
میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد ترکہ کی تقسیم کے وقت میں اپنے حصے کے بدلے 9 کلو سونا لینے پر را ضی ہوگئی، اور میرا بھائی میرے حصے کے بدلے 9 کلو سونا دینے پر راضی تھا،اور بھائی نے اس 9 کلو میں سے سوا 2 کلو سوناادا کردیاہےمجھے،لیکن اب وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے یاد نہیں ہےکہ میں 9 کلو سونا دینے پر راضی ہوگیا تھا یا کم پر،اور مجھ سے کہتاہےکہاگر آپ قسم کھالیں اور آپ کی قسم کا علماءاعتبار کریں تو میں بقیہ سونادے دوں گا۔
اب سوال یہ ہے کہ میں اس متعلق قسم کھانے لئے تیار ہوں کہ میرے بھائی نےمیرے حصے کے بدلے 9 کلو سونا دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی تو کیا اس صورت میں میرے قسم کھانے سے اس پر ادائیگی لازم ہوگی یا نہیں؟اور اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
نوٹ: واضح رہے میرا بھائی جب کراچی آیا تھاتو مجھ سے کہنے لگا کہ آپ کا سونا بہت ہے،میں 500گرام کے حساب سے ادا کرتا رہوں گا۔
واضح رہے کہ شرعا مدعی کے ذمہ گواہ لازم ہیں، اور اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو پھر مدعی علیہ پر قسم لازم ہوتی ہے، مدعی کے قسم اٹھانے سے وہ دعوی ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی قسم کی وجہ سے مدعی علیہ پر دعوی کا ثبوت ہوتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ معاملے میں سائلہ کے قسم اٹھانے سے اس کے بھائی پر نو کلو سونا دینا لازم نہیں ہو گا، البتہ سائلہ کا بھائی جب سائلہ کے دعوی کے جواب میں یہ کہنا کہ "آپ قسم اٹھا لو تو میں آپ کو نو کلو سونا ادا کر دوں گا"، سائلہ کی قسم کے بغیرصرف اسی بات کی وجہ سے اس کے بھائی پر نو کلو سونا ادا کرنا شرعاًلازم ہے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"قوله صلى الله عليه وسلم: ( "البينة على المدعي واليمين على من أنكر" ) أي: جميع البينات في جانب المدعي، وجميع الأيمان في جانب المنكر، وهذا هو التحقيق والله ولي التوفيق. (رواه مسلم) ."
(باب الأقضية والشهادات،ج:6،ص: 2443،ط: دار الفكر، بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وكذلك إذا قال المدعى عليه للمدعي (سوكند خوركه أين مال بتونر سانيده أم) أو قال (سوكند خوركه أين مال بنوسيده است) فهذا إقرار من المدعى عليه بالمال ويؤمر بالإيفاء هكذا حكي فتوى بعض مشايخنا كذا في المحيط."
(كتاب الإقرار،الباب الثاني في بيان ما يكون إقرارا وما لا يكون،ج:4، ص:159، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101038
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن