
ہمارے گاؤں ،نیو کلے حسن زئی،ضلع تور غر میں ایک سرکاری سکول قائم ہے،جس میں اساتذہ اور چوکیدار کو تنخواہیں حکومت کی جانب سے ملتی ہیں۔اس میں چوکیدار کو تقریباً 50 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے،لیکن مستقل کوئی چوکیدار نہیں ہے بلکہ بدلتے رہتے ہیں ،وہ اس طرح کہ پورے گاؤں میں ایک ہی قوم (قبیلہ) کے لوگ ہیں،ان کے درمیان یہ معاہدہ ہوا ہے کہ قرعہ اندازی سے جس خاندان کا بھی نام آیا ان سے چوکیدار مقرر ہوگا،اور آٹھ سال تک وہ چوکیداری کا کام سرانجام دے گا۔
آٹھ سال مکمل ہونے کےبعد دوبارہ قرعہ اندازی ہوگی اور بقیہ خاندان یعنی جن کی باری نہیں آئی ہے،ان میں سے جس کا نام آیا ان سے چوکیدار مقرر ہوگا۔
دوسرا معاہدہ یہ ہوا کہ چوکیدار کو جو پچاس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی ہے،اس سے تین ہزار کی کٹوتی ہوگی،اور آٹھ سال کے بعد جتنی رقم جمع ہوجائے گی، اس گاؤں میں جن لوگوں کی زمینیں ہیں ،ہر ایک کو باری باری آٹھ سال بعد تین ہزار کے حساب سے جمع ہونے والی رقم ملے گی۔
1- اب پہلا سوال یہ ہے کہ چوکیدار کو قرعہ اندازی کے حساب سے مقرر کرنا جائز ہے یا نہیں؟
2- چوکیدار کی تنخواہ سے ماہانہ تین ہزار روپے کی کٹوتی کرکے جن لوگوں کی زمینیں ہیں، جمع شدہ رقم آٹھ سال بعدان کو باری باری دینا جائز ہے یا نہیں؟
3- اگر چوکیدار کی تنخواہ سے تین ہزار کی کٹوتی جائز نہیں ہے ،تو جن جن لوگوں نےاب تک وہ رقم وصول کیا ہے اس کا کیا حکم ہوگا؟
1- عام طور پر جو سرکاری ملازم ہوتا ہے اس کو حکومت کی جانب سے اپنی جگہ کسی اور کو مقرر کرنے کا اختیار نہیں ہوتا ؛اس لیے حکومت کی جانب سے اسکول کی چوکیدار ی کے لیے جو شخص مقرر ہے،وہی شخص چوکیدار ہوگا۔گاؤں والوں کا اپنی طرف سے باہمی رضامندی سے قرعہ اندازی کے ذریعے باری باری اسکول کا چوکیدار مقرر کرناجائز نہیں ہے۔البتہ اگر حکومت سے اس کی اجازت لی گئی ہو،اور حکومت نے چوکیدار کی تقرری گاؤں والوں کی مرضی پر چھوڑدیا ہو،تب جائز ہے۔
2- چوکیدار کی تنخواہ سے ماہانہ تین ہزار کے حساب سے کٹوتی کرکے آٹھ سال تک جمع شدہ رقم ان افراد کو باری باری دینا جن کی گاؤں میں زمینیں ہیں،جائز نہیں ہے؛کیونکہ یہ تین ہزار بھی چوکیدار کے عمل کا معاوضہ ہے،وہی اس کا حقدار ہے۔
3- آٹھ سال تک تین ہزار کے حساب سے چوکیداروں کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے جمع شدہ رقم جن جن افراد نے وصول کیا ہے،اگر چوکیدار کی رضامندی سے لیا ہے تو ان کا اس رقم کو استعمال کرنا درست ہوگا ورنہ ان پر وہ رقم ان چوکیداروں کو لوٹانا لازم ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وإذا شرط عمله بنفسه) بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك (لا يستعمل غيره إلا الظئر فلها استعمال غيرها) بشرط وغيره خلاصة (وإن أطلق كان له) أي للأجير أن يستأجر غيره، أفاد بالاستئجار أنه لو دفع لأجنبي ضمن الأول
(قوله: بأن يقول له اعمل بنفسك أو بيدك) هذا ظاهر إطلاق المتون وعليه الشروح، فما في البحر والمنح عن الخلاصة من زيادة قوله ولا تعمل بيد غيرك فالظاهر أنه لزيادة التأكيد لا قيد احترازي ليكون بدونه من الإطلاق تأمل.
(قوله: لايستعمل غيره) ولو غلامه أو أجيره قهستاني؛ لأن عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة، بأن استأجر رجلا شهرا للخدمة لا يقوم غيره مقامه؛ لأنه استيفاء للمنفعة بلا عقد زيلعي."
(كتاب الإجارة،شروط الإجارة،ج: 6،ص: 18،ط: سعيد)
مسند احمد میں ہے:
"حدثنا أسود بن عامر، قال: أخبرنا أبو بكر، عن عاصم، عن أبي وائل، عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من اقتطع مال امرئ مسلم بغير حق، لقي الله عز وجل وهو عليه غضبان "
ترجمہ:"جس نےنا حق کسی مسلمان کا مال روک لیا وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالی اس پر غصہ ہونگے (اور اس سے ناراض ہوں گے )۔"
(ج:7،ص:59،رقم :3946ط: مؤسسة الرسالة)
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،الماده: 97،ص:27،ط:نور محمد،آرام باغ ،كراتشي)
فتاوی شامی میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."
(كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،مطلب رد المشترى فاسدا إلى بائعه فلم يقبله،ج: 5،ص: 99،ط:سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100373
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن