بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گاؤں میں جمعہ و عیدین کی نماز کا شرعی حکم


سوال

ضلع کوہلو (بلوچستان) شہر سے 10 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک بازار، "میر بالو خان پیٹرول پمپ" کے نام سے موجود ہے۔ مذکورہ بازار میں آمنے سامنے کل 72 دکانیں تعمیر  ہیں۔ پیٹرول پمپ، خراد مشین، ہوٹل، پولیس کی چوکی، اور سرکاری سٹی بجلی کی لائن موجود ہے۔ یہ علاقہ پولیس کی حدود کے اندر واقع ہے۔

مزید یہ کہ یہاں پر دو پرائیویٹ اسکول، نو سرکاری اسکول، آٹھ سرکاری بیسک ہیلتھ یونٹس (چھوٹے ہسپتال)، اور پانچ پرائیویٹ کلینک ہیں جن میں ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں، مرکزی مسجد، جہاں گزشتہ سات مہینوں سے جمعہ اور عیدین کی نمازیں مفتیانِ کرام اور علمائے کرام کے باہمی مشورے سے جائز قرار دی گئی تھیں،   ڈیڑھ کلومیٹر کے اندر کی حدود میں کل آبادی 1541 افرادپر مشتمل ہے،مذکورہ آبادی میں مین روڈ سے چھوٹی چھوٹی پکی سڑکیں نکلتی ہیں، اور قریبی گھروں میں گلیاں بھی موجود ہیں۔

مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق، کیا یہاں جمعہ و عیدین کی نمازیں جاری رکھی جا سکتی ہیں یا نہیں؟

جواب

نمازِ جمعہ کی صحت کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ وہ شہر، مضافاتِ شہر یا ایسے بڑے گاؤں میں ادا کی جائے جسے عرفِ عام میں "بڑا گاؤں" کہا جا سکے۔ آج کل کے عرف کے مطابق بڑے گاؤں سے مراد وہ بستی ہے جہاں بنیادی ضروریاتِ زندگی جیسے علاج معالجہ، تعلیم (مدرسہ و اسکول)، ڈاک خانہ، پنچایت وغیرہ کی سہولتیں موجود ہوں؛تاکہ وہاں کے رہائشیوں کو عام طور پر کسی قریبی شہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے اور باشندوں کی تعداد کم از کم ڈھائی سے تین ہزار ہو۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ گاؤں کی آبادی صرف 1541 ہے، جو اس معیار پر پوری نہیں اترتی، اس لیے وہاں جمعہ فرض نہیں، اگرچہ بعض سہولیات موجود ہیں۔

 چونکہ وہاں گزشتہ سات ماہ سے جمعہ کی نماز جاری ہے اور اتنا طویل عرصہ نہیں گزرا کہ جمعہ بند کرنے سے کوئی فتنہ پیدا ہو، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ علاقے کے تمام افراد کو جمع کر کے نرمی اور حکمت کے ساتھ مسئلہ سمجھایا جائے، اور آئندہ سے ظہر کی نماز باجماعت شروع کی جائے۔

البتہ اگر جمعہ ختم کرنے کی صورت میں کسی بڑے فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں جمعہ کی نماز قائم رکھی جا سکتی ہے اور جمعہ کے بعد ظہر کی نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

البحرالرائق میں ہے:

"(قوله شرط أدائها المصر) أي شرط صحتها أن تؤدى في مصر حتى لا تصح في قرية، ولا مفازة لقول علي رضي الله عنه لا جمعة، ولا تشريق، ولا صلاة فطر، ولا أضحى إلا في مصر جامع أو في مدينة عظيمة رواه ابن أبي شيبة وصححه ابن حزم وكفى بقوله قدوة وإماما."

(كتاب الصلاة،باب الجمعة، ج: 2 ص: 152، ط: مكتبة رشيدية)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة ‌فيها ‌سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح."

(كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، ج: 1، ص: 260، ط: دار الكتب العلمية)

امداد الفتاویٰ میں ہے:

"خود صاحب مذہب سے مصر کی یہ تعریف منقول ہے، "أنه بلدة كبيرة ‌فيها ‌سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث"اور جس قدر تعریفیں فقہاء نے کی ہیں، سب کا مرجع و مآل یہی کہ سب عنوانات مختلفہ ہیں معنون واحد کے، اور اس سے زیادہ جامع معنی تعریف، جس سے تحدید تام ہو جائے، امور غیر مقدرہ فی النص میں خود امام صاحب کے مسلک کے خلاف ہیں،لأنه زيادة في الدين۔ باقی رہی ضرورت رفع نزاع، سو مثل دیگر غیر مقدرہ کے، اس میں بھی تردد کے وقت اغلب رائے مبتلی بہ، اور وقت تعارض آراء ہے کے عدول ثقات کا قول معتمدومعتبر  ہوگا اور جس کو نزاع ہی مقصود ہو، اس کے لیے تعریف جامع مانع بھی کافی نہیں ہے۔

تعریف بالا سے ظاہراً یہ مستفاد ہوتا ہے کہ رقبہ کی کم متصل یعنی مقدار، یا آبادی کی کم منفصل یعنی شمار پر اس کا مدار نہیں، بلکہ ہیئت آبادی اس کا معیار ہے، كما نقل في الجواب عن السوال الأول من تقييد القرى بالتي فيها سكك واسواق۔ اس بنا پر، اگر ہیئت آبادی کی مثل شہر و قصبہ کے ہے، محل جمعہ کہیں گے، ورنہ گاؤں سمجھیں گے۔"

(کتاب الصلاۃ، صلاۃ الجمعۃ والعیدین، عنوان: قصبات میں جمعہ کا جواز، ج: 1، ص: 484/485، ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)

 فتاوی محمودیہ میں ہے:

"حنفیہ کے نزدیک جمعہ کے لئے شہر یا قصبہ یا بڑا گاؤں ہونا ضروری ہے، بڑا گاؤں وہ ہے جو اپنی ضروریات روزمرہ، ڈاکخانہ، شفا خانہ، مدرسہ، بازار وغیرہ کے لحاظ سے قصبہ کے مثل ہو اور تین چار ہزار کی آبادی ہوں جو گاؤں ایسا نہیں سے وہاں جمعہ جائز نہیں، بلکہ روزانہ کی طرح جمعہ کے روز بھی ظہر کی نماز پڑھی جائے۔"

( کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعۃ ، فصل فی اشتراط المصر للجمعۃ    ،ج:8،ص:102،ط:فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں