
میرا اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ جھگڑا ہو گیا، تو میں بے قابو ہو گیا اور اس بیٹے کو عاق کرنے کے الفاظ نکالنا چاہ رہا تھا، لیکن میرے منہ سے عاق کے بجائے طلاق کے الفاظ نکلے، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، تقریبا چار مرتبہ منہ سے یہ الفاظ نکلے، اس جگہ میری بیوی موجود بھی نہیں تھی اور نہ میرا طلاق کا ارادہ تھا، میں اپنے بیٹے کو عاق کرنا چاہتا تھا، غلطی میں طلاق کے الفاظ نکلے ہیں اور ان الفاظ کو ادا کرتے وقت اپنے بیٹے کو مخاطب کیا تھا، نہ کہ بیوی کو۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً آپ نے اپنے بیٹے کو مخاطب کیا تھا اور آپ اس کو عاق کے الفاظ کہنا چاہتے تھے، مگر غلطی سے یہ الفاظ کہہ دیے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، جبکہ بیوی وہاں موجود بھی نہیں تھی، تو ان الفاظ سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے، دونوں کا ساتھ رہنا جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"[محل الطلاق]
(قوله ومحله المنكوحة) أي ولو معتدة عن طلاق رجعي أو بائن غير ثلاث في حرة."
(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"لكن لا بد في وقوعه قضاءً وديانةً من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها."
(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 250، ط: سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100829
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن