بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک یا دیگر اداروں سے گاڑی فائنانس کرنے کی شرعی حیثیت


سوال

بندہ ایک مسجد میں امام ہے، اس کے علاوہ قریب ہی میں ایک گاؤں ہے، جو کہ پسماندہ علاقہ کہلاتا ہے ،جہاں بندہ کو پیدل  آنے جانے  میں گھنٹہ لگ جاتا ہے، دونوں جگہ سے جو آمدنی ہوتی ہے وہ تقریباً 11000 تک ہے، گھریلو کام کاج کے لئے وقت نہیں مل پاتا، خصوصاََ ساگ سبزی کے لئے بازار  جاسکے، اور ماشاء اللّٰہ بندہ صاحب اولاد بھی ہے سات بچے ہیں، لیکن ابھی سب چھوٹے ہیں، اسی لئے بندہ ایک گاڑی لینا چاہتا ہے تاکہ بازار آنا جانا ہو سکے ،اور آمدنی بھی بڑھانے کی کوشش کی جا سکے، لیکن 11000 کی آمدنی میں گاڑی لینا ممکن نہیں، گھر کا خرچہ ہی بڑی مشکل سے پورا ہو پاتا ہے، بناء بریں بندہ گاڑی فائنانس کروانا چاہتا ہے۔

لہذا آپ سے گزارش ہے کہ بندہ کی رہبری فرمائیں کہ  مذکورہ بالا حالات کے پیش نظر گاڑی فائنانس کروانا بندہ کے لئے جائز ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں کسی بھی بینک سے گاڑی فائنانس کروانا جائز نہیں،کیوں کہ بینکس فائنانس کرتے ہوئے ایسی شرائط رکھتے ہیں،جو سود کو مستلزم ہوتی ہیں۔

تاہم اگر کوئی فرد یا ادارہ مطلوبہ گاڑی نقد خرید کر سائل کو قیمت طے کرکے قسطوں پر فروخت کردے،اس طور پر کہ قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر ہونے کی صورت میں کسی قسم کے جرمانہ کی شرط نہ ہو،قیمت بھی متعین ہو،اور ثمن کی ادائیگی کی مدت بھی متعین ہو،تو اس صورت میں سائل کےلئے قسطوں پر سودا کرنا جائز ہوگا۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ "(البقرة: الآیة: 188)

ترجمہ:اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ، اور نہ ہی ان (مالوں) کو حاکموں تک اس غرض سے پہنچاؤ کہ تم گناہ کے ساتھ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر ہڑپ کر جاؤ، حالانکہ تم (اس کی حرمت) جانتے ہو۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى."

(کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج: 1، ص: 261، ط: رحمانیة)

ترجمہ:خبردار! کسی پر ظلم نہ کرنا، یاد رکھو! کسی مسلمان کا مال اُس کی خوش دلی اور رضا مندی کے بغیر حلال نہیں۔

  مسند احمد میں ہے:

"حدثنا أبو سعيد مولى بني هاشم، حدثنا سليمان بن بلال، عن سهيل بن أبي صالح، عن عبد الرحمن بن سعيدعن أبي حميد الساعدي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل لامرئ أن يأخذ مال أخيه بغير حقه " وذلك لما حرم الله مال المسلم على المسلم.

وقال عبيد بن أبي قرة: حدثنا سليمان، حدثني سهيل، حدثني عبد الرحمن بن سعيد، عن أبي حميد الساعدي، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل للرجل أن يأخذ عصا أخيه بغير طيب نفسه " وذلك لشدة ما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم من مال المسلم على المسلم."

‌‌(مسند ابی حمید الساعدی، ج: 39، ص: 18، رقم الحدیث: 23605، ط: مؤسسةالرسالة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وعند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير. ومعنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق."

(کتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 2، ص: 167، ط: المطبعة الکبری ،مصر)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في التعزير بأخذ المال

(قوله:لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج،وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان.

(قوله: وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .اه.

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(کتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب فی التعزیر باخذالمال، ج: 4، ص: 61، ط: ایچ ایم سعید)

مبسوط سرخسی میں ہے:

"وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال: إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع، وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية، وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد ... الخ." 

(کتاب البیوع، باب البیوع الفاسدة، ج: 13، ص: 8، ط: دارالمعرفة)

ہدایہ میں ہے:

"قال: ومن اشترى غلاما بألف درهم نسيئة فباعه بربح مائة ولم يبين فعلم المشتري، فإن شاء رده، وإن شاء قبل؛ لأن للأجل شبها بالمبيع؛ ألا يرى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل، والشبهة في هذا ملحقة بالحقيقة فصار كأنه اشترى شيئين وباع أحدهما مرابحة بثمنهما، والإقدام على المرابحة يوجب السلامة عن مثل هذه الخيانة، فإذا ظهرت يخير كما في العيب وإن استهلكه ثم علم لزمه بألف ومائة"؛ لأن الأجل لا يقابله شيء من الثمن."

(كتاب البيوع‌‌، باب المرابحة والتولية، ج: 3، ص: 78، ط: رحمانیة)

دررالحكام في شرح مجلة الأحكام  میں ہے :

"‌البيع ‌مع ‌تأجيل ‌الثمن وتقسيطه صحيح يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط."

 (الكتاب الأول البيوع، الفصل الثانی، (المادة: 245،246)، ج: 1، ص: 228، ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100602

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں