
1975 میں میرے والد اور والدہ کے جھگڑے میں میرے خالو صلح کرنے کے لیے گھر آئے، تو میرے والد نے ان کو ”گیٹ آوٹ“ کہہ دیا تھا، جس کی وجہ سے دونوں میں ناراضی ہوگئی تھی، کئی سال بعدتبلیغ کی برکت سے والد کو احساس ہوا تو والد صاحب پہل کر کےخالو کے گھر ملنےچلےگئے، پھر خالو کے انتقال تک والد صاحب اور ہم ان کے گھر آتے جاتے رہے، لیکن خالو ہمارے گھر نہیں آتے تھے، تاہم ان کے گھر والے ہمارے پاس آتے البتہ بہت کم آتے تھے،اب خالو کے انتقال کے بعد معلوم ہوا کہ خالو کے گھر والے ابھی بھی ہم سے ناراض ہیں،اور اس لفظ ”گیٹ آؤٹ“ کی وجہ سے ہمارے گھر آنے سے اجتناب کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اب والد صاحب کو کیا کرنا چاہیے، یعنی شرعاً ان پر کیا لازم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد کو اس طرح صلح کروانے والے کے ساتھ بد اخلاقی نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن اس کےبعد چوں کہ والد صاحب کو غلطی کا احساس ہو گیاتھا اور وہ خود سے صلح کے لیے ان کے گھر چلے گئے، تو ان کو اور ان کو گھر والوں کو بھی معاف کردینا چاہیے تھا، کیوں کہ حدیث میں ہے:
"وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من اعتذر إلى أخيه فلم يعذره، أو لم يقبل عذره ; كان عليه مثل خطيئة صاحب مكس."
ترجمہ:”جس شخص نے اپنے بھائی سے معافی مانگی اور وہ اسے معاف نہ کرے یا اس کا عذر قبول نہ کرے، تو اس پر ایسا گناہ ہوتا ہے جیسے کسی ناجائز ٹیکس (یا محصول) لینے والے کا گناہ ہوتا ہے۔“
نیز خالو کے گھر والوں کا اب تک اس بات کو دل میں رکھنا بھی مناسب نہیں، لہٰذا انہیں چاہئے کہ اس بات کو دل سے نکال دیں، اور سائل کے والد صاحب کو چاہیے کہ کسی طرح ان کو راضی کرنے کی کوشش کریں، تاہم پھر بھی اگر معاف نہ کریں، اور ناراض رہیں تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ والد صاحب کی اللہ پکڑ نہیں فرمائیں گے۔
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اعتذر إلى أخيه فلم يعذره، أو لم يقبل عذره ; كان عليه مثل خطيئة صاحب مكس. رواه البيهقي في " شعب الإيمان " وقال: المكاس: العشار.
5051 - (وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اعتذر إلى أخيه) أي: المسلم (فلم يعذره) بفتح الياء ويضم وكسر الذال (أو لم يقبل عذره) شك من الراوي وهو تفسير ما قبله (كان عليه مثل خطيئة صاحب مكس). بفتح الميم أي صاحب عشر، ولما كان الغالب عليه الظلم وعدم العمل بالعلم أطلق ذمه، أو المراد بالمكس أخذ مال الناس بالظلم، ثم رأيت القاموس فقال: المكس النقص والظلم. (رواه البيهقي في شعب الإيمان) . وفي الجامع: رواه ابن ماجه والضياء عن جودان ولفظه: «من اعتذر إليه أخوه بمعذرة فلم يقبلها كان عليه من الخطيئة مثل صاحب مكس» . (قال) أي: البيهقي في تفسير حديثه (المكاس: العشار) . وفي بعض الأصول الماكس: العشار، ولعل المناسبة التشبيهية أن صاحب المكس أيضا لم يقبل اعتذار التاجر في قوله: إن ماله مال أمانة، أو أخذ منه في بندر آخر، أو أنه مديون ونحو ذلك، وكون المشبه به أقوى هو أنه مع هذا يظلم عليه بأخذ ماله مع التعدي إلى الزائد، ونقل ميرك عن المنذري أن حديث جابر رواه الطبراني أيضا في الأوسط، وروي عن عائشة مرفوعا: «من اعتذر إلى أخيه المسلم فلم يقبل عذره لم يرد على الحوض». رواه الطبراني في الأوسط.
وروي عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا أنبئكم بشراركم؟ قالوا: بلى إن شئت يا رسول الله! قال: إن شراركم الذي ينزل وحده ويجلد عبده ويمنع رفده، ألا أنبئكم بشر من ذلك؟ قالوا: بلى إن شئت يا رسول الله! قال: من يبغض الناس وهم يبغضونه قال: أفلا أنبئكم بشر من ذلك؟ قالوا: بلى إن شئت يا رسول الله! قال: الذين لا يقيلون عثرة ولا يقبلون معذرة ولا يغفرون ذنبا قال: أفلا أنبئكم بشر من ذلك؟ قالوا: بلى يا رسول الله! قال: من لا يرجى خيره ولا يؤمن شره». رواه الطبراني وغيره، وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «عفوا عن نساء الناس تعف نساؤكم، وبروا آباءكم يبركم أبناؤكم، ومن أتاه أخوه متنصلا فليقبل ذلك محقا كان أو مبطلا، فإن لم يفعل لم يرد على الحوض». رواه الحاكم وقال: صحيح الإسناد والتنصل: الاعتذار."
(كتاب الآداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات، ج: 8، ص: 3161، ط: دار الفكر)
شرح مسند ابي حنيفہ میں ہے:
"من لم يقبل عذر مسلم يعتذر إليه فوزره كوزر صاحب مكسٍ:
وبه (عن علقمة، عن ابن بريدة، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من لم يقبل عذر مسلم يعتذر إليه) بناء على أنه واجب عليه أن يحسن الظن به في تحقيق عذره، وتصديق أمره (فَوْزرُهُ كَوِزْرِ صَاحِبَ مكسٍ) بفتح فسكون، أي ظلم ونقص، وهو بهذا المعنى، يشتمل كل معتد وجائر في حق الخلق، لكن الصحابة رضي الله عنهم فهموا أنه عليه الصلاة والسلام أراد فرداً خاصاً في هذا المقام.
(فقيل: يا رسول الله، وَمَا صَاحِبُ مَكْس، قال: عشار) أي الظالم في أخذ عشره، والمعتدي في حق غيره، وإنما سمي عشاراً لأنه يأخذ من الحربي الذي مر عليه في طريق التجارة عشر ماله بشروط، ومن الذمي نصف عشره، ومن المسلم ربع عشره، وأما اليوم فترقى في ظلمه حتى يأخذ ربع المال، بل ثلثه، بل نصفه، بل كله. والحديث رواه ابن ماجه، والضيا عن جودان بلفظ: من اعتذر إليه أخوه بمعذرة فلم يقبلها، كان عليه من الخطيئة مثل صاحب مكس."
(كتاب الأدب، ج: 1، ص: 370، ط: الآداب - مصر)
فتاوی رشیدیہ میں ہے :
"اگر معافی چاہنے والے کو معاف نہ کرے تو یہ معاف نہ کرنے والا خاطی ہے۔"
(کتاب الآداب، ص : 466، ط: دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101536
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن