بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1448ھ 28 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

گندگی پر بیٹھنے والے مچھر سے کپڑے ناپاک نہیں ہوتے


سوال

گلی میں اگر بلی یا کسی اور جانور نے بڑا پیشاب کیا ہو، اور اس بڑے پیشاب پر مچھر بیٹھا ہو، پھر کوئی شخص اس کے قریب سے گزرے اور وہ مچھر آ کر اس کے کپڑوں یا جسم پر بیٹھ جائے، تو کیا اس کے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے یا نہیں؟

اگر واش روم میں مچھر ہوں، خاص طور پر وہ کالے رنگ کے بہت ہلکے مچھر، جن کا مجھے نام معلوم نہیں، تو اگر کوئی شخص واش روم میں پیشاب کر رہا ہو اور وہ مچھر کسی طرف سے آ جائے، اور اس پر پیشاب لگ جائے، یا وہ خود وہاں بیٹھ جائے جہاں پیشاب گرا ہوا ہے اور پیشاب اس کے ساتھ لگ جائے، پھر وہ مچھر اس شخص کے جسم یا کپڑوں پر آ کر بیٹھ جائے، تو کیا اس کے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے یا نہیں؟

مرکز میں بہت زیادہ مچھر ہوتے ہیں۔ جب میں شبِ جمعہ کے لیے جاتا ہوں تو ایک واش روم میں جاتا ہوں، وہاں بھی مچھر ہوتے ہیں، پھر دوسرے میں جاتا ہوں، وہاں بھی ہوتے ہیں، پھر کسی اور میں جاتا ہوں، وہاں بھی مچھر ہوتے ہیں، آخرکار مجھے انہی میں سے کسی ایک واش روم کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔

اس صورت میں اگر میرے جسم یا کپڑوں پر مچھر آ کر بیٹھ جائے، اور فرض کریں کہ اس مچھر کے ساتھ پیشاب یا کوئی اور ناپاک چیز لگی ہوئی ہو، تو کیا میرے کپڑے پاک رہیں گے یا ناپاک ہو جائیں گے؟

مچھر کے متعلق جتنے بھی شرعی احکام ہیں، براہِ کرم وہ بھی بیان فرما دیجیے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے کپڑوں پر گندگی پربیٹھنے والے مچھر وغیرہ آکر بیٹھ جائے تو اس کی وجہ سے کپڑوں کے ان حصوں کا دھونا ضروری نہیں ہے۔ اور ان میں پڑھی گئے نمازوں کا اعادہ بھی لازم نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" (و) عفي (دم سمك ولعاب بغل وحمار) والمذهب طهارتها(وبول انتضح كرءوس إبر) وكذا جانبها الآخر وإن كثر بإصابة الماء للضرورة...بخلاف ما لا يرى كما في أثر أرجل الذباب، فإن في التحرز عنه حرجا ظاهرا...لأن العلة الضرورة قياسا على ما عمت به البلوى مما على أرجل الذباب فإنه يقع على النجاسة ثم يقع على الثياب. قال في النهاية: ولا يستطاع الاحتراز عنه، ولا يستحسن لأحد استعداد ثوب لدخول الخلاء. وروي أن محمد بن علي زين العابدين تكلف لبيت الخلاء ثوبا ثم تركه، وقال: لم يتكلف لهذا من هو خير مني يعني رسول الله صلى الله عليه وسلم والخلفاء رضي الله عنهم اه"

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج: 1، ص: 323،322، ط: ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں