بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گُدّی اور گردن میں فرق نیز ان دونوں میں سے کس کے بال شرعاً کاٹنا جائزاور کس کے ناجائز ہیں؟


سوال

آج کل نائی سر کے بالوں کو جو کترتاہے،تو سر کے پچھلے حصہ گردن پر،اسی طرح دونوں  کانوں کے پچھلے حصہ پر استرا چلاتاہے،بعض حضرات کا کہناہے کہ حدیث میں جو سر کے بعض حصہ کو کتروانے اور بعض کو منڈوانے کے بارے میں ممانعت آتی ہے،اس میں موجودہ شکل بھی داخل ہے،کیا یہ کہنا صحیح ہے،جبکہ دین دار حضرات اور علماء کرام بھی اس طرح کترواتے ہیں۔

حضرت تھانوی نے امدادالفتاوی میں  لکھاہےکہ’’اور ممنوع گردن کے بال مونڈنا،فقھاء نے مکروہ سمجھاہے‘‘(ج:4،ص:224) اور تالیفات رشیدیہ میں گرد ن کے بال منڈوانے کو درست لکھاہے(ص:483)،احسن الفتاوی میں تطبیق ذکر کی ہے کہ جو مکروہ ہے،اس سے مراد گدی ہے،یہ قزع میں داخل ہے اور گردن کا حلق مکروہ نہیں(ج:8،ص:77)۔

اب سوال یہ ہے کہ1:گدی اور گردن کا فرق اور حدود بتادیں۔

2:ہر ایک کا حکم بتادیں کہ ہر دو میں سے کس کے بال کاٹنا جائز اور کس کےناجائز ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سر کے بالوں کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ یا تو  سر کے پورے بال رکھے جائیں یا پورے کاٹے جائیں، سر کے کچھ بال کاٹنا اور کچھ چھوڑدینا منع ہے، اسے حدیث میں "قزع" سے تعبیر کرکے اس کی ممانعت کی گئی ہے، اور "قزع"  کی مختلف صورتیں ہیں، حاصل ان کا یہی ہے کہ سر کے بال کہیں سے کاٹے جائیں اور کہیں سے چھوڑدیے جائیں۔

البتہ  سر کے بالوں کی تحدید کے لیے اور سر کے بالوں کو گردن کے بالوں  سے جدا کرنے کے لیے سر کے بالوں کے آخر سے معمولی بالوں کا حلق کیا جائے تو اس کی گنجائش ہوگی، اسی طرح کان کے اطراف کے بال جو کان پر لگ رہے ہوں انہیں برابر کرنے کے لیے اطراف سے معمولی بال کاٹ لینا جیسا کہ عام طور پر اس کا معمول ہے کہ سر  کے بالوں کو متعین کرنے اور اس کو دوسرے سے جدا کرنے کے لیے  کان کے اوپر بلیڈ لگاتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے، تاہم یہ خیال رہے کہ زیادہ اوپر سے بلیڈ نہ لگایا جائے ورنہ ”قزع“ میں داخل ہوگا، حاصل یہ ہے کہ سر کے اطراف کے بال اگر اس طرح کاٹے جائیں کہ ان کی وجہ سے  سر کے  اس حصہ کے  بال کم اور باقی سر کے بال بڑے ہوں تو یہ درست نہیں ہے، اور اگر سر کے تمام بالوں برابر ہوں اور اطراف سے تحدید کے لیے انہیں برابر کیا جائے تو یہ جائز ہے۔

1:    عربی میں سر کی پچھلے جانب کو’’  قفا‘‘کہاجاتاہے،جس میں دونوں چیزیں  یعنی گدّی اور گردن  شامل ہے،چناں چہ لسان العرب میں ہے:"قفا: الأزهري: القفا، مقصور، مؤخر العنق."(و،فصل فی القاف،ج:15،ص: 192،ط:دارصادر بیروت)،البتہ گردن کو عربی میں رقبہ  اور گلےکوعنق کہاجاتاہے۔

لغت اردو میں گدّی اور گردن میں فرق پایاجاتاہے،چناں چہ سر کی پچھلے جانب کو گدّی کہاجاتاہے اور بقول امام ربانی مولانا رشیداحمدگنگوہی رحمہ اللہ کے کانوں کے لوکےپیچھے کی جانب یہ سر کا حصہ ہے اور اسی کو گدّی کہاجاۓ گا اور اس کے نچلے حصےیعنی گلے کی پچھلے جانب کو گردن کہاجاۓ گا۔لہذا گدّی سر کا حصہ ہے،جبکہ گردن ایک مستقل عضو ہے جوکہ جسد اور سر کو آپس میں جوڑنے والا ہے،چناں چہ لسان العرب میں ہے:"العنق: وصلة ما بين الرأس والجسد."(ق،فصل العین المھملہ،ج:10،ص:271،ط:دارصادر بیروت)۔

فیروزاللغات میں ہے:

’’ گّدی:(گُد۔دی)(ہ۔ا۔مث)سرکاپچھلا حصہ‘‘

(مادہ:گ۔د،ص:614،ط:فیروز سنز)

2:جیسا کہ ماقبل میں یہ بات ذکر کردی گئی کہ پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام نے ’ ’قزع‘‘ سے منع فرمایا ہے،نیز یہ بھی واضح ہواکہ ا گدّی بھی سر ہی کا حصہ ہے،لہذا صورت مسئولہ میں گدّی کے بالوں کو کاٹنا شرعاً’’قزع‘‘کے حکم میں داخل ہوکر مکروہ ہوگا،جبکہ گردن چوں کہ ایک مستقل عضو ہے،اس لیے اس کے بال کاٹنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

’’( جواب ) گردن جدا عضو ہے اور سر جد ا،لہذا اگر دن کے بال منڈانا درست ہے سر کا جوڑ علیحدہ کان کی لو کے پیچھے معلوم ہوتا ہے اس سے نیچے گردن ہے، ریش کا خط درست کرنا درست ہے اگر کسی کے بال رخسار پر بے موقع ہوں اور نہ منڈانا اولی ہے اور پنڈلی اور ان کے بال کا دور کرنادرست ہے کہ آپ علیہ السلام تمام بدن پر سوائے چہرہ کے نورہ کرتے تھے واللہ تعالی اعلم‘‘ایک اور سوال کے جواب میں فرمایا’’ گردن دوسرا عضو ہے سر کی حد سے نیچے کے بال گردن کے منڈوانے درست ہیں یعنی سر کے بال لینے اور بعض چھوڑ نے مکروہ ہیں تحریماً بقولہ علیہ السلام نھی عن القزعۃ الحدیث ۔واللہ تعالی اعلم۔‘‘

(حرمت اورجواز کے مسائل،ص:591، عالمی مجلس تحفظ اسلام)

احسن الفتاوی میں ہے:

’’حقیقت یہ ہے کہ قفا بمعنی مؤخر الرأس (گدی) و مؤخر العنق (گردن کی پشت) دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ گدی سر کا حصہ ہے اور گردن مستقل عضو ہے، خود امداد الفتاوی جلد اول صا میں مسح گردن کے بیان میں تحریر ہے کہ قضا راُس کا جزء ہے اور رقبہ اس سے خارج ہے لہذا گدی کا حلق قزع میں داخل ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے، مگر گردن کا حلق مکروہ ہونے کی کوئی وجہ ظاہر نہیں‘‘

(کتاب الحظروالاباحۃ،ج:8،ص:76۔77،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101472

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں