بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گیس ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنے کا حکم


سوال

مسجد میں گیس ہیٹر کے سامنے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ بعض مساجد میں صف کے سامنے جل رہاہوتاہے۔

جواب

مسجد میں گیس ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا اصولاً جائز ہے بشرطیکہ اس میں آگ یا شعلہ براہِ راست نظر نہ آ رہا ہو ،فقہاء نے ایسی آگ کے سامنے نماز کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے جو کھلی ہوئی ہو اور سامنے نظر آتی ہو کیونکہ اس میں آتش پرستوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔

البتہ آج کل جو گیس ہیٹر استعمال ہوتے ہیں ان میں عموماً آگ جالی یا کور کے اندر ہوتی ہے اور مقصد صرف گرمی حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ آگ کی طرف رخ کرنا اس لیے اگر شعلہ کھلا اور واضح نہ ہو تو نماز بلا کراہت درست ہے۔

اگر کسی مسجد میں ہیٹر کا شعلہ بالکل سامنے کھلا ہو اور نمازی کے سامنے واضح طور پر نظر آ رہا ہو تو بہتر یہ ہے کہ اس کے سامنے نماز نہ پڑھی جائے اور صف کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ شعلہ سامنے نہ آئے یا ہیٹر کو دائیں بائیں اس طرح رکھیں کہ نمازی کے سامنے نہ ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن ‌توجه ‌في ‌صلاته ‌إلى ‌تنور فيه نار تتوقد أو كانون فيه نار يكره ولو توجه إلى قنديل أو إلى سراج لم يكره. كذا في محيط السرخسي وهو الأصح. كذا في خزانة الفتاوى."

(الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها ،الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره،ج:1،ص:108،ط:رشيدية)

البحرالرائق میں ہے:

"(‌قوله ‌أو ‌شمع ‌أو ‌سراج) ‌لأنهما ‌لا ‌يعبدان والكراهة باعتبارها وإنما يعبدها المجوس إذا كانت في الكانون وفيها الجمر أو في التنور فلا يكره التوجه إليها على غير هذا الوجه وذكر في غاية البيان اختلاف المشايخ في التوجه إلى الشمع أو السراج والمختار أنه لا يكره اهـ.

وينبغي أن يكون عدم الكراهة متفقا عليه فيما إذا كان الشمع على جانبيه كما هو المعتاد في مصر المحروسة في ليالي رمضان للتراويح قال ابن قتيبة في أدب الكاتب في باب ما جاء فيه لغتان استعمل الناس أضعفهما الشمع بالسكون والأوجه فتح الميم ."

(باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:2،ص: 34،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واعلم


فتویٰ نمبر : 144707100063

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں