
میں ایک ڈرائیور ہوں، گاڑیاں بھی صاف کرتا ہوں، اس میں گاڑی کے ٹائر بھی دھونے پڑتے ہیں، اور ممکن ہے کہ ٹائروں پر گند بھی لگا ہو، تو کیا جو کپڑے پہن کر گاڑی دھوئی ہے ،اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟ جبکہ ڈرائیور کی نماز عموماً راستے میں ہی ہوتی ہے، تو ہر نماز کے لیے کپڑے بدلنا بھی مشکل ہے، ہر جگہ کپڑے بدلنے کی جگہ بھی میسر نہیں ہوسکتی۔
صورتِ مسئولہ میں جب تک گاڑیوں کے ٹائروں پر نجاست کا یقین نہ ہو، صرف اس شک کی بنیاد پر کہ ٹائروں پر نجاست لگی ہوئی ہوگی، تو ان گاڑیوں کے دھونے سے اور اس کی چھینٹے لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے،ان کپڑوں میں نماز ادا کی جا سکتی ہے، البتہ اگر یقین ہو کہ اس گاڑی کے ٹائر پر نجاست لگی ہوئی ہے اور ان کو دھوتے وقت اس نجاست کا چھینٹوں کی وجہ سے کپڑوں وغیرہ پر لگنے کا یقین ہو، تو اس صورت میں کپڑے ناپاک ہوں گے،ان کپڑوں میں نماز ادا کرنا درست نہیں ہو گی، باقی اگر یہ چھینٹے بہت معمولی مقدار میں ہوں ،تو ان کپڑوں میں نماز ادا کی جاسکتی ہے، اس وجہ سے نماز میں کوتاہی نہ کریں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"و لو شك في نجاسة ماء أو ثوب أو طلاق أو عتق لم يعتبر، و تمامه في الأشباه.
(قوله: و لو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن."
(کتاب الطهارۃ، ص:151، ج:1، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708102361
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن