بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فنگرفش کھانےکاحکم


سوال

کیافنگر فش کھانا مکروہ ہے؟

جواب

فنگرفش اگرمچھلی کابناہوتوکھاناحلال ہےاوراگرکسی اورسمندری جانور کابناہواہوتواس کاکھاناحلال نہیں ہے، اسی وجہ سے اسٹنگ رے (جو ”سمندری چمگادڑ“ کے نام سے بھی معروف ہے) کو  فِنگر فِش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ماہرین کے نزدیک یہ مچھلی ہی کی ایک قسم ہے، لہٰذا اس کا کھانا حلال ہے، جب کہ ”مگرا“سےبنی فنگرفش کھانامکروہ ہے، کیونکہ ماہرین کےنزدیک ”مگرا“سمندری درندہ ہےمچھلی نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان محرم الأكل إلا السمك خاصة فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه وهذا قول أصحابنا رضي الله عنهم."

(کتاب الذبائح و الصیود، ج: 5، ص: 35، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100598

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں