بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی کے ٹائر دھوتے وقت اگر کپڑوں پر نجاست لگنے کا شک ہو تو نماز کا حکم


سوال

میں ایک ڈرائیور ہوں، گاڑیاں بھی صاف کرتا ہوں، اس میں گاڑی کے ٹائر بھی دھونے پڑتے ہیں، اور ممکن ہے کہ ٹائروں پر گند بھی لگا ہو، تو کیا جو کپڑے پہن کر گاڑی دھوئی ہے ،اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟ جبکہ ڈرائیور کی نماز عموماً راستے میں ہی ہوتی ہے، تو ہر نماز کے لیے کپڑے بدلنا بھی مشکل ہے، ہر  جگہ کپڑے بدلنے کی جگہ بھی میسر نہیں ہوسکتی۔

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  جب تک  گاڑیوں   کے ٹائروں پر  نجاست  کا یقین  نہ  ہو، صرف  اس  شک  کی بنیاد  پر  کہ  ٹائروں  پر نجاست لگی ہوئی ہوگی، تو ان گاڑیوں کے دھونے سے اور اس کی چھینٹے لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے،ان کپڑوں میں نماز ادا کی جا سکتی ہے، البتہ اگر یقین ہو کہ اس گاڑی کے ٹائر پر نجاست لگی ہوئی ہے اور ان کو دھوتے وقت اس نجاست کا چھینٹوں کی وجہ سے کپڑوں وغیرہ پر  لگنے کا یقین ہو، تو اس صورت میں کپڑے  ناپاک ہوں گے،ان کپڑوں میں نماز ادا کرنا درست نہیں ہو گی، باقی اگر یہ چھینٹے  بہت معمولی مقدار میں ہوں ،تو ان کپڑوں میں نماز ادا کی جاسکتی ہے،  اس وجہ سے نماز میں کوتاہی نہ کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"و لو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر، و تمامه في الأشباه.

(قوله: و لو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا ‌فهو ‌طاهر ‌ما ‌لم ‌يستيقن."

(کتاب الطهارۃ، ص:151، ج:1، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم   


فتویٰ نمبر : 144708102361

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں