بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1448ھ 16 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

گندم کی پیسوائی سے پہلے اپنی اجرت لینے کا حکم


سوال

ایک آدمی چکی میں گندم پسوانے لے کر جاتا ہے، اور چکی والا اس گندم کی بوری سے  گندم پسنے سے پہلےہی اپنی اجرت لے لیتا ہے، تو آیا یہ قفیز الطحان کے قبیل سے ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں گندم پیسنے سے پہلے ہی اپنی اجرت طے کر کے الگ کر لینااور اس کے بعد بقیہ گندم پیس کر مالک کے حوالے کر دینا جائز ہے، یہ قفیزالطحان کے حکم میں داخل نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولو) (دفع غزلاً لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً ليحمل طعامه ببعضه أو ثوراً ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء. والحيلة أن يفرز الأجر أولاً أو يسمي قفيزاً بلا تعيين ثم يعطيه قفيزاً منه فيجوز.

(قوله: والحيلة أن يفرز الأجر أولاً) أي ويسلمه إلى الأجير، فلو خلطه بعد وطحن الكل ثم أفرز الأجرة ورد الباقي جاز، ولا يكون في معنى قفيز الطحان إذ لم يستأجره أن يطحن بجزء منه أو بقفيز منه كما في المنح عن جواهر الفتاوى. قال الرملي: وبه علم بالأولى جواز ما يفعل في ديارنا من أخذ الأجرة من الحنطة والدراهم معاً، ولا شك في جوازه اهـ. (قوله: بلا تعيين) أي من غير أن يشترط أنه من المحمول أو من المطحون فيجب في ذمة المستأجر، زيلعي."

(کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ، 6/ 52 ، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100858

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں