
ان دنوں جب کہ پاکستان کی مارکیٹ میں اب گندم کی فصل آئی ہے تو کیا اس کو اسٹاک کر کے تھوڑا مہنگا ہونے کا انتظار کرنا اور دسمبر جنوری میں بیچنا جب گندم مہنگی ہو جائے تو کیا اتنے عرصے کے لیے روکنا درست اور جائز ہے؟ کیا یہ بے برکتی کا ذریعہ تو نہیں ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ طریقہ سے گندم اسٹاک کرنے سے شہر والوں کو کوئی تنگی پیش نہیں آتی ہے، اور مارکیٹ میں ہمیشہ گندم دستیاب ہوتا ہے، اس لیے اس طرح گندم اسٹاک کرنا جائز ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الاحتكار مكروه وذلك أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع من بيعه وذلك يضر بالناس كذا في الحاوي، وإن اشترى في ذلك المصر وحبسه ولا يضر بأهل المصر لا بأس به كذا في التتارخانية ناقلا عن التجنيس."
(كتاب البيوع، الباب العشرون في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة، فصل فى الاحتكار، ج:3، ص:213، ط:رشيدية)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"اگر بستی میں یہ اشیاء بکثرت موجود ہیں اور اس شخص کے خریدنے سے کوئی تنگی پیش نہیں آتی اور دیر بعد جب موسم نہ رہے، ان کو گراں فروخت کرتا ہے اور گراں بھی اس قدر جو کہ قابل برداشت ہے تو اس میں گناہ نہیں، اس کی آمدنی درست ہے، اگر اس کے خریدنے سے تنگی اور پریشانی ہوتی ہے اور وہ ناقابل برداشت گراں فروخت کرتا ہے تو یہ سخت گنہگار ہے اور یہ طریقہ موجب لعنت ہے۔"
(ذخیرہ اندوزی کا بیان، ج:16، ص:234، ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101818
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن