
فرقہ واریت اور مکاتب فکر میں فرق کیا ہے، رہنمائی فرمائیں؟
واضح رہےفرقہ کےمعنی جماعت یاگروہ کے ہیں، یہ لفظ "فرق" سے مشتق ہے، جس کے معنی الگ کرنا،جداہوناہے، دوسرےالفاظ میں فرقہ کواس طرح بیان کیاجاسکتاہےکہ فرقہ کسی بھی مذہب، جماعت (سیاسی یا مذہبی) یا گروپ کاذیلی حصہ ہوتاہےجواپنےالگ خیالات ونظریات کی وجہ سےالگ جاناجاتاہے۔
ایک مکتبِ فکر دراصل ایسے لوگوں یا اشخاص کا ایک گروہ یا مجموعہ ہوتا ہے جو ایک جیسی رائے یا فلسفہ، عقیدہ، سماجی تحریک، ثقافتی تحریک یا فنی تحریک کے حامل ہوتے ہیں، سلیس الفاظ میں: یکساں نقطۂ نظر رکھنے والے یا کسی خاص فلسفیاتی، سماجی، عقیدی یا فنّی نظریہ پر متفق افراد کے ایک مجموعے کو مکتبِ فکر کہاجاتا ہے۔
اِصطلاح مکتبِ فکر دراصل دو الفاظ مکتب اور فکر کا مجموعہ ہے، مکتب فی الحقیقت عربی زبان کا لفظ ہے جو فارسی سے ہوتا ہوا اُردو میں وارد ہوا ہے، عربی میں مکتب سے مُراد مطالعے کے لیے استعمال ہونے والے کسی میز یا کسی خاص کام کے لیے استعمال ہونے والے کمرۂ کار یعنی دفتر کے لی جاتی ہے، جب کہ اُردو اور فارسی میں یہ لفظ مدرسہ کے متبادل کے طور پر مستعمل ہے ، لفظ فکر بھی اصل میں عربی سے ماخوذ ہے جس کے معانی خیالاور سوچ و بچار کے ہیں۔ انگریزی میں اِس کے لیے "اسکول آف تھاٹ" (School of thought) کی اِصطلاح استعمال کی جاتی ہے، جو اِسی اُردو اِصطلاح کا صحیح معنی ہے۔ اُردو میں ایک اَور اِصطلاح مکتبہ فکر بھی ایک متبادل کے طور پر دیکھنے میں آتی ہے جو دراصل مکتبِ فکر ہی کا ایک متغیّر ہے اور دیکھا جائے تو معنوی لحاظ سے صحیح نہیں ہے کیونکہ مکتبہ دراصل کسی کتابخانے یعنی لائبریری کو کہاجاتا ہے مکتبِ فکر کے دو اَور متبادلات مکتبِ خیال اور دبستانِ خیال ہیں۔ماخوذ از (آزاد دائرۃ المعارف)
واضح ہوا کہ کسی جماعت کو فرقہ اسی حیثیت سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے غیر سے الگ ایک جماعت ہے،اور مکتب فکر اسی لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا اپنا ایک نظریہ اور فکر ہے۔
لسان العرب میں ہے:
"والمكتب: موضع الكتاب. والمكتب والكتاب: موضع تعليم الكتاب، والجمع الكتاتيب والمكاتب. المبرد: المكتب موضع التعليم."
( باب الكاف، ج:1، ص:699، ط:دار صادر)
وفيه أيضا:
"فكر: الفكر والفكر: إعمال الخاطر في الشيء؛ قال سيبويه: ولا يجمع الفكر ولا العلم ولا النظر، قال: وقد حكى ابن دريد في جمعه أفكارا. والفكرة: كالفكر وقد فكر في الشيء «5» وأفكر فيه وتفكر بمعنى. ورجل فكير."
(باب الفاء، ج:5، ص:65، ط: دار صادر)
وفيه أيضا:
"فرق: الفرق: خلاف الجمع، فرقه يفرقه فرقا وفرقه، وقيل: فرق للصلاح فرقا، وفرق للإفساد تفريقا، وانفرق الشيء وتفرق وافترق."
(باب الفاء، ج:10، ص:699، ط: دار صادر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144412101358
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن