
میرے والد نے دو شادیاں کی ہیں ، میری حقیقی والدہ سے تین بیٹۓ ہوے اور دوسری والدہ سے دس بچے ہوے ؛ پانچ بیٹۓ اور پانچ بیٹیاں ۔
مسئلہ یہ ہے کہ میرے بیٹۓ کو میری دوسری والدہ نے دودھ پلایا ہے ، اور اب میرے بیٹے کی میرے حقیقی بھائی (جو میری سگی والدہ سے ہے ) کی بیٹی سے شادی ہورہی ہے ۔
کیا ان دونوں کی شادی آپس میں شرعا درست ہے ؟ میری دوسری والدہ کا میرے بیٹۓ کو دودھ پلانے کی وجہ سے یہ نکاح حرمت رضاعت کی وجہ سے حرام تو نہیں ہوگا ؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کی دوسری والدہ (سوتیلی ماں) نے اس کے بیٹے کو مدتِ رضاعت (ڈھائی سال کی عمر کے اندر) دودھ پلایا تو وہ (سائل کی سوتیلی والدہ) شرعاً (سائل کےمذکورہ بیٹۓ) کی رضاعی ماںبن گئیں ،جبکہ سائل کے والد (یعنی لڑکے کے سگے دادا) اس لڑکے کے رضاعی والد بن گئے ، اور سائل کے تمام بہن بھائی سائل کے مذکورہ بیٹے کے رضاعی بہن بھائی بن گئے ، پس جس طرح حقیقی بہن بھائیوں سے نکاح حرام ہوتا ہے ، بالکل اسی طرح رضاعی بہن بھائیوں کی اولاد سے بھی نکاح حرام ہوتا ہے ۔
لہٰذا مسئولہ صورت میں سائل کے مذکورہ بیٹے کا نکاح سائل کے کسی بھی بھائی یا بہن کی بیٹی سے حلال نہیں ہوگا ۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان."
(کتاب النکاح، باب الرضاع، ج:3، ص:213، سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"کل من تحرم بالقرابة والصھریة تحرم بالرضاع"۔
(کتاب النکاح، الباب الثالث، القسم الرابع المحرمات بالجمع، ج: 1، ص: 277، ط: دارالفکر )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100857
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن