
گانے کے طرز پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پڑھنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعتیں پڑھنا، اور اس کا سننا کیسا ہے؟ شرعًا جائز ہے کہ نہیں؟
براہِ کرم ذرا تفصیل سے جواب دیجیے۔
واضح رہے کہ حمد و ثنا اور نعتیہ اشعار کا پڑھنا اور سننا نہ صرف ایک جائز عمل ہے، بلکہ باعثِ ثواب اور سرمایۂ آخرت بھی ہے، بشرطیکہ ان اشعار کا مضمون خلافِ شرع نہ ہو، اور غلو اور بے ادبی کا عنصر اس میں موجود نہ ہو۔
لہٰذا حمدیہ و نعتیہ اشعار کو خوش آوازی کے ساتھ، آواز میں مناسب اتار چڑھاؤ، ترنم، آواز کو باریک کرنا اور لہرانا وغیرہ جیسے انداز میں پڑھنا شرعًا مباح ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
البتہ اگر ان اشعار کو گانوں کی طرز پر پڑھا جائے، یا اس میں ساز و موسیقی شامل کی جائے، تو یہ طرزِ عمل نہ صرف تعلیماتِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انحراف ہے، بلکہ حمد و نعت کی شان کے خلاف اور ادب کے منافی ہے۔
چنانچہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر، ارادۃً کسی معروف گانے کے وزن اور قافیے پر نعت یا حمدیہ اشعار ترتیب دے کر اسی طرز پر پڑھے، جس سے سننے والوں کے ذہن میں وہی گانا تازہ ہو جائے، یا فنِّ موسیقی کے اصولوں کے مطابق خاص انداز، لے یا ادائیگی اپنائے، تو یہ طرز حمد و نعت کی شان کے خلاف ہونے کے ساتھ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی بے ادبی کے مترادف ہے۔ چونکہ اس میں فاسق و فاجر گلوکاروں کے انداز سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے، جو اس عمل کو مزید قبیح اور مذموم بنا دیتی ہے۔ قرآن مجید کو گانے کی طرز پر پڑھنے والوں سے متعلق حدیث شریف میں ہے:
”حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کو اہلِ عرب کے انداز اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھو، اور اہلِ عشق (گانے بجانے والے) اور اہلِ کتاب کے طریقے پر پڑھنے سے بچو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد ایک قوم پیدا ہوگی، جو قرآن کو راگ اور نوحے کی طرز پر پڑھا کرے گی۔ ان کی قرأت کا حال یہ ہوگا کہ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، یعنی نہ ان کا پڑھنا قبول ہوگا اور نہ ہی انہیں اس پر کوئی ثواب ملے گا۔ ان کے دلوں میں فتنہ ہوگا، اور ان لوگوں کے دل بھی فتنہ میں مبتلا ہوں گے جو ان کی قراءت سے متاثر ہو کر خوش ہوں گے۔“ (مشکاۃ المصابیح)
البتہ اگر غیر اختیاری طور پر، صرف آواز کو خوبصورت بنانے کی نیت سے پڑھنے پر حمد یا نعت کسی گانے کی طرز سے مشابہ ہو جائے، تو یہ فی نفسہ جائز ہے؛ لیکن ایسی مشابہت سے بھی بچنا چاہیے۔
لہٰذا حمد یا نعت کو گانے کی طرز پر پڑھنا، جس سے گانے کی طرف دھیان جائے یا گانے کی لذت محسوس ہو، شرعًا جائز نہیں۔ ایسی حمد و نعت یا نظم پڑھنے اور سننے سے اجتناب کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ تاہم اگر کسی گانے کی دھن کو نقل کیے بغیر، صرف آواز اچھی کر کے، اتار چڑھاؤ کے ساتھ حمد یا نعت پڑھی جائے، اور اس میں موسیقی کے قواعد کا لحاظ نہ ہو، اور موسیقی کے کسی قسم کے آلے کا استعمال بھی نہ ہو (جیسا کہ عام طور پر اشعار خوش الحانی سے پڑھے جاتے ہیں)، تو ایسا انداز اختیار کرنا شرعًا جائز ہوگا۔
تفسیرِ قرطبی میں ہے:
"فأما ما ابتدعه الصوفية اليوم في الإدمان على سماع الأغاني بالآلات المطربة من الشبابات و الطار و المعازف و الأوتار فحرام."
(سورة لقمان، ج:14، ص:40، ط:دار احیاء التراث العربی بیروت)
البحرالرائق میں ہے:
"وفي المعراج الملاهي نوعان محرم وهو الآلات المطربة من غير الغناء كالمزمار سواء كان من عود أو قصب كالشبابة أو غيره كالعود والطنبور لما روى أبو أمامة أنه عليه الصلاة والسلام قال «إن الله بعثني رحمة للعالمين وأمرني بمحق المعازف والمزامير» ولأنه مطرب مصد عن ذكر الله تعالى والنوع الثاني مباح وهو الدف في النكاح وفي معناه ما كان من حادث سرور ويكره في غيره لما روي عن عمر رضي الله عنه أنه لما سمع صوت الدف بعث فنظر فإن كان في وليمة سكت وإن كان في غيره عمده بالدرة وهو مكروه للرجال على كل حال للتشبه بالنساء اهـ."
(كتاب الشهادات، باب من تقبل شهادته ومن لا تقبل، ج:7، ص:88، ط:دار الكتاب الإسلامي القاهرة)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (اقرءوا القرآن بلحون العرب وأصواتها) عطف تفسيري، أي: بلا تكلف النغمات من المدات والسكنات في الحركات والسكنات بحكم الطبيعة الساذجة عن التكلفات (وإياكم ولحون أهل العشق) : أي: أصحاب الفسق (ولحون أهل الكتابين) ، أي: أرباب الكفر من اليهود والنصارى فإن من تشبه بقوم فهو منهم، قال الطيبي: اللحون جمع لحن وهو التطريب وترجيع الصوت، قال صاحب جامع الأصول: ويشبه أن يكون ما يفعله القراء في زماننا بين يدي الوعاظ من اللحون العجمية في القرآن ما نهى عنه رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (وسيجيء) : أي سيأتي كما في نسخة (بعدي قوم يرجعون) بالتشديد، أي يرددون (بالقرآن) : أي يحرفونه (ترجيع الغناء) بالكسر والمد بمعنى النغمة (والنوح) بفتح النون من النياحة، والمراد ترديدا مخرجا لها عن موضعها إذا لم يأت تلحينهم على أصول النغمات إلا بذلك، قال الطيبي: الترجيع في القرآن ترديد الحروف كقراءة النصارى (لا يجاوز) : أي قراءتهم (حناجرهم) : أي طوقهم، وهو كناية عن عدم القبول والرد عن مقام الوصول، والتجاوز يحتمل الصعود والحدور، قال الطيبي: أي لا يصعد عنها إلى السماء، ولا يقبله الله منهم، ولا يتحدر عنها إلى قلوبهم ليدبروا آياته ويعملوا بمقتضاه (مفتونة) بالنصب على الحالية، ويرفع على أنه صفة أخرى لقوم، واقتصر عليه الطيبي: أي مبتلى بحب الدنيا وتحسين الناس لهم (قلوبهم وقلوب الذين يعجبهم شأنهم) بالهمز ويعدل: أي يستحسنون قراءتهم، ويستمعون تلاوتهم ."
(کتاب فضائل القرآن، باب آداب التلاوة و دروس القرآن، رقم الحديث:2207، ج:4، ص:1505، ط:دار الفكر بيروت)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101355
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن