بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی خرید کر اُس کی قیمت کی ادائیگی کے لیے ڈیلر کے توسط سے بیع بالوفا اور بیع عینہ کے طریقے اختیار کرنے کا شرعی حکم


سوال

 ہم نے ایک گاڑی خریدی ہے اس کی قیمت دوکروڑ ساٹھ لاکھ روپے ہے، اس میں سے ہم نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ  ادا کر دیےہیں اور بقیہ ایک کروڑ ہم نے سال کے آخر میں ادا  کرنے ہیں، بقیہ رقم میں سے پچاس لاکھ روپیہ ہمارے پاس ہے اور پچاس لاکھ رویپہ ہم نے کسی ڈیلر( پیمنٹ دینے والا) سے لینے ہیں، جس کے لیے ہم نے دو طریقے اختیار کر نے ہیں:

①ہم اس ڈیلر کو گاڑی کا چوتھائی حصہ بیچ دیں گے اور یہ پیسہ اصل مالک کو دیں گے پھر اس ڈیلر سے واپس یہ گاڑی (کا چوتھائی حصہ) قسطوں کے حساب لے لیں گے۔

②دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم نے جس سے گاڑی لی ہے اس سے کہیں گے کہ ہمارے پاس پیسے پورے نہیں ہو رہے ہیں، آپ ہم سے بقیہ رقم کے بدلہ گاڑی کا چوتھائی حصہ واپس لے لیں ، بعد میں ڈیلر سے وہ حصہ خریدوا کر پھر اس سے قسطوں پر لیں گے۔

برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اگر یہ دونوں طریقہ شرعا صحیح نہیں ہیں تو متبادل صورت بتادیں۔

جواب

بصورت مسئولہ گاڑی کے مالک کی رقم کی ادائیگی کی خاطر آپ کے ذکرکردہ دونوں طریقے جائز نہیں ہیں:

①پہلی صورت کہ آپ کا مذکورہ ڈیلر کو پچاس لاکھ نقد کے عوض گاڑی کا چوتھائی حصہ اس شرط پر فروخت کرنا کہ آپ اُس سےوہ حصہ واپس قسطوں میں خریدیں گے، شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ اِسے شریعت کی اصطلاح میں”بیع بالوفاء/ بیع بشرط الوفاء“ کہتے ہیں، جو کہ ناجائز ہے۔

②دوسری صورت کہ گاڑی کا چوتھائی حصہ گاڑی کے مالک کو واپس کرنا اور پھر ڈیلر کے توسط سے خریدوا کر قسطوں پر لے لینا، یہ بھی جائز نہیں ہے، کیوں کہ جب تک آپ گاڑی کے مالک کو مکمل رقم ادا نہیں کردیتے وہ گاڑی ( مکمل یا اُس کا کچھ حصہ) واپس اُس بائع (مالک) کو بیچ نہیں سکتے، اس میں شرعی طور پر ”صفقۃ فی صفقہ“(بیع در بیع) اور ”بیع عینہ“ جیسی سود ی  خرابیاں پائی جارہی ہیں۔

خلاصہ یہ کہ دونوں طریقوں سےاجتناب کرنا لازم ہے،جواز کی فقط ایک صورت ہے کہ آپ ڈیلر سے پچاس لاکھ روپے لے کر گاڑی کا چوتھائی حصہ اُسے فروخت کردیں، اور اُس سے خریداری کا  معاملہ کرتے وقت یہ شرط ہرگز نہ لگائی جائے کہ وہ آپ کو واپس بیچےگا، بلکہ ڈیلر کے ساتھ معاملہ بغیر کسی شرط کے کیا جائے، اِس صورت میں وہ آپ کے ساتھ گاڑی کے چوتھائی حصہ کا مالک بن جائے گا،اور اپنے حصہ کا خود مختار ہوگا اور آپ کو واپس بیچنے کا پاپند نہیں ہوگا، آپ کو فروخت کرے یا نہ کرے یا کسی دوسرے شخص کو فروخت کرے بہرصورت آپ کو کسی قسم کے اعتراض یا مطالبہ کا حق نہیں ہوگا۔

تاہم ڈیلر کے ساتھ معاملہ واپسی کی شرط کے بغیر مطلقاً ہوجائے اور تمام معاملات کے مکمل ہوجانے کے بعد  وہ اگر  آپ کو گاڑی میں موجود شراکتی حصہ بیچنا  چاہے تو بیچ سکتا ہے، لیکن آپ اُس کو مجبور نہیں کرسکتے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"البيع الذي تعارف أهل زماننا احتيالا للربا وسموه بيع الوفاء....وصورته أن يقول البائع للمشتري بعت منك هذا العين بدين لك علي على أني متى قضيت الدين فهو لي أو يقول البائع بعتك هذا بكذا على أني متى دفعت لك الثمن تدفع العين إلي كذا في البحر الرائق والصحيح أن العقد الذي جرى بينهما إن كان بلفظ البيع لا يكون رهنا ثم ينظر إن ذكرا شرط الفسخ في البيع فسد البيع وإن لم يذكرا ذلك في البيع وتلفظا بلفظ البيع بشرط الوفاء أو تلفظا بالبيع الجائز وعندهما هذا البيع عبارة عن بيع غير لازم فكذلك، وإن ذكرا البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزم الوفاء بالوعد كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب البیوع، الباب العشرون في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة، ج3، ص209، ط:دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في بيع الوفاء.

ووجه تسميته بيع الوفاء أن فيه عهدا بالوفاء من المشتري بأن يرد المبيع على البائع حين رد الثمن، وبعض الفقهاء يسميه البيع الجائز، ولعله مبني على أنه بيع صحيح لحاجة التخلص من الربا حتى يسوغ المشتري أكل ريعه، وبعضهم يسميه بيع المعاملة. ووجهه أن المعاملة ربح الدين وهذا يشتريه الدائن لينتفع به بمقابلة دينه. (قوله: وصورته إلخ) كذا في العناية، وفي الكفاية عن المحيط: هو أن يقول البائع للمشتري بعت منك هذا العين بما لك علي من الدين على أني متى قضيته فهو لي اهـ. وفي حاشية الفصولين عن جواهر الفتاوى: هو أن يقول بعت منك على أن تبيعه مني متى جئت بالثمن فهذا البيع باطل."

(کتاب البیوع ، باب الصرف، ج:5، ص:276، ط: سعيد)

النہرالفائق میں ہے:

"(و) لم يجز أيضاً (شراء ما باع) أي: ما باعه هو أو وكيله لنفسه...(قبل النقد)."

(كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،ج:3، ص: 431،  ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: في بيع العينة) اختلف المشايخ في تفسير العينة التي ورد النهي عنها. قال بعضهم: تفسيرها أن يأتي الرجل المحتاج إلى آخر ويستقرضه عشرة دراهم ولا يرغب المقرض في الإقراض طمعا في فضل لا يناله بالقرض فيقول لا أقرضك، ولكن أبيعك هذا الثوب إن شئت باثني عشر درهما وقيمته في السوق عشرة ليبيعه في السوق بعشرة فيرضى به المستقرض فيبيعه كذلك، فيحصل لرب الثوب درهما وللمشتري قرض عشرة. وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض فيحصل للمستقرض عشرة ولصاحب الثوب عليه اثنا عشر درهما، كذا في المحيط، وعن أبي يوسف: العينة جائزة مأجور من عمل بها، كذا في مختار الفتاوى هندية. وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا. وقال عليه الصلاة والسلام «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم» قال في الفتح: ولا كراهة فيه إلا خلاف الأولى لما فيه من الإعراض عن مبرة القرض اهـ ط ملخصا."

(كتاب البيوع، باب الصرف، ج:5،ص: 273،ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101313

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں