بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر جان دار اشیاء کو جان دار کی صورت میں پیش کرنے والے ڈیجیٹل کارٹون بنانے کا شرعی حکم


سوال

 آج کل جو ڈیجیٹل کارٹون بناتے ہیں، جیسے کوئی چیز جان دار نہیں ہے جیسے بس یا درخت یا یا پینسل وغیرہ، اس طرح کی چیزوں میں آنکھ اور ہونٹ لگا دیتے ہیں اور ان سے کبھی کبھی باتیں بھی کرائی جاتی ہیں تو اس طرح کے کارٹون بنانا جائز ہے یا نہیں جس میں کوئی جان دار کی تصویر نہ ہو لیکن غیر جان دار کو جان دار کی طرح بنا دیا گیا ہو؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسے ڈیجیٹل کارٹون بنانا جس میں آنکھ اور ہونٹ لگا دیتے ہیں اور ان سے کبھی کبھی باتیں بھی کرائی جاتی ہے وہ بھی  یہ تصویرکےحکم میں ہیں، اس لئے  اس طرح کے کارٹون بنانا جائز نہیں ہے اور بنانے والے ”أشد الناس یوم القیامة المصورون“ کی وعید و ممانعت کے تحت شامل ہوں گے۔

مشکاۃ المصابیح  میں  ہے:

"وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أشد الناس عذاباً يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله."

(باب التصاویر: ج:2، ص:385 ط: قدیمي)

ترجمہ:” حضرت عائشہ ؓ  ، رسول کریمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ  آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ سخت عذاب  ان لوگوں کو ہوگا جو تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں“۔ (از مظاہر حق جدید)

وفیہ ایضاً:

"عن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أشد الناس عذاباً عند الله المصورون." 

(باب التصاویر: ج: 2، ص: 385،  ط: قدیمي) 

ترجمہ:،” حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریمﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت ترین عذاب کا مستوجب، مصور (تصویر بنانے والا)ہے“۔(از مظاہر حق جدید)

وفیہ ایضاً:

"عن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كلّ مصوِّر  في النار يجعل له بكلّ صورة صوّرها نفسًا فيعذبه في جهنم."

 (باب التصاویر، ج: 2، ص:385،  ط: قدیمي)

ترجمہ: ”حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ  میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے  ہوئے سنا کہ” ہر مصور دوزخ میں ڈالا جائے گا، اور اس کی بنائی  ہوئی ہر تصویر کے بدلے ایک شخص پیدا کیا جائے گا جو تصویر بنانے والے کو دوزخ میں عذاب دیتا رہے گا“۔(از مظاہر حق جدید)

فتاوٰی شامی میں  ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها."

(کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیها، ج:1، ص:647، ط: سعید)

وفیہ أیضاً:

" وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى."

(فرع لابأس باتخاذ المسبحة لغیر ریاء: ج:1، ص:650، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولبس ثوب فيه تماثيل) ذي روح، وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه والأظهر الكراهة و) لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة (أو في يده) عبارة الشمني بدنه لأنها مستورة بثيابه (أو على خاتمه) بنقش غير مستبين. قال في البحر ومفاده كراهة المستبين لا المستتر بكيس أو صرة أو ثوب آخر، وأقره المصنف (أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي على الأرض، ذكره الحلبي (أو مقطوعة الرأس أو الوجه)أو ممحوة عضو لا تعيش بدونه (أو لغير ذي روح لا) يكره لأنها لا تعبد وخبر جبريل مخصوص بغير المهانة كما بسطه ابن الكمال: واختلف المحدثون في امتناع ملائكة الرحمة بما على النقدين، فنفاه عياض، وأثبته النووي."

"(قوله أو ممحوة عضو إلخ) تعميم بعد تخصيص، وهل مثل ذلك ما لو كانت مثقوبة البطن مثلا. والظاهر أنه لو كان الثقب كبيرا يظهر به نقصها فنعم وإلا فلا؛ كما لو كان الثقب لوضع عصا تمسك بها كمثل صور الخيال التي يلعب بها لأنها تبقى معه صورة تامة تأمل (قوله أو لغير ذي روح) لقول ابن عباس للسائل " فإن كنت لا بد فاعلا فاصنع الشجر وما لا نفس له " رواه الشيخان، ولا فرق في الشجر بين المثمر وغيره خلافا لمجاهد بحر (قوله لأنها لا تعبد) أي هذه المذكورات وحينئذ فلا يحصل التشبه."

(باب مایفسد الصلاة وما یکره، فرع لابأس بتکلیم المصلي وإجابته برأسه: ج:1، ص:649، ط: سعید)

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101574

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں