
ایک گاؤں نانا صاحب کے نام سے معروف ہے بلوچستان میں، جس کی کل آبادی کچھ اس طرح ہے کہ: تقریباً بالغ مرد 415، بالغ عورتیں 387، نابالغ بچے 299، نابالغ بچیاں 280، کل تعداد 1381۔ اسی گاؤں سے ایک ندی گزرتی ہے جس میں عام اوقات میں پانی کم بہتا ہے، بارش میں پہاڑ کے پانی اسی ندی سے گزرتے ہیں۔ اسی ندی میں پیدل چلنے کے لیے ایک چھوٹا سا پل ہے جس پر لوگ آتے جاتے ہیں۔ ندی کے اس پار کی آبادی کچھ اس طرح ہے کہ بالغ مرد 106، بالغ عورتیں 93، نابالغ بچے 60، نابالغ بچیاں 60۔ دونوں آبادیوں کو ملا کر کل تعداد 1700 بنتی ہے۔ ان دونوں کو نانا صاحب گاؤں کہتے ہیں۔
اس گاؤں کی دکانیں شہر کی طرح نہیں، لیکن اس میں پرچون کی کل دکانیں 14 یا 15 ہیں۔ ان میں جو اشیائے ضروریہ ہیں ان پر حکومتی ریٹ کا کوئی اطلاق نہیں اور نہ آج تک حکومت نے کوئی نرخ نامہ دیا ہے، اس لیے دکاندار اپنی منمانی کا ریٹ لگاتے ہیں۔ یہاں سے جو ہیڈ کوارٹر یعنی ضلع کا فاصلہ ہے وہ 49 کلومیٹر ہے۔ مثلاً وہاں چینی کی بوری8000روپے کی ہے تو یہاں گاؤں میں 8600 کی ہوتی ہے۔ اسی طرح جو بھی چیز دکانوں میں ملتی ہے وہ ہمارے ہیڈ کوارٹر سے مہنگی ہوتی ہے۔ کپڑوں کی صرف دو دکانیں ہیں، ان میں بھی کپڑا شہر سے مہنگا ہوتا ہے۔
اسی گاؤں میں میڈیکل اور کلینک موجود ہیں جن کی کل تعداد سات ہے۔ ان میں کوئی ڈاکٹر نہیں بلکہ صرف اور صرف میڈیکل ٹیکنیشن موجود ہوتے ہیں۔ یہ ٹیکنیشن بھی پاس کے گاؤں سے آتے ہیں، دن کو بیٹھتے اور رات کو واپس چلے جاتے ہیں۔ گاؤں والے ان میڈیکل ٹیکنیشن کو ڈاکٹر سمجھتے ہیں کیونکہ یہ گاؤں والے تمیز نہیں کر سکتے۔ خواتین کے لیے کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں، صرف ایک ایل ایچ وی ہے۔ اس گاؤں میں صرف پانچ یا چھ ہوٹل ہیں جہاں صرف چائے ملتی ہے، باقاعدہ ناشتے کا انتظام بھی نہیں۔ صرف گاؤں والے دن میں چائے پیتے ہیں۔ ایک دو ہوٹلوں میں دال یا سبزی مشکل سے ملتی ہے۔
گاؤں میں تین چار پٹرول پمپ ہیں جن میں سے ایک پٹرول پمپ حکومت سے منظور شدہ ہے اور باقی عارضی بنے ہوئے ہیں۔ ان سب پر ایرانی پٹرول ملتا ہے، کوئی منظور شدہ پٹرول نہیں ہے۔ گاؤں میں مکینک موجود ہیں لیکن کوئی بھی گاڑی کا انجن نہیں بنا سکتا، البتہ موٹرسائیکل کے مکینک موجود ہیں۔
اسی گاؤں کا کوئی سرکاری نام یا کوئی محلہ، گلی یا روڈ مشہور نہیں، پورا گاؤں نانا صاحب کے نام سے مشہور ہے۔ گاؤں میں ایک لیویز کی چوکی ہے جس میں صرف تین یا پانچ سپاہی موجود ہوتے ہیں جو چوروں یا کسی خطرے کی وجہ سے اپنی حفاظت کے لیے رات کو ایک دو فائر کرتے ہیں۔ گاؤں میں نادرا آفس کے علاوہ کوئی سرکاری دفتر نہیں۔
اس کا اسٹیشنر کمشنر فی الحال ہیڈ کوارٹر میں ہوتا ہے۔ گاؤں میں ایک ہائی اسکول، ایک پرائمری اسکول اور ایک مدرسہ درجہ ثانیہ (حفظہ کے طلباء) ہوتے ہیں۔ اس پاس گاؤں والے صرف پاپڑ (جو بچے کھاتے ہیں)، برف یا مرغی یہاں سے لیتے ہیں، باقی چینی، گھی وغیرہ ہیڈ کوارٹر سے خریدتے ہیں۔ گاؤں میں نمازی اتنے ہیں کہ گاؤں کی بڑی مسجد میں سات آٹھ سو نمازی باآسانی آسکتے ہیں، لیکن گاؤں کے کل نمازی ایک حساب سے 415 اور دوسرے حساب سے 530 موجود ہیں۔ گاؤں میں کوئی قاضی، حاکم یا پنچایت نہیں۔ گاؤں میں کوئی موچی مستقل نہیں۔ گاؤں میں مٹن اور بیف کا کوئی قصاب خانہ نہیں۔ گاؤں میں غلہ منڈی نہیں۔ گاؤں میں کوئی ترکھان یا فرنیچر والا نہیں۔ کپڑے دھونے کے لیے دھوبی نہیں، نہ غسل کے لیے کوئی حمام ہے۔ گاؤں میں کوئی خراد والا نہیں، البتہ ویلڈنگ والا ہے۔ گاؤں میں کوئی ایم بی بی ایس ڈاکٹر، ایف سی پی ایس یا سرجن نہیں۔ رات 10 بجے کے بعد نہ کوئی ڈاکٹر، کوئی جنرل سٹور نہ کوئی سبزی اور نہ کوئی مرغی کاگوشت ملتا ہے اور نہ ہی کوئی کلینک کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ گاؤں میں ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام نہیں۔ صبح فجر سے سات آٹھ بجے تک ہیڈ کوارٹر جانے کے لیے پک اپ ملتے ہیں، بعد میں ظہر کے بعد بسا اوقات ایک پک اپ مل جاتی ہے، ورنہ دوسرے دن تک انتظار کرنا ہوتا ہے۔ گاؤں میں ڈرائی فروٹ کی کوئی دکان نہیں، نہ کوئی مٹھائی کی دکان ہے۔ گاؤں میں کوئی ڈاک خانہ نہیں اور نہ ڈاک کا کوئی انتظام ہے۔ گاؤں میں کوئی بینکنگ نہیں، البتہ ایزی پیسہ شاپ ہے۔ گاؤں میں کوئی حکیم، کوئی طبیب اور کوئی مطب موجود نہیں ہے۔
تو اس ساری صورت حال میں سوال یہ ہے کہ: گاؤں میں جمعہ ہوتا ہے یا نہیں؟
جمعہ صحیح ہونے کے لیے شہریا اس کے مضافات(فنائے شہر) یا بڑا گاؤں ہونا شرط ہے اور بڑا گاؤں ہونے کے لیے کم سے کم دو ہزار آبادی ہونا ضروری ہے، اور ایسے گاؤں میں جمعہ نہ صرف جائز بلکہ واجب ہوگا، اور اگر وہ جگہ شہر، فنائے شہر یا بڑا گاؤں بھی نہیں ہے تو پھر وہاں جمعہ قائم کرنا درست نہیں ۔
صورت مسئولہ میں جو ”گاؤں نانا صاحب “ سے متعلق تفصیل مذکور ہے ، اگر اس میں ندی کے دونوں طرف والوں گاؤں کو دیکھنے والے ایک گاؤں سمجھتے ہوں تب بھی دونوں گاؤں کی مجموعہ آبادی اتنی نہیں ہے کہ جس کی بنا پر اس کو قریہ کبیرہ(بڑا گاؤں) کہا جاسکے، نیز مذکورہ گاؤں میں شہر اور بڑے قصبہ کی سی سہولیات اور وسائل بھی میسر نہیں ہیں ، اور نہ ہی ایسا کوئی بڑا بازار موجود ہے ، جس کو عرف میں ”بازار“ کہا جاسکے، اور اس میں ضرورت کی اشیاء ہمہ وقت دستیاب ہوں، اسی طرح عرفاً شہر، قصبہ اور بڑا گاؤں اس کو کہا جاتا ہے جو اپنی روز مرہ کی حاجت وضروریات پوری کرنے میں کسی دوسرے شہر کا محتاج نہ ہو اور آس پاس کے لوگ اور بستی والے اپنے ضرورت وہاں سے پوری کرتے ہوں، جب کہ یہاں یہ صورت حال بھی نہیں ہے، بلکہ مذکورہ گاؤں والے اپنی بہت سی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے49 کلومیٹر فاصلہ پر ہیڈ کواٹر جانے کے محتاج ہوتے ہیں۔ ان تمام تفصیلات کی رو سے مذکورہ گاؤں میں جمعہ کا قیام جائز نہیں ہے،یہاں جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز ادا کی جائے، ہاں جب ایک ہی گاؤں کی آبادی دوہزار یا اس سے زائد ہوجائے تو پھر جمعہ قائم کرنا لازم ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:
الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض يقدر على إقامة الحدود كما حررناه فيما علقناه على الملتقى. وفي القهستاني: إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي وإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه فليحفظ.
(قوله: ما لا يسع إلخ) هذا يصدق على كثير من القرى ط (قوله: المكلفين بها) احترز به عن أصحاب الأعذار مثل النساء والصبيان والمسافرين ط عن القهستاني (قوله وعليه فتوى أكثر الفقهاء إلخ) وقال أبو شجاع: هذا أحسن ما قيل فيه. وفي الولوالجية وهو صحيح بحر، وعليه مشى في الوقاية ومتن المختار وشرحه وقدمه في متن الدرر على القول الآخر وظاهره ترجيحه وأيده صدر الشريعة بقوله لظهور التواني في أحكام الشرع سيما في إقامة الحدود في الأمصار. (قوله: وظاهر المذهب إلخ) قال في شرح المنية. والحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ إلا أن صاحب الهداية ترك ذكر السكك والرساتيق لأن الغالب أن الأمير والقاضي الذي شأنه القدرة على تنفيذ الأحكام وإقامة الحدود لا يكون إلا في بلد كذلك. اهـ....
(قوله: وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة؛ ألا ترى أن في الجواهر لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري إذا بني مسجد في الرستاق بأمر الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اهـ فافهم والرستاق القرى كما في القاموس."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، 2/ 137، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے :
"أما المصر الجامع فقد اختلفت الأقاويل في تحديده ذكر الكرخي أن المصر الجامع ما أقيمت فيه الحدود ونفذت فيه الأحكام، وعن أبي يوسف روايات ذكر في الإملاء كل مصر فيه منبر وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود فهو مصر جامع تجب على أهله الجمعة، وفي رواية قال: إذا اجتمع في قرية من لا يسعهم مسجد واحد بنى لهم الإمام جامعا ونصب لهم من يصلي بهم الجمعة، وفي رواية لو كان في القرية عشرة آلاف أو أكثر أمرتهم بإقامة الجمعة فيها، وقال بعض أصحابنا: المصر الجامع ما يتعيش فيه كل محترف بحرفته من سنة إلى سنة من غير أن يحتاج إلى الانتقال إلى حرفة أخرى، وعن أبي عبد الله البلخي أنه قال: أحسن ما قيل فيه إذا كانوا بحال لو اجتمعوا في أكبر مساجدهم لم يسعهم ذلك حتى احتاجوا إلى بناء مسجد الجمعة فهذا مصر تقام فيه الجمعة، وقال سفيان الثوري: المصر الجامع ما يعده الناس مصرا عند ذكر الأمصار المطلقة، وسئل أبو القاسم الصفار عن حد المصر الذي تجوز فيه الجمعة فقال: أن تكون لهم منعة لو جاءهم عدو قدروا على دفعه فحينئذ جاز أن يمصر وتمصره أن ينصب فيه حاكم عدل يجري فيه حكما من الأحكام، وهو أن يتقدم إليه خصمان فيحكم بينهما. وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح."
(كتاب الصلاة، فصل بيان شرائط الجمعة، 1/ 259، ط: سعيد)
امداد الاحکام میں ہے:
”یہ تو او پر معلوم ہو چکا کہ فقہاء کا یہ مطلب نہیں کہ مصریت و قرویت کا مدار محض عرف عام ور ائے اہل عرف پر ہے ، بلکہ اس کے لئے اُن کے نزدیک معیار شرعی ضرور ہے، جس کو وہ مختلف عبارات سے اس لئے بیان کرتے ہیں کہ اختلاف زمان سے اس معیار کا مصداق مختلف ہو جاتا ہے۔
پس اس بنار پر ہم کہتے ہیں کہ اصل معیارِ مصر تو مکہ و مدینہ کی حالت موجودہ فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اور اس معیار کی احسن تفسیر وہ ہے جو امام صاحب سے خود منقول ہے ، اور آج کل اس تعریف کا مصداق ہندوستان میں ہمارے نزدیک ہر وہ موضع ہے جس کی آبادی قریب چار ہزار کے ہو یا اس سے زیادہ اور وہاں ایسا بازار موجود ہو جس میں تیس چالیس دکانیں متصل یک جا ہوں( کہ بازا ر اُسی کا نام ہے ، متفرق دکانوں کو جن میں فصلِ کثیر ہو بازار نہیں کہا جاتا) اور اس بازار میں ضروریاتِ رو زمرہ دستیاب ہوتی ہوں کہ پارچہ کی دکان بھی ہو، جو تہ کی بھی ، عطارہ کی بھی، دودھ، گھی ، غلہ وغیرہ کی بھی اور وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو، معمار ومستری بھی ہو اور وہاں ڈاک خانہ بھی ہو اور پولیس کا تھا نہ یا چوکی بھی ہو، اور اس میں مختلف محلے مختلف ناموں سے موسوم ہوں جس میں یہ شرائط موجود ہوں وہاں جمعہ صحیح ہوگا ورنہ نہیں۔“
(کتاب الصلاۃ، 1/ 763،ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)
ایک اور سوال کے جواب میں امداد الاحکام میں ہے:
” سارے جزیرے کو تو ایک شہر نہیں کہا جا سکتا ، بلکہ یہ ایک پرگنہ ہے، جو متعدد مواضع پر مشتمل ہے، پس ان مواضع میں سے جس موضع کی شان یہ ہو کہ اس میں تین چار ہزار یا اس سے زیادہ کی آبادی ہو اور بازار بھی روزانہ لگتا ہو، جس میں ضرورت کی سب چیزیں ملتی ہوں جیسا کپڑا، جوتا، غلہ ، گوشت، ترکاری، دوا، دودھ وغیرہ اس میں تو جمعہ جائز ہے اور جس کی آبادی تو اس مقدار کو پہنچتی ہو مگر ضروریات سب وہاں نہ ملتی ہوں، نہ بازار روزانہ لگتا ہو وہاں جمعہ جائز نہیں، اور جس جگہ جو از جمعہ میں تردد ہو وہاں جمعہ نہ پڑھیں صرف ظہرپڑھیں، واللہ اعلم۔“
(کتاب الصلاۃ، 1/ 749،ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
"فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ قصبات اور قریہ کبیرہ میں نمازِ جمعہ فرض ہے اورادا ہوتی ہے اور یہ بھی تصریح فرمائی ہے کہ چھوٹے قریہ میں باتفاقِ علمائے حنفیہ جمعہ نہیں ہوتا ۔۔ اور قریہ کا چھوٹا بڑا ہونا مشاہدہ سے اور کثرت و قلتِ آبادی سے معلوم ہوتا ہے ،جس قریہ میں تین چار ہزار آدمی آباد ہوں گے ظاہرا ً وہ قریہ کبیرہ بحکمِ قصبہ ہو سکتاہے اور اس سے کم آبادی ہو تو وہ قریہ صغیرہ کہلائے گا۔"
(کتاب الصلوۃ ،باب الجمعۃ ، 124/5،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144703100031
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن