بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گانے کے اسٹوڈیو کے لیے دکان کرایہ پر دینے اور اس کا کرایہ وصول کرنے کا شرعی حکم


سوال

میرے والدصاحب کی چنددکانیں ہیں ،ان میں سے دو دکانیں  گانے کے اسٹوڈیو کےلیے انہوں نے کرایہ پر دی ہوئی  ہیں ،اور ان سے معاہدہ ایک سال تک طے ہوچکاہے، وہ کرایہ دار دکانوں میں اپنا کام شروع کرچکے ہیں۔ اب ان سے معذرت کرنے کے باوجود وہ دکان خالی کرنے سے انکار کر رہے ہیں، اور زبردستی نکالنے کی صورت میں جرگہ کے ذریعے ہمارے خلاف وہ ظالمانہ کاروائی کریں گے ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا  گانے کے اسٹوڈیوکےلیے دکانوں کو کرایہ پردیناجائز ہے ؟

نیز کرایہ داروں سے کرایہ وصول کرنے کاکیاحکم ہے ؟

نوٹ:والدصاحب کو پتہ تھا کہ یہ کرایہ دار ان دکانوں میں  گانے کےاسٹوڈیو کاکام کریں گے ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں   والدصاحب کےلیے جانتے بوجھتے  اپنی دکانیں ایسے افراد کوکرایہ پردیناجائز نہیں تھا، جو دوکانوں میں گانے کااسٹوڈیو بنانے کےخواہش مندتھے ؛کیونکہ اس میں کہیں نہ کہیں اعانت علی المعصیت (گناہ کے کام میں معاونت) کا پہلو موجود ہے ،لہذا والد صاحب پر  صدق دل سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے ،اور جلدازجلد مذکورہ افراد سے کرایہ داری کامعاہدہ ختم کرکے دکان واپس لے لیناچاہیے، البتہ اگرفوری دکان خالی کرانے کی صورت میں جرگہ کے ذریعہ نقصان پہنچنے کاخطرہ ہو، تو پھر حسب معاہدہ سال بھر کرایہ داری کامعاملہ جاری رکھنے کی گنجائش ہوگی ،اور کرایہ لینابھی درست ہوگا،تاہم کرایہ کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی حلال طیب وکراہیت سے خالی نہیں ہوگی ۔

نیز کرایہ داروں کوحسب معاہدہ دکان خالی کرنے اور تجدید معاہدہ نہ کرنے کے بارے میں ابھی سے آگاہ کردیاجائے ،تاکہ بعدمیں کسی کی قسم کی پریشانی کاسامنانہ ہو۔

البحر الرائق  میں ہے:

"قال: رحمه الله (وإجارة بيت ليتخذ بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد) يعني جاز إجارة البيت لكافر ليتخذ معبدا أو بيت نار للمجوس أو يباع فيه خمر في السواد وهذا قول الإمام وقالا: يكره كل ذلك لقوله تعالى {وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2] وله أن الإجارة على منفعة البيت...الخ."

 (كتاب الكراهية،،فصل في البيع ،ج:8،ص:230،ط:دار الكتاب الإسلامي)

المبسوط للسرخسي میں ہے: 

"وإذا استأجر الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر لم يجز؛ لأنه معصية فلا ينعقد العقد عليه ولا أجر له عندهما، وعند أبي حنيفة رحمه الله يجوز."

(کتاب الاجارات،باب الاجارة الفاسدة،ج:16،ص: 38،ط: دار المعرفة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره."

(کتاب الحظر والاباحة ،فصل فی البیع،ج:6،ص: 392،ط:سعید)

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

"مکان کو نا جائز کاموں کے لئے کرایہ پر دینا:

"سوال: مکان وغیرہ ایسے لوگوں کو کرایہ پر دینا کہ جو شراب و دیگر محرمات اس میں فروخت کرتے ہوں یا خود افعال خلاف شرع ممنوعات اس میں کریں یا کفار کہ وہ اس میں بت پرستی کریں منع اور داخل اعانت علی المعصیت ہوگا یا نہیں؟

جواب: ایسی کو کرایہ پر دینا مکان کا درست نہیں حسب قول صاحبین کے اور امام صاحب کےقول  سے جواز معلوم ہوتا ہے کہ مکان کرایہ پر دینا گناہ نہیں گناہ بفعل اختیاری مستاجر کے ہے۔ مگر فتویٰ اس پر ہے کہ نہ دیوے کہ اعانت گناہ کی ہے۔ لا تعاونوا على الاثم والعدوان۔

نا جائز اشیاء بیچنے والوں کو مکان دکان کرایہ پر دینا:

سوال:نشه فروش کو واسطے فروخت مسکرات کے مکان یا دوکان کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں اور اس میں حنفیہ کا مذہب اصح کیا ہے؟

جواب:اصح اور فتویٰ اس پر ہے کہ نہ دیوے۔"

(کتاب الاجرۃ،اجرت کے مسائل، ص:513، ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی )

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704101444

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں