
میری والدہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا ہے،والدہ نے اپنی حیات میں مجھے سات سال کی نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی تھی،جو کہ میں نے ان کی زندگی میں ہی نکالنا شروع کردیا تھااور مرنے کے بعد بھی نکالا،کل 14 ہزار درہم نکالےہیں(کیوں کہ میں دبئی میں رہتا تھا)،اب سوال یہ ہے کہ وصیت سات سال کی تھی اس کے کتنے پیسے نکالنے ہوں گے؟آیا چودہ ہزار درہم کافی ہوجائیں گے؟اور میں نے نکالتے وقت دیگر وارثین کو بتایا تھاکہ میں یہ اپنے پاس سے قرض کے طور پر دے رہا ہوں بعد میں واپس لوں گا،سب اس پر راضی تھے اور سب نے اسے قبول کیا تھا۔اب والدہ کی جائیداد سے نمازوں کا فدیہ کیسے نکالا جائے گا؟
اگر میت نے اپنی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو اور وہ فدیہ میت کے ایک تہائی مال سے ادا کرنا ممکن ہو تو ایسی صورت میں ورثاء پر مکمل فدیہ ادا کرنا لازم ہوتا ہے اور اگر وہ فدیہ میت کے ایک تہائی مال سے ادا کرنا ممکن نہ ہوتو ایسی صورت میں ایک تہائی مال سے زیادہ ادا کرنا ورثاء پر لازم نہیں ہے،بلکہ ان کی رضامندی پر موقوف ہوتا ہے، اگر تمام ورثاء جو کہ عاقل، بالغ ہوں اور اپنی رضامندی سےادا کریں، تو یہ ان کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہوگا،باقی نماز کا فدیہ زندگی میں نہیں اداکیاجاسکتا،بلکہ طاقت اور قدر ت ہونے کی صورت میں نمازادا کرنی ہی ضروری ہوتی ہے،اور ایک نماز کافدیہ پونے دو کلو گندم یا اُس کی قیمت ہے، اور فدیہ جس طرح فرض نمازوں کا ادا کرنا لازم ہے، اسی طرح وتر کی نماز کافدیہ ادا کرنابھی لازم ہے، یعنی فی دن چھ نمازوں کا فدیہ ادا کرنا لازم ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی والدہ کی زندگی میں ان کی طرف سے جو رقم بطور فدیہ کے ادا کی وہ ادا نہ ہوئی اور جس قدر رقم والدہ کی وفات کے بعد ادا کی تھی وہ فدیہ کے طور پر ادا ہوگئی،لہذا والدہ کی سات سال کی نمازوں کی کل تعداد نکال کر ایک تہائی ترکہ سے نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے اور جس قدر ادا ہوگیا ہے اسے اس شمار سے منہا کرلیا جائے،اور سائل نے جس قدر رقم والدہ کی وفات کے بعد فدیہ کی مد میں اپنے طور پر ادا کی تھی اس قدر رقم سائل والدہ کے ترکہ کے ایک تہائی سے لینے کا حق دار ہے،اور اگر سات سال کی نمازوں کے فدیہ کی رقم والدہ کے ترکہ کہ ایک تہائی سے زیادہ ہےتو اگر ورثاء اسے اپنی طرف سے ادا كرتے ہیں تویہ تبرع اور والدہ کے ساتھ احسان والا معاملہ ہوگا اور ان کے اخروی مراحل میں ان کی معاونت ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: ولو فدى عن صلاته في مرضه لا يصح)، في التتارخانية عن التتمة: سئل الحسن بن علي عن الفدية عن الصلاة في مرض الموت هل تجوز؟ فقال لا. وسئل أبو يوسف عن الشيخ الفاني: هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم وهو حي؟ فقال لا. اهـ. وفي القنية: ولا فدية في الصلاة حالة الحياة بخلاف الصوم. اهـ.
أقول: ووجه ذلك أن النص إنما ورد في الشيخ الفاني أنه يفطر ويفدي في حياته، حتى إن المريض أو المسافر إذا أفطر يلزمه القضاء إذا أدرك أياما أخر، وإلا فلا شيء عليه، فإن أدرك ولم يصم يلزمه الوصية بالفدية عما قدر، هذا ما قالوه، ومقتضاه: أن غير الشيخ الفاني ليس له أن يفدي عن صومه في حياته لعدم النص، ومثله الصلاة. ولعل وجهه أنه مطالب بالقضاء إذا قدر، ولا فدية عليه إلا بتحقيق العجز عنه بالموت فيوصي بها، بخلاف الشيخ الفاني؛ فإنه تحقق عجزه قبل الموت عن أداء الصوم وقضائه فيفدي في حياته، ولا يتحقق عجزه عن الصلاة؛ لأنه يصلي بما قدر ولو موميا برأسه فإن عجز عن ذلك سقطت عنه إذا كثرت، ولا يلزمه قضاؤها إذا قدر كما سيأتي في باب صلاة المريض، وبما قررنا ظهر أن قول الشارح بخلاف الصوم أي فإن له أن يفدي عنه في حياته خاص بالشيخ الفاني، تأمل."
( كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت ، ج: 2، ص: 74، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى الكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله).
(قوله: وإنما يعطي من ثلث ماله) أي فلو زادت الوصية على الثلث لايلزم الولي إخراج الزائد إلا بإجازة الورثة ".
(کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 72، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101728
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن