
ہمارے گاؤں میں لوگ چکی میں گندم مکئی وغیرہ کے دانے پیسنے لے کر آتے ہیں، چکی والا پیسنے کی اجرت پیسنے سے پہلے دانوں کی صورت میں یا پیسنے کے بعد آٹے کی صورت میں لے لیتا ہے اور وہ ایک متعین حصہ ہوتا ہے، کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو جائز ہونے کی متبادل صورت کیا ہو سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر اجرت یوں طے کی جاتی ہے کہ آپ جو آٹا/ مکئی پیسو گے اس میں سے میں آپ کو اتنا آٹا/ مکئی اجرت میں دوں گا تو اس طرح کا معاہدہ کرنے سے یہ اجارہ فاسد ہوجائے گا۔
اس معاملے کے جواز کی دو صورتیں ہیں:
1۔ معاملہ کرتے وقت مطلقاً یوں کہے: ”اجرت میں تمہیں ایک کلو آٹا / مکئی دوں گا“، یوں نہ کہے: جو آٹا/ مکئی تم پیسو گے اس آٹے / مکئی میں سے دوں گا، اجارہ کی یہ صورت درست ہے، پھر اگر وہی آٹا/ مکئی دے دے جو پسوایا ہے تو بھی درست ہے۔
2۔ آٹا/ مکئی پیسنے سے پہلے ہی کچھ مقدار گندم / مکئی کی علیحدہ کرکے دے دے کہ یہ تمہاری اجرت ہے،یہ معاملہ بھی درست ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفيزاً منه فيجوز.
(قوله: والحيلة أن يفرز الأجر أولاً) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولا يكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه كما في المنح عن جواهر الفتاوى. قال الرملي: وبه علم بالأولى جواز ما يفعل في ديارنا من أخذ الأجرة من الحنطة والدراهم معاً، ولا شك في جوازه اهـ. (قوله: بلا تعيين) أي من غير أن يشترط أنه من المحمول أو من المطحون فيجب في ذمة المستأجر، زيلعي."
(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، 6/ 56، 57، 58، ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101706
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن