؛کیوں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےصلوۃ یعنی درود شریف کے بہت سے صیغے منقول وماثورہیں، صلوۃ وسلام کے حکم کی تعمیل ہراس صیغے سے ہوسکتی ہے،جس میں صلوۃ وسلام کے الفاظ ہوں، یہ ضروری نہیں کہ وہ آنحضرت سے بعینہٖ منقول ہوں،بل کہ جس عبارت کے ساتھ بھی صلوۃ وسلام کے الفاظ اداکیے جائیں، اس حکم کی تعمیل اوردرود شریف کا ثواب حاصل ہوجاتاہے، مگر یہ ظاہرہے کہ جوالفاظ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں ، وہ زیادہ بابرکت اور زیادہ ثواب کے موجب ہیں۔"
(سورۃ احزاب،ج:5،ص:223،ط:مکبتۃ معارف القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102357
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن