
ہمارے خاندان میں ایک بچی کی منگنی ایسے لڑکے کے ساتھ ہو گئی ہے جو کہ غیر مقلد ہے، بچی کی عمر 17 سال ہے، حنفی ہے اور حافظہ بھی ہے، میں نے خاندان کے بڑے ہونے کی حیثیت سے بچی کے والدین کو سمجھایا ہے کہ غیر مقلدین میں رشتہ نہ کریں، کیا یہ رشتہ کرنا درست ہے؟
واضح رہے کہ غیر مقلد سے نکاح کرنا جائز ہے، تاہم نکاح کے مفید اور پائیدار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زوجین کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور موافقت کا لحاظ رکھا جائے۔ اور جہاں فکری یا نظریاتی اختلاف ہو وہاں باہمی موافقت کا امکان کم رہتا ہے، اس لیے رشتہ کرنے سے پہلے اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ مذکورہ لڑکی کی غیر مقلد لڑکے کے ساتھ منگنی ہوچکی ہے، جو کہ نکاح کا وعدہ ہے، اور بغیر کسی شرعی عذر کے وعدہ خلافی کرکے منگنی توڑنا درست نہیں ہے؛ لہٰذا اگر نکاح کے بعد زوجین میں عدمِ موافقت کاقوی اندیشہ نہ ہو تو نکاح کرسکتے ہیں۔
کفایت المفتی میں ہے:
"ہاں اہلِ حدیث مسلمان ہیں اور اہلِ سنت والجماعت میں داخل ہیں ۔ ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا درست ہے محض ترکِ تقلید سے اسلام میں فرق نہیں پڑتا اور نہ اہلِ سنت والجماعت سے تارکِ تقلید باہر ہوتا ہے۔"
(کتاب العقائد، جلد: 1 ، صفحہ : 333 ، طبع: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101842
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن