
اگرزید نے خالد کی غیبت کی ہو، اور اس کو زید کے غیبت کرنے کا علم نہ ہوا ہو تو کیا اس وقت تک یہ حقوق العباد میں شمار نہیں ہوتا ہے، ایک صاحب کا کہنا ہے کہ جب تک اس آدمی کو معلوم نہیں ہوجاتا، اس وقت تک یہ غیبت حقوق اللہ میں شمار ہوگی، یعنی اگر اللہ سے معافی مانگ لی جائے،تو معاف ہو جائے گی، بندے سے معاف کروانے کی ضرورت نہیں ہے، کیا ان صاحب کا کہنا درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں یہ بات درست ہےکہ جن لوگوں کی غیبت کی ہے، انہیں غیبت کا علم نہ ہو تو ان سے معافی مانگنا شرعاً واجب نہیں، اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنا اور ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا بھی کافی ہوگا۔
البتہ کسی کی غیبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے، قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا ہے، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مسلمان کی عزت پر حرف گیری کرنے کو بدترین سود قرار دیا ہے، نیز غیبت کو زنا سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ اس گناہ کی بہت سی وعیدیں احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئی ہیں، اور عقلی طور پر بھی کسی کی برائی وبدخواہی، اور اس کی تحقیر جائز نہیں ہے، بہر صورت غیبت سے اجتناب کرنا چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وإذا لم تبلغه يكفيه الندم وإلا شرط بيان كل ما اغتابه به."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:410، ط:دار الفكر بيروت)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - " «الربا سبعون جزءا أيسرها إثما أن ينكح الرجل أمه»
(وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الربا) أي إثمه (سبعون جزءا) أي بابا أو حوبا كما جاء بهما الرواية (أيسرها) أي أهون السبعين (إثما) وأدناها كما في رواية (أن ينكح الرجل أمه) أي يطأها وفي رواية: " «الربا ثلاثة وسبعون بابا أيسرها مثل أن ينكح الرجل أمه، وإن أربى الربا عرض الرجل المسلم» " رواه مالك عن ابن مسعود. رواية: " «الربا اثنان وسبعون بابا أدناها مثل إتيان الرجل أمه، وإن أربى الربا استطالة الرجل في عرض أخيه» " رواه والطبراني في الأوسط عن البراء. ففي الحديثين دلالة على أن وجه زيادة الربا على معصية الزنا إنما هو لتعلق حقوق العباد."
”ترجمہ:(مذکورہ احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ)نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نےفرمایا کہ سود اتنابڑاگناہ ہے کہ اس کے اندر بے شمار خرابیاں ہیں، اور بہت سے گناہوں کا مجموعہ ہے، اور اس کا ادنی گناہ ایسا ہے العیاذ باللہ جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بدکاری کرے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا کہ سب سے بدترین سود یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی آبرو پر حملہ کرے“
(كتاب البيوع، باب الربا، الفصل الثالث، ج:5، ص:1925، ط:دار الفكر بيروت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144607101808
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن