
میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اگر کسی غیر محرم رشتہ دار کے گھر ملاقات کی غرض سے جانا ہو تو پردے کے دائرے میں رہتے ہوئے غیر محرموں سے حال احوال پوچھنے کا حکم کیا ہے؟ خاص طور پر جب ملاقات یا گفتگو کی کوئی ضروری وجہ نہ ہو۔ کیا ایسی گفتگو میں کوئی حدود یا آداب ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ اور اگر بات چیت ناگزیر ہو تو اسے کس طرح شرعی تقاضوں کے مطابق انجام دیا جائے؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں کہ غیر محرم رشتہ داروں سے تعلقات اور بات چیت کے حوالے سے اسلام میں کیا راہنمائی موجود ہے تاکہ ہم شرعی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اخلاقی اور دینی طور پر صحیح عمل کرسکیں۔
غیر محرم رشتہ داروں سے بھی بات چیت کا وہی حکم ہوتا ہے، جو دیگر اجنبی نا محرموں سے گفتگو کا ہے،غیر محرم رشتہ داروں سےبلاضرورت گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہے،باقی حال احوال معلوم کرنے کے لیے گھر کے رشتہ دار مردوں سے بات ہوسکتی ہے،خواتین سے براہ راست گفتگو کی ضرورت نہیں ہے،البتہ ضرورت کے وقت پردہ میں رہ کر بقدر ضرورت گفتگو کرنے کی اجازت ہے، ہنسی مذاق کرنے اور بے تکلف ہونے کی پھر بھی شرعا اجازت نہیں ہے۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:
"وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولايكلم الأجنبية إلا عجوزاً عطست أو سلّمت فيشمتها و يرد السلام عليها، وإلا لا. انتهى.
(قوله: وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزاً بل شابةً لايشمّتها، ولايرد السلام بلسانه. قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلّم الرجل أولاً، وإذا سلّمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزاً ردّ الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابةً ردّ عليها في نفسه، وكذا الرجل إذا سلّم على امرأة أجنبية، فالجواب فيه على العكس. اهـ
وفي الذخيرة: وإذا عطس فشمتته المرأة فإن عجوزا رد عليها وإلا رد في نفسه اهـ وكذا لو عطست هي كما في الخلاصة."
( كتاب الحظر والإباحة، فصل النظر و المس،ج6،ص369، ط: سعید)
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن، وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة."
( كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة،مطلب في ستر العورة،ج1،ص406، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100323
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن