
ایک شخص ہے اس کے چار دوست ہیں اور چاروں ٹریول ایجنسی (لوگوں کو عمرہ وغیرہ پر بھیجنا) کا کام کرتے ہیں ان میں سے پہلا دوست اس کو یہ آفر دیتا ہے کہ لوگوں کو آپ میرے پاس لے کر آؤ میں آپ کو ہر بندہ پر ۵۰۰۰ روپے کمیشن دوں گا اور دوسرا دوست یہ آفر دیتا ہے کہ میں آپ کو ہر کسٹمر پر ۲ فیصد منافع دوں گا جبکہ تیسرا دوست اس کو یہ آفر دیتا ہے آپ میرے پاس بیس کسٹمر لاؤ تو میں آپ کو عمرہ کا ٹکٹ فری میں دوں گا جبکہ آخری دوست اس کو یہ آفر دیتا ہے مجھے جو نفع ملے گا ہم دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔
سوال یہ ہے ان چاروں صورتوں میں جو بھی درست ہیں وہ بتائیں اور جو غلط ہیں اس کی بھی نشان دہی فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں پہلی تین صورتیں جائز ہیں( یعنی ہر کسٹمر ۵۰۰۰ روپے اور ہر کسٹمر نے جتنے کا پیکج لیا اس کا دو فیصد اور بیس کسٹمر پر عمرہ کا ٹکٹ) کیونکہ یہ ۵۰۰۰ روپے،پیکج کا ۲ فیصد اور عمرہ کا ٹکٹ سائل کی محنت کی اجرت (کمیشن) ہے اور ان تینوں صورتوں میں اجرت کا تعین بھی ہے۔
چوتھی صورت کہ نفع کے آدھے میں شریک ہوگا یہ طریقہ درست نہیں ہےکیونکہ اس صورت میں اجرت مجہول ہے، ہوسکتا ہے بہت کم نفع ہو، ہوسکتا ہے بہت زیادہ نفع اور ہوسکتا ہے نفع ہی نہ ہو۔ نیز سائل کی بیان کردہ معاملہ کو مضاربت بھی نہیں بنایا جاسکتا کہ سائل کو محنت کے عوض نفع میں حصہ مل جائے کیونکہ یہاں سائل صرف محنت کرے گا جبکہ مضاربت میں مضارب جو عامل ہوتا ہے سرمایہ اس کے حوالہ کیا جاتا ہے اور مال تجارت کی خریداری وہ خود کرکے نفع کماتا ہے جبکہ بیان کردہ صورت میں ایسا نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" ومنها أن تكون الأجرة معلومة. "
(کتاب الاجارۃ،باب اول ، ج نمبر ۴، ص نمبر ۴۱۱، دا رالفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."
(کتاب الاجارہ ،باب الاجارۃ الفاسدۃج نمبر۶ ص نمبر ۶۳،ایچ ایم سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها) أن يكون المال مسلما إلى المضارب لا يد لرب المال فيه فإن شرطا أن يعمل رب المال مع المضارب تفسد المضاربة سواء كان المالك عاقدا أو غير عاقد."
(کتاب المضاربۃ، ج:۴،ص:۲۸۶، دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100166
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن