بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فٹ پاتھ پر لوگوں کا راستہ روکتے ہوئے سامان بیچنے کا حکم


سوال

ہماری مارکیٹ کے دو گیٹ ہیں، دوسرے گیٹ پر جو کہ ہماری دکان سے منسلک ہے برابر والی مارکیٹ کا نیا د کان دار آیا ہے، ہماری حدود میں واقع فٹ پاتھ پر اپنا مال رکھ کر فروخت کر رہا ہے، جبکہ وہ اس کا مالک نہیں ہے، کے ایم سی کی فٹ پاٹھ ہے، گیٹ پر جال لگا کر ہمارا راستہ روک رہا ہےاور آنے جانے نہیں دے رہا، جب کہ ہم یہ راستہ گذشتہ تیس سال سے استعمال کررہے ہیں، ہوا اور روشنی بھی یہاں سے آتی ہے، علالت کی وجہ سے میں نے دکان کرائے پر دی ہوئی ہے، وہ جھگڑالو اور اثر ورسوخ والاہے، 65سال میری عمر ہے، بیمار اور کمزور ہوں، کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہے۔

1۔ایسے شخص کے لیے شریعت کیا کہتی ہے؟

2۔میں قانون کا سہارا لینا چاہتا ہوں، لیکن استطاعت نہیں رکھتا ،اس مقصد کے لیے زکاۃ کا سہارا لے سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

1۔د کان کے باہر والا حصہ یعنی فٹ پاتھ جو کہ عموماً د کان کے مالک کی ملکیت نہیں ہوتا ہے اور سرکاری جگہ ہوتی ہے،اس میں تمام لوگوں کا حق ہوتا ہے،اس پر سامان لگا کر بیچنے سے لوگوں کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہےاور آمد رفت میں خلل واقع ہوتا ہے؛  لہذا د کانداروں  کااپنی دکان کی  حدود سے باہر فٹ پاتھ پر  اس طور پر سامان لگانا کہ گزرنے والوں کو تکلیف ہو جائز نہیں،لوگوں کے راستہ کو تنگ کرنے کی وجہ سے ایسا دکان دار گناہ گار ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں کے ایم سی کے فٹ پاتھ پر سامان رکھ کر بیچنا جو کہ گزرنے والے کے لیے تکلیف اور دوسرے دکان داروں کے لیے اذیت کا سبب بن رہا ہے درست نہیں، سائل اور دیگر لوگوں کا راستہ روکنے کی وجہ سے مذکورہ دکاندار گناہ گار ہے، سائل کو چاہیے کہ حکمت سے کام لیتے ہوئے اسے پیار و محبت سے سمجھانےکی کوشش کرے، اگر وہ اس طرح نہ سمجھے تو مارکیٹ انتظامیہ سے رابطہ کرکے مارکیٹ کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر معاملہ حل کرے اور اگر اس طرح بھی معاملہ حل نہ ہو تو قانونی اداروں کی طرف رجوع کرے۔

2۔سائل صاحب نصاب ہے تو صرف قانونی راستہ استعمال کرنے کے لیے   زکاۃ کا مستحق نہیں بنے گا، لہذا سائل کا اس وجہ سے زکاۃ لینا جائز نہیں ہے۔

صحيح البخاری میں ہے:

 "حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا أبو عمر حفص بن ميسرة، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إياكم والجلوس على الطرقات»، فقالوا: ما لنا بد، إنما هي مجالسنا نتحدث فيها، قال: «فإذا أبيتم إلا المجالس، فأعطوا الطريق حقها»، قالوا: وما حق الطريق؟ قال: «غض البصر، وكف الأذى، ورد السلام، وأمر بالمعروف، ونهي عن المنكر»"

 (‌‌كتاب المظالم، ج: 3، ص: 132، ط: دار طوق النجاة بيروت)

فتاوی شامی میں ہے :

"وطريق العامة ما لايحصى قومه أو ما تركه للمرور، قوم بنوا دورا في أرض غير مملوكة فهي باقية على ملك العامة، وهذا مختار شيخ الإسلام، والأول مختار الإمام الحلواني، كما في العمادي، قهستاني... (قوله:فإن ضر لم يحل ) كان عليه أن يقول: فإن ضر أو منع لم يحل ا هـ  وفي القهستاني: ويحل له الانتفاع بها وإن منع عنه، كما في الكرماني، وقال الطحاوي: إنه لو منع عنه لايباح له الإحداث ويأثم بالانتفاع والترك كما في الذخيرة."

(ج: 6، ص: 592، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة."

 (کتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ج: 2، ص: 247، ط: سعيد)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام  میں ہے:

"الإحداث - إن إحداث شيء في الطريق العام يضيق الطريق ويضر بالمارة غير جائز، انظر المادة (19) أما إذا كانت لا تضيق الطريق بسبب اتساعها فالإحداث جائز ما لم يمنع (الطوري) ، والحكم في الجلوس على الطريق العام للبيع والشراء هو على هذا الوجه فإذا كان مضرا فهو غير جائز وإذا كان غير مضر فجائز ومع ذلك إذا كان غير مضر ومنع فالإحداث غير جائز أيضا وبما أنه قد منع الإحداث في المادة (27 9) وفي هذه المادة فلا يجوز الإحداث ولو كان غير مضر."

(المقالة الثانیة، الکتاب الثامن، الفصل الثالث، ج: 3، ص: 231، ط: دارالجیل)

وفیہ ایضا: 

"(مادة 927) - (ليس لأحد الجلوس في ‌الطريق ‌العام للبيع والشراء ووضع شيء فيه وإحداثه بلا إذن ولي الأمر وإذا فعل يضمن الضرر والخسارة اللذين يتولدان من ذلك الفعل...ولكل من أهل المرور حق منعه."

(الکتاب الثامن، الباب الثانی، الفصل الثالث،ج: 2، ص: 623، ط: دارالجیل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706101712

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں