بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

غیر صاحب نصاب شخص کا قربانی کرنا


سوال

ایک آدمی کے پاس پیسہ ہے، لیکن وہ صاحب نصاب نہیں، اسی پیسہ سے قربانی کرے تو سنت ہوگی یا مستحب؟

جواب

قربانی صاحبِ  نصاب شخص پرواجب ہوتی ہے، جو شخص صاحبِ نصاب نہ ہو اگر وہ قربانی کرتا ہے تو یہ قربانی نفلی قربانی کہلائے گی۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من كان له سعة، ولم يضحّ، فلايقربنّ مصلانا."

(سنن ابن ماجه ، كتاب الاضاحي ، باب الأضاحي، واجبة هي أم لا ، جلد : 2 ، صفحه : 1044 ، طبع : دار احياء الكتب العربية)

ترجمہ:جس شخص کے پاس مال کی وسعت ہو اور پھر قربانی نہ کرے  تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب مت آئے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم  أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط عليه الصلاة والسلام السعة، وهي الغنى، ولأنا أوجبناها بمطلق المال، ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج، فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر."

(کتاب الاضحیة،جلد : 5،صفحه :64 ،طبع : دار الکتب العلمیة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144512100053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں