
میں اور میرا کزن ایک کاروبار کرنا شروع کرنا چاہتے ہیں، کاروبار یہ ہو گا کہ گیم زون ہوں گے، اور ہمارے گیم زون میں صرف سکرینوں پرگیم چلے گی، سکرینوں پر گیم چلانے کے ساتھ میوزک چلتی ہے، وہ بھی ہم بند کریں گے ،اور ہم نے یہ بھی سوچا ہے کہ جن کمروں میں سکرینیں رکھیں گے، ایک تو ان سکرینوں پر گیم کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں چل سکے گی، اور نمبر کا انتظار کرنے والوں کے لیے ایک اور جائز گیم رکھیں گے جس پر وہ مصروف رہیں گے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں گیم زون کا کاروبارکرنا جائز ہو گا یا نہیں ؟
کسی بھی کسی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، ورنہ وہ کھیل لہو ولعب میں داخل ہو نے کہ وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہوگا:
1۔ وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائز بات نہ ہو۔
2۔اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہومثلاً جسمانی ورزش وغیرہ ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔
3۔کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو۔
4۔کھیل میں اتنا غلو نہ کیا جائے کہ جس سے شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔
گیم زون میں عموماً ویڈیو گیمز جاندار کی تصاویر اور میوزک وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کا کھیلنا ناجائز ہے، نیز اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت بھی نہیں ہے، بلکہ محض وقت گزاری کے لیے کھیلا جاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ایسے مقامات کئی قسم کی اخلاقی خرابیوں مثلاً گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑا وغیرہ کا مرکز بن جاتے ہیں، اور گیمز کھیلنے والے اورگیمنگ زون چلانے والے اکثر ان چیزوں میں انہماک کی وجہ سے شرعی فرائض میں کوتاہی اور غفلت برتتے ہیں۔اگر مذکورہ قباحتیں نہ بھی ہوں اور فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے بھی گیم زون چلایا جائے تو بھی جہاں یہ ایک لہو و عبث کام ہے،اور گناہ کے کام میں تعاون کا سبب بھی ہے اور گناہ میں تعاون شرعا منع ہے؛اس لیے اس کام سے اجتناب ضروری ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ المائدۃ:2"
"ترجمہ:اورگناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور الله تعالیٰ سے ڈرا کرو بلاشبہ الله تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔"
فتاوی شامی میں ہے:
"قال ابن مسعود صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر"
(كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:348، ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100596
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن