
ہمارے علاقے میں لوگ گندم اس طرح لیتے ہیں کہ دو من یا تین من وغیرہ مجھے دے دو، پھر گندم کی کٹائی کے بعد میں آپ کو دے دوں گا۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں ؟نیز جائزیا ناجائز ہونے کی صورتیں کیا ہیں؟
گندم کے بدلے گندم کی ادھار خریدار ی کا معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں،البتہ خرید وفروخت کے معاہدے کے بغیرگندم کا بطور قرض لین دین کیا جائے تو یہ شرعًا جائز ہے،بشرطیکہ ادھار لی گئی گندم کی مقدار معلوم و متعین ہو اور اتنی ہی گندم واپس کی جائے،اندازے سے گندم کی ادھار کا لین دین جائز نہیں ہے۔ مذکورہ صورت میں گندم کی مقدار دومن یا تین من متعین ہو تو یہ معاملہ جائز ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
'' فصل في القرض: (هو) لغةً: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعاً: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه، وهو أخصر من قوله: (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه، (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس، (مثلي) خرج القيمي، (لآخر ليرد مثله) خرج نحو: وديعة وهبة.(وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك ۔۔۔ (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقارباً فصح استقراض جوز وبيض) وكاغد عدداً (ولحم) وزناً وخبز وزناً وعدداً كما سيجيء ۔۔۔ (قوله: في مثلي) كالمكيل والموزون والمعدود المتقارب كالجوز والبيض''.
(کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة، فصل فی القرض، ج:161 - 167 ،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100263
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن