
قرآن و حدیث، اسلامی نظریاتی کونسل کی آراء، اور پاکستان کے قانون و آئین کی رو سے یہ وضاحت مطلوب ہے کہ اگر کسی علاقے یا گاؤں کی مشترکہ زمین ایک طویل عرصے سے غیر آباد پڑی ہو اور اب اس زمین کو تقسیم کیا جا رہا ہو، تو کیا اس میں عورتوں کا بھی الگ اور مستقل حصہ بنتا ہے؟اس سلسلے میں قرآن و حدیث، اسلامی نظریاتی کونسل اور ملکی قانون کیا رہنمائی فراہم کرتے ہیں؟براہِ کرم اس بارے میں واضح اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
واضح رہے کہ ”شاملات“دراصل ان غیر آباد زمینوں کو کہا جاتا ہےجو کسی گاؤں یا بستی کے قریب واقع ہوتی ہیں،عام طور پر ہمارے بلاد میں عرف اور رواج یہ چلا آرہا ہے کہ جب کوئی خاندان کوئی گاؤں وغیرہ آباد کرتا ہے تووہ گاؤں کے قریب واقع غیر آباد زمینوں کے ایک حصے کو گاؤں کی مشترکہ ضروریات و حاجات کے پیشِ نظر گاؤں سے منسلک کردیتا ہے،اور اس تمام ملحقہ حصے کو گاؤں کی مشترک ملکیت سمجھا جاتا ہے،اسی مشترکہ ملکیت کو ”شاملات “کہا جاتا ہے،عموماً جو زمین شاملات کا حصہ قرار دی جاتی ہے وہ گاؤں کی آباد شدہ زمینوں کا دوگنایا تین گنا ہوتی ہے اور شاملات زمین کسی کی ذاتی اور انفرادی ملکیت نہیں ہوسکتی، نہ کسی کے لیے اس کا انفرادی مالک بننا یا ملکیت کا دعوی کرناجائز ہے،بلکہ وہ گاؤں کے تمام باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہوتی ہے، اور ان کے اجتماعی کاموں ،مصالح اور گاؤں والوں کی مشترک ضرورتوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے،اس زمین سے گاؤں کا ہر ہر فرد انتفاع حاصل کرسکتا ہے، جہاں تک اس زمین سے حاصل شدہ آمدن یا منافع (میوہ جات اور غلہ جات) کی تقسیم کی بات ہو تو اس سلسلے میں ہر علاقہ اور گاؤں کا اپنا اپنا رواج اور طریقۂ کار ہے، عام طور پر قبائلی علاقوں میں خاندان یا گھرانے کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہے، افراد کے مابین تقسیم نہیں کرتے، لہٰذا اگر اس طریقۂ تقسیم میں ہر خاندان یا گھرانے تک ان کا حق پہنچتا ہو تو ان لوگوں کی اپنی صوابدید پر مروّجہ طریقہ کے مطابق تقسیم کرسکتے ہیں ، افراد کے مابین تقسیم کر کے ہر ہر مرد وعورت کو جدا جدا حصہ دینا ضروری نہیں، البتہ ہر خاندان کو جو حصہ دیا جائے وہ انصاف کے مطابق دیا جائے۔
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(الأراضي القريبة من العمران تترك للأهالي على أن تتخذ مرعى أو بيدرا أو محتطبا وتدعى هذه الأراضي الأراضي المتروكة)
الأراضي القريبة من العمران أي الخارجة عن العمران أو القريبة منه تترك للأهالي على أن تتخذ مرعى أو بيدرا أو محتطبا ولا يعد انتفاع الأهالي منقطعا عن تلك الأراضي (الطوري) . والمحلات التي يصل إليها صوت جهير الصوت عند صياحه من أقصى العمران تعد قريبة من العمران وحريما للعمران فلا تعد مواتا ولو لم يكن لها صاحب، أما الأراضي الواقعة فيما وراء وصول الصوت فتعد مواتا إذا تحققت القيود المذكورة في المادة الآنفة، كما أن الأراضي الواقعة داخل العمران أي في داخل القصبة والقرية لا تعد مواتا وتدعى هذه الأراضي الأراضي المتروكة فلا يجوز إحياء هذه الأراضي ولا تمليكها لآخر لأنه إذا كان الناس يستعملونها في الحال فهم محتاجون إليها تحقيقا وإذا كانوا لا يستعملونها فهم محتاجون إليها تقديرا وهذه الأراضي هي كالطريق والنهر".
(الكتاب العاشر: الشركات، الباب الرابع في بيان شركة الإباحة،الفصل الخامس في إحياء الموات، ج:3، ص:279، ط: دار الجیل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708101423
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن