بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فلمی اداکاروں کی جائز خدمت کے عوض اجرت لینے کا حکم


سوال

میرے بڑے بیٹے نے میرے چھوٹے بیٹے کو فلمی اداکاروں کے پاس کام پر لگایا ہے، اور یہ چھوٹا بیٹا حافظِ قرآن بھی ہے، اس کا کام فی الحال صرف اداکاروں کو چائے وغیرہ پیش کرنا اور دیگر خدمات انجام دینا ہے، لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ وہ کیمرہ چلانا سیکھے، اور بعد میں اداکاروں کی شوٹنگ کی ویڈیو بنائے، اس وقت اس کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے ہوگی۔

اب سوال یہ ہے کہ فی الحال جو پیسے وہ کما رہا ہے، کیا وہ جائز ہیں یا نہیں؟ اور جب مستقبل میں وہ ویڈیو سازی سیکھ جائے گا، تو اُس وقت ویڈیو سازی کرنا اور اس سے پیسے کمانا جائز ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں فی الحال جو کام صرف چائے پیش کرنےاور دیگر اسی نوع کی عام خدمات پر مشتمل ہے، وہ فی نفسہٖ مباح (جائز)امور میں داخل ہے؛اس لیے اس خدمت پر اجرت لینا جائز ہے،لیکن آئندہ جس کام یعنی شوٹنگ، ویڈیو ریکارڈنگ اور فلمی مناظر کی تصویربندی کا ارادہ ہے، تو ایسا کرنا ناجائز ہے؛لہٰذا ویڈیو سازی کرنا بھی درست نہیں، اور اس کےعوض تنخواہ بھی حلال نہیں ہو گی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم ‌الإجماع ‌على ‌تحريم ‌تصوير ‌الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره آه"

(كتاب الصلاة، تحت الفروع، ج: 1، ص: 647، ط: سعيد)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

اتفق الفقهاء على جواز خدمة الكافر للمسلم.واتفقوا كذلك على جواز أن يؤجر المسلم نفسه للكافر في عمل معين في الذمة، كخياطة ثوب وبناء دار، وزراعة أرض وغير ذلك، لأن عليا رضي الله عنه أجر نفسه من يهودي يسقي له كل دلو بتمرة، وأخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك فلم ينكره. ولأن الأجير في الذمة يمكنه تحصيل العمل بغيره.كما اتفقوا على أنه لا يجوز للمسلم أن يؤجر نفسه للكافر لعمل لا يجوز له فعله، كعصر الخمرورعي الخنازير، وما أشبه ذلك.واختلفوا في حكم خدمة المسلم للكافر بإجارة، أو إعارة أو غير ذلك.فذهب الحنفية إلى جواز ذلك؛لأنه عقد معاوضة فيجوز كالبيع، ولكن يكره للمسلم خدمة الكافر؛ لأن الاستخدام استذلال، فكان إجارة المسلم نفسه منه إذلالا لنفسه، وليس للمسلم أن يذل نفسه بخدمة الكافر.

(حرف الخاء، خدمة، خدمة الكافر للمسلم، ج: 19، ص: 45، ط: دار السلاسل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں