
جرمنی کا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے آج کل حلف اٹھانے میں یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ :میں اسرائیل کو تسلیم کرتا ہوں،کیا پاسپورٹ حاصل کرنے لیےکسی مسلمان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے ؟
اسرائیل کا قیام فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کرکے کیا گیا ہے ، اس لیے اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے ، جسے تسلیم کرنا دینی و ایمانی غیرت کے خلاف ہے ، نیز یہ عمل لاکھوں مظلوم فلسطینیوں کی قربانیوں کو ٹھکرانے کے مترادف ہے ، ا س لیے کسی مسلمان کا کسی غیرمسلم ملک کے پاسپورٹ کے حصول کے لیے حلفاً یہ اقرار کرناکہ :"میں اسرائیل کو تسلیم کرتا ہوں "، ایمانی غیرت وحمیت کے خلاف ہے ۔
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:
"ولا بأس بحمل الثياب والمتاع والطعام، ونحو ذلك إليهم؛ لانعدام معنى الإمداد، والإعانة، وعلى ذلك جرت العادة من تجار الأعصار، أنهم يدخلون دار الحرب للتجارة من غير ظهور الرد والإنكار عليهم، إلا أن الترك أفضل؛ لأنهم يستخفون بالمسلمين، ويدعونهم إلى ما هم عليه، فكان الكف والإمساك عن الدخول من ب؛اب صيانة النفس عن الهوان، والدين عن الزوال، فكان أولى."
(کتاب السیر، فصل في بیان ما یکرہ حمله إلی دار الحرب و مالا یکرہ، ج:7، ص: 102، ط:رشیدیہ)
جواہر الفقہ میں ہے:
"بلا ضرورت مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات نہ کیے جائیں... کفار و مشرکین کے ساتھ اس طرح معاملات نہ کیے جائیں جس سے مسلمانوں کی ذلت ظاہر ہو۔"
(غیر مسلموں کے ساتھ معاملات، ج:5، ص:355، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101405
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن