بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گندم میں کیڑے پڑجانے کی صورت میں پسواکر کھانے کا حکم


سوال

 میرا سوال ہے کہ ہم گھر میں گندم خرید کر رکھتے ہیں، اس سال اس میں گھن پیدا ہوگیا ہے، ہم نے گندم کو دھو کر دھوپ میں خشک کیا، اور چھان بھی لیا لیکن پھر بھی اس میں گھن باقی ہے،  اس گندم کو پسوا کر اور چھان کر استعمال کر رہے ہیں اس کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ اناج وغیرہ میں جب گھن/ کیڑےوغیرہ  پیدا ہوجائے تو صاف کرنا ضروری ہے، کیڑے سمیت پسوانا اور کھانا درست نہیں ہے، تاہم اگر پوری کوشش کرنے بعد بھی اس میں کیڑے رہ جائیں تو بوجہ ضرورت اس قدر معاف ہے، اور  گندم کو صاف کرنے کے بعد پسواکر کھاسکتے ہیں، لیکن  اگر آٹے میں کیڑے نظر آئے تو اس کو نکالنے کے بعد استعمال جائز ہے۔

مرقات المفاتیح میں ہے:

"(وعن أنس رضي الله عنه قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بتمر عتيق) أي: قديم، (فجعل) أي: شرع (يفتشه ويخرج السوس منه): وهو دود في الطعام والصوف، وقد قيل في حكمة وجوده: لولا السوس ما خرج المدسوس ... وفيه ‌أن ‌الطعام ‌لا ‌ينجس ‌بوقوع ‌الدود ‌فيه ‌ولا ‌يحرم ‌أكله."

(كتاب الأطعمة، 7/ 2723، ط: دار الفكر)

شرح سنن ابی داؤد لابن الرسلان میں ہے:

"عن أنس بن مالك قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بتمر عتيق ‌فجعل ‌يفتشه ‌يخرج ‌السوس ‌منه.
وقد قال أصحابنا في الدود المتولد من الفواكه والجبن والخل والباقلاء والبطيخ والحبوب ونحوها أنه إذا مات فيما تولد منه ينجس بالموت على المذهب، وفي حل أكله ثلاثة أوجه، أصحها: حل أكله مع ما تولد منه لا منفردا. والثاني: يحل مطلقا، والثالث: يحرم مطلقا، فعلى الصحيح يكون نجسا لا ضرر في أكله، ويحل أكله معه، كما يحل أكل العسل نفسه وفيه فراخ؛ لأن التحرز من ذلك مشق، لكن الأحسن إخراجه منه حيا أو ميتا."

(كتاب الأطعمة، باب في تفتيش التمر المسوس عند الأكل، 15/ 485، ط: دار الفلاح)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أكل دود القز قبل أن ينفخ فيه الروح لا بأس به، كذا في الذخيرة.أكل دود الزنبور قبل أن ينفخ فيه الروح لا بأس به، كذا في السراجية."

(كتاب الكراهية، الباب الحادي عشر في الكراهة في الأكل وما يتصل به، 5/ 339، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولا بأس بدود ‌الزنبور قبل أن ينفخ فيه الروح لأن ما لا روح له لا يسمى ميتة خانية وغيرها: قال ط: ويؤخذ منه أن أكل الجبن أو الخل أو الثمار كالنبق بدوده لا يجوز إن نفخ فيه الروح اهـ."

(كتاب الضبائح، 6/ 306، ط: سعيد)

وفيه أيضا: 

"‌وفي ‌التتارخانية: ‌دود ‌لحم ‌وقع ‌في ‌مرقة ‌لا ‌ينجس ‌ولا ‌تؤكل ‌المرقة ‌إن ‌تفسخ ‌الدود ‌فيها ‌اهـ ‌أي: ‌لأنه ‌ميتة ‌وإن ‌كان ‌طاهرا. ‌قلت: ‌وبه ‌يعلم ‌حكم ‌الدود ‌في ‌الفواكه ‌والثمار."

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، 1/ 349، ط: سعيد)

امداد الفتاوی میں ہے:

(اشیائے خورد نی میں کیڑے پڑ جاویں اس کا حکم) 

سوال (۸۱) :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ جس اناج یا آٹے میں کیڑے پیدا ہو جاویں اس کا کھانا، اور جس گولر میں بُھنگے ہوں یا جس شربت اور ترچیز میں چینوٹے گر کر مر جاویں ا س کا کھانا پینا شرعاً حرام ہے یا حلال؟
الجواب:ان کو نکال کر پھر کھانا پینا حلال ہے۔ “                                                                  یکم جمادی الاولیٰ ۱۳۲۲؁ ھ (امداد، ج۲، ص۱۵۸) ۔

ایضا: سوال (۸۲): سرکہ یا پھل مثل گولر وغیرہ میں جو کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں ان کیڑوں کا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ بہتیرے سرکہ میں گل کر مختلط ہوجاتے ہیں جن سے احتراز ناممکن ہے؟
الجواب:  في الشامي عن الطحطاوي: ویؤخذ منه أن أکل الجبن أو الخل أو الثمار کالنبق بدودہ لا یجوز إن نفخ فیه الروح اھ جلد ۵، ص۲۹۹۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایسے کیڑوں کا کھاناجائز نہیں ، اور جو مخلوط ہوگئے وہ ضرورت کی وجہ سے عفو ہیں۔ کما قالوا: لا نزح بخرء حمام وعصفور مع حرمة تناولہما۔“                                       ۲۷، ذی الحجہ ۱۳۲۲؁ ھ (امداد، ج۲، ص۱۷۰) 

(کھانے پینے کی حلال وحرام مکروہ ومباح چیزوں کا بیان، 4/ 102- 103، ط: مکتبۂ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144502101358

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں