
فٹ پاتھ پر کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ان سے کچھ خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ اور فٹ پاتھ کس جگہ کو کہتے ہیں؟
واضح رہے کہ فٹ پاتھ کہتے ہیں ”پیدل چلنے کا وہ راستہ جو پختہ سڑک کے دونوں طرف بنا ہوتا ہے اور سڑک سے قدرے اونچا ہوتا ہے۔“اگر فٹ پاتھ پر سامان رکھ کر بیچنے کی صورت میں جگہ تنگ ہوجائے اور راہ گیروں کو پیدل چلنے میں مشقت ہو تو ایسی صورت میں فٹ پاتھ پر سامان رکھ کر بیچنا اور ان سے خریداری کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ فٹ پاتھ پر سامان رکھ کر بیچنے کی صورت جب عوام کو مشکلات درپیش ہوں تو یہ حقوق العباد میں حق تلفی ہوگی جو کہ شرعاً درست نہیں ہے، اور خریداری سے اجتناب اس لیے کرنا چاہیے کیوں کہ ان حضرات سے چیز خریدنےکی صورت میں ان کی حوصلہ افزائی ہوگی ،وہ فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے کا مستقل معمول بنالیں گے ، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا ۔
نیز اگر فٹ پاتھ اس قدر کشادہ ہےکہ اس میں سامان بیچنے/کاروبار کرنے کی صورت میں عوام الناس کو پیدل چلنے میں کسی قسم کی مشکلات پیش نہیں آتیں اور حکومت کی طرف سے فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے کی اجازت بھی ہو تو فٹ پاتھ پر سامان رکھ کر بیچنا/کاروبار کرنا درست ہے۔ نیز اشیاء کے خرید و فروخت کے جائز اور ناجائز ہونے کا دار و مدار ان کے حلال و حرام ہونے پر ہے، لہذا کوئی شخص فٹ پاتھ پر حلال اشیاء فروخت کرتا ہے تو ان کی خریداری جائز ہے اور اگر حرام چیز فروخت کرتا ہے تو ان کی خریداری شرعاً ناجائز ہے۔
المحيط البرهانی میں ہے:
"وسئل أبو القاسم عمن يبيع ويشتري في الطريق قال: إن كان الطريق واسعاً ولا يكون في قعوده ضرر للناس فلا بأس، وعن أبي عبد الله القلانسي أنه كان لا يرى بالشراء منه بأساً وإن كان بالناس ضرر في قعوده، والصحيح هو الأول؛ لأنه إذا علم أنه لا يشتري منه لا يبيع على الطريق فكان هذا إعانة له على المعصية وقد قال الله تعالى: {ولا تعاونوا على الاثم والعدوان} وبعض مشايخنا قالوا: لاتجوز له العقود على الطريق وإن لم يكن للناس في قعوده ضرر ويصير بالقعود على الطريق فاسقاً؛ لأن الطريق ما اتخذ للجلوس فيه إنما اتخذ للمرور فيه".
(كتاب البيع، الفصل الخامس والعشرون: في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة وما جاء فيها من الرخصة،140/7، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو بنى رجل في الطريق العام كان لكل واحد أن يخاصمه في ذلك ويهدمه فأما بينه وبين الله تعالى فإن كان هذا الحائط الذي بناه في الفرات يضر بمجرى السفن أو الماء لم يسعه وهو فيه آثم وإن كان لا يضر بأحد فهو في سعة من الانتفاع بمنزلة الطريق العام إذا بنى فيه بناء فإن كان يضر بالمارة فهو آثم في ذلك وإن كان لا يضر بها فهو في سعة من ذلك."
( كتاب الشرب، الباب الخامس في المتفرقات،406/5، ط: دار الفکر)
تکملہ فتح الملہم میں ہے:
"إن المسلم يجب عليه أن يطيع أميره في الأمور المباحة، فإن أمر الأمير، بفعل مباح، وجبت مباشرته، وإن نهى عن أمر مباح، حرم إرتكابه،..... ومن هنا صرّح الفقهاء بأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجب."
(كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في المعصية، ج:3، ص:363،ط:مكتبة دار العلوم كراتشي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100365
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن