بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر شادی شدہ بھائی کا اپنی تمام جائیداد زندگی میں ایک بھائی کے سپرد کرنا


سوال

 میں غیر شادی شدہ ہوں ، والدین  حیات نہیں ، صرف بہن بھائی ہیں جو کہ سب شادی شدہ ہیں۔

 میرے پاس ایک پراپرٹی ہے جو اپنے ایک بھائی کو  میں ہبہ کرنا چاہتا ہوں ، جو  مالی اور تھوڑا ذہنی اعتبار سے بھی ٹھیک نہیں ہے اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

لہذا میں چاہتا ہوں اپنی زندگی میں یہ انہیں ہبہ کر دوں۔کیا اس میں کوئی شرعی ضرر ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل اگر دیگرورثاء کو محروم کرنے کی نیت سے  مکمل  جائیداد کا مالک اپنے ایک بھائی کوبنانا چاہتا ہے تو اس طرح کرنے کی بناء پر شرعا وہ   گناہ گار ہوگا، حدیث شریف میں اس پر وعید وارد ہوئی ہے۔ 

البتہ اگر سائل کے پاس مذکورہ جائیداد کے علاوہ بھی جائیداد یا دیگر اموال موجود ہے اور مذکورہ جائیداد اپنے ایک  بھائی کو حوالے کرنے سے دیگر ورثاء کو بالکلیہ محروم رکھنا مقصد نہیں ہے تو پھر شرعا کوئی حرج نہیں ہے۔

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

  " عن أنس - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «من قطع ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه

قال الطيبي - رحمه الله -: تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران، ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها."

(باب الوصایا،ج:5،ص:2040، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101846

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں