بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فٹبال کھیلنے کی وجہ سے باجماعت نماز چھوڑنے کا حکم


سوال

 میں عصر کی نماز پڑھ کر فٹبال کھیلنے کے لیے جاتا ہوں، تاکہ جسمانی اور ذہنی طور پر تندرست رہ سکوں، فٹبال کھیلنا میرا شوق اور جذبہ بھی ہے،جس گراؤنڈ میں میں فٹبال کھیلنے جاتا ہوں، وہ میرے محلے سے پندرہ (15) منٹ کے فاصلے پر ہے، اور وہیں کھیلتے وقت مغرب کا وقت ہو جاتا ہے،مگر گراؤنڈ کے آس پاس کوئی مسجد نہیں ہے، اسی لیے میں مغرب کی جماعت میں شریک نہیں ہو پاتا (البتہ نماز قضا نہیں ہوتی)، بلکہ محلے واپس آکر مسجد میں انفرادی طور پر نماز پڑھ لیتا ہوں،تو کیا یہ جان بوجھ کر جماعت کو ترک کرنا شمار ہوگا؟کیا اس پر گناہ ہوگا؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب

نماز باجماعت ادا کرنا سنتِ  مؤکدہ ، واجب کے قریب ہے، احادیثِ  مبارکہ میں ترکِ  جماعت پر سخت وعیدیں آئی ہیں، بلاعذر جماعت ترک کرنا گناہ  کبیرہ ہے۔ ہر مسلمان مرد پر ضروری ہے کہ وہ مسجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کرے،  فٹبال کھیلنا ایسا عذر نہیں کہ اس کی وجہ سے  جماعت کو ترک کردیا جائے۔

لہذا صورت مسئولہ میں  سائل فٹبال کھیلنے کی وجہ سے اگر جماعت ترک کرتا ہے تو ترک جماعت کا گناہ ہوگا، لہذا سائل کو چاہیے کہ نماز سے قبل ہی کھیل سے فارغ ہوکر مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرے۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلوٰةَ وَاٰتُوا الزَّكوٰةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرّٰكِعِينَ ﴾ [البقرة: 43]

ترجمہ: نماز قائم کرواور  زکاۃ ادا کرو، اورنماز پڑھو نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر ( یعنی جماعت کے ساتھ)

سنن النسائي میں ہے:

"قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما من ثلاثة في قرية و لا بدو لاتقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، فعليك بالجماعة ‌فإنما ‌يأكل ‌الذئب ‌القاصية» قال السائب يعني بالجماعة الجماعة في الصلاة."

(كتاب الصلوة، ‌‌التشديد في ترك الجماعة،ج:2،ص:102،ط:المكتبة التجارية الكبرى بالقاهرة)

ترجمہ: ابو درداء  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسولِ کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ جس وقت کسی بستی یا جنگل میں تین افراد  ہوں اور وہ نماز کی جماعت نہ کریں تو سمجھ لو کہ ان لوگوں پر شیطان غالب آگیا ہے اور تم لوگ اپنے ذمہ جماعت سے نماز لازم کرلو ، کیوں  کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو کہ اپنے ریوڑ سے علیحدہ ہوگئی ہو۔ حضرت سائب نے فرمایا کہ اس سے مراد نماز باجماعت ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط."

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، 1/ 552، ط: سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101632

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں