بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1448ھ 02 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جاندار کی تصاویر والی اسٹیشنری کی خرید و فروخت کا حکم


سوال

میرا اسٹیشنری  سپلائی کا کام ہے، اس میں کچھ اشیاء ایسی  ہیں کہ جن میں تصاویر ہوتی ہیں  تو ان کو فروخت کرنا کیسا ہے ؟ مثلاً بچوں کی   پینسل باکس اور وائٹ بورڈ وغیرہ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ اسٹیشنری کی اشیاء کی خرید و فروخت مقصود ہے، جاندار کی تصویر کی خرید وفروخت مقصود نہیں ہے، لہٰذا ان اشیاء کی خرید و فروخت جائز ہے۔

شرح السیر الکبیر میں ہے:

"ألا ترى أن المسلمين ‌يتبايعون ‌بدراهم ‌الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، و لايمتنع أحد عن المعاملة بذلك. و إنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها.

وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف، فهناك ينبغي له أن يكسرها ثم يبيعها أو يقسمها حطبًا. قال: إلا أن يبيعها قبل أن يكسرها ممن هو ثقة من المسلمين يعلم أنه يرغب فيها للحطب لا للاستعمال على وجه لايحل، فحينئذ لا بأس بذلك؛لأنه مال منتفع به، فيجوز بيعه للانتفاع به بطريق مباح شرعًا."

(أبواب سهمان الخيل والرجالة في الغنائم،باب ما يحمل عليه الفيء وما يجوز فعله بالغنائم في دار الحرب، ص:1051،ط: الشركة الشرقية)

الأشباه والنظائر  میں ہے:

"القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها  كما علمت في التروك. وذكر قاضي خان في فتاواه: إن بيع العصير ممن يتخذه خمراً إن قصد به التجارة فلايحرم، وإن قصد به لأجل التخمير حرم، وكذا غرس الكرم على هذا (انتهى) . وعلى هذا عصير العنب بقصد الخلية أو الخمرية".

(القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها ، ص: 23، ط: دار الكتب العلمية، بيروت)

کفایت المفتی میں ہے:

بچوں  کے کھلونوں کی تجارت  کا حکم:

"تصویروں کا خریدنا بیچنا ناجائز ہے خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی اور بچوں کے کھیلنے کی ہوں اور کسی اور غرض کے لیے،البتہ ایسی اشیاءجن میں تصویر کا خریدنا بیچنا مقصود نہ ہو ،جیسے دیا سلائی کے بکس کہ ان پر تصویر بنی ہوتی ہے،مگر تصویر کی بیع و شراءمقصود نہیں ہوتی تو ایسی چیزوں کا خریدنا بیچنا مباح ہو سکتا ہے.....۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ،ج:9،ص: 235،  ط: فاروقیہ،کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100969

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں