
میں ہر رمضان کی پہلی تاریخ کو اپنے پاس جتنا بھی اضافی مال یا نقدی ہے اس کا حساب کرتا ہوں اور اس کے بعد 2.5 فیصد کے حساب سے یکم رمضان کو زکوۃ نکال دیتا ہوں ۔ مجھے دو گاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک مجھے اور ایک میری بیوی کو،دو ہی گاڑیاں میرے پاس تھیں ۔ اس میں سے ایک گاڑی ڈیڑھ سال سے جو کہ میرے پاس تھی رمضان سے ایک ماہ پہلےاڑتیس لاکھ پچاس ہزار( 3850000 )کی بیچ دی مجھےدوسری گاڑی لینی تھی ۔ میں گاڑی ڈھونڈ رہا تھا لیکن مجھے دوسری اچھی گاڑی نہیں ملی اور رمضان کی پہلی تاریخ آ گئی اب میرے پاس 54لاکھ نقدی پڑی ہوئی ہے اس میں سے میں نے لگ بھگ 40 لاکھ روپے تک کی گاڑی کی رقم مخصوص کی اور بقیہ رقم جو ہے اس پر مجھے زکوۃ نکالنی تھی۔ اب ہوا یہ کہ مجھے رمضان کی پہلی تاریخ تک گاڑی نہیں ملی اور رمضان کا چاند نظر آ گیا مجھے یہ بتائیں کہ مجھے 40 لاکھ جس کی گاڑی لینی تھی اس کے اوپر زکوۃ دینی ہوگی ؟ یا صرف جو بقیہ رقم ہے جو کہ 14 لاکھ بنتی ہے اس کے اوپر زکوۃ دوں گا؟
صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی جو گاڑی فروخت کی تھی اور حاصل شدہ رقم سے یکم رمضان المبارک سے قبل تک دوسری گاڑی خرید نہیں سکا، تو اس صورت میں اس کل 54 لاکھ روپے کا ڈھائی فیصد بطور زکوۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة."
(کتاب الزکاۃ، ج:2 ، ص267 ، ط: سعید)
النھر الفائقمیں ہے:
''والثالث أن نفي وجوبها فيما إذا كان له دراهم مستحقة للصرف إلى تلك الحوائج مخالف لما في (الدراية) و (البدائع) تجب الزكاة في النقد كيف ما أمسكه للنماء أو للنفقة''
(كتاب الزكاة،ج:1،ص:415، دارالکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100298
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن