بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1448ھ 01 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کی طرف سے قسطوں پر پلاٹ کی خریداری کی مختلف شرائط اور ان کا شرعی حکم


سوال

 میں قسطوں پر ایک پلاٹ خریدنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ کمپنی کی طرف سے دی گئی Terms & Conditions، معاہدے کی شرائط اور Payment Plan آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔

براہِ کرم ان شرائط کو اچھی طرح ملاحظہ فرما کر رہنمائی فرمائیں کہ کیا ان کی بنیاد پر کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں۔

خاص طور پر پوائنٹ نمبر 5 اور 9 کے بارے میں وضاحت درکار ہے، کیونکہ ان میں Price Revision، Cancellation اور رقم کی کٹوتی/واپسی کی شرائط کا ذکر ہے۔ قسطوں کے معاہدے میں ان شرائط کا کیا حکم ہوگا؟

اگر کسی مقام پر مزید وضاحت، ترمیم یا کسی شرط میں تبدیلی کی ضرورت ہو تو براہِ کرم اس کی بھی رہنمائی فرما دیں، تاکہ معاہدہ شریعت کے مطابق درست طریقے سے کیا جا سکے۔

کمپنی کی Terms & Conditions (شرائط وضوابط) پلاٹ کی خریداری سے متعلق:

1۔ بقایا رقم (Balance Dues)، اگر کوئی ہو، بعد ازاں کمپنی کے قواعد کے مطابق وصول کی جائے گی۔

2۔ پلاٹ کی اضافی قیمت (Additional Cost)، اگر لاگو ہو، بھی الاٹی (Allottee) سے وصول کی جائے گی۔ مین روڈ پلاٹ پر 10%، مکمل کارنر پلاٹ پر 15%، جبکہ شارٹ کارنر، گرین ایریا، جھیل، فرنٹ اینڈ بیک اوپن وغیرہ والے پلاٹ پر 5% اضافی قیمت وصول کی جائے گی۔

3۔ پلاٹ کی حد بندی (Demarcation) کمپنی کے انتظامات کے تحت کی جائے گی۔

4۔ پلاٹ کا فزیکل قبضہ (Physical Possession) الاٹی یا اس کے مجاز نامزد شخص کو 100% ادائیگی اور قبضے و دیگر تمام واجبات/چارجز کی وصولی کے بعد دیا جائے گا۔ 100% ادائیگی کی وصولی کے بعد ڈیولپڈ پلاٹ کا فزیکل قبضہ الاٹی کو دیا جائے گا۔ پلاٹ کے رقبے کی حتمی تصحیح (Final Adjustment) موقع کی صورتحال/حقیقت (Ground Reality/Situation) پر منحصر ہوگی۔

5۔ ریفنڈ (Refund) صرف اس صورت میں قابلِ قبول ہوگا جب  کمپنی کی شرائط و ضوابط کے مطابق معقول مدت (Reasonable Time) کے اندر پلاٹ الاٹ کرنے میں ناکام رہے۔ رجسٹریشن/پلاٹ کی منسوخی (Cancellation) کی صورت میں، منسوخی کے بعد ریفنڈ کی درخواست کی تاریخ سے 12 ماہ کے اندر 30% کٹوتی کے بعد رقم واپس کی جائے گی۔ تاہم، اگر الاٹی تحریری درخواست دے تو جمع شدہ رقم 15% کٹوتی کے ساتھ اسی پروجیکٹ میں الاٹی کے کسی دوسرے/نامزد شخص (Nominee) کی ممبرشپ/رجسٹریشن میں منتقل کی جاسکے گی۔

6۔ تعمیراتی کام کی اجازت کمپنی/متعلقہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی/TMA کی جانب سے جانچ پڑتال اور منظوری کے بعد، مجاز آرکیٹیکٹس/سٹرکچرل انجینئرز کے تیار کردہ بلڈنگ پلان کے مطابق اور وقتاً فوقتاً نافذ العمل قواعد، بلڈنگ بائی لاز اور طریقۂ کار کے مطابق دی جائے گی۔ گراؤنڈ کوریج، سیٹ بیک، اونچائی اور منزلوں کی تعداد کا تعین/منظوری متعلقہ اتھارٹی کرے گی۔

7۔ پلاٹ کا محلِ وقوع اور سائز (Size and Location) قبضہ حوالے کیے جانے کے وقت موقع پر تصحیح اور پیمائش (Measurement and Adjustment at Site) سے مشروط ہوگا، جس کا حتمی فیصلہ کمپنی کا نمائندہ کرے گا۔ قیمت میں تصحیح (Cost Adjustment) بھی اسی کے مطابق کی جائے گی۔

8۔ اوپن فائل ہولڈر کی کسی بھی صورت میں شنوائی نہیں کی جائے گی جب تک کہ فائل درست اصل دستاویزات/فائل کے ساتھ متعلقہ فرد کے نام منتقل نہ کردی جائے، بصورتِ دیگر فائل ہولڈر کا کوئی دعویٰ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

9۔ کمپنی کے بلڈنگ رولز/متعلقہ اتھارٹی کے بائی لاز کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں، یا قیمت، نظرثانی شدہ قیمت (Revised Price)، ایسکیلیشن چارجز (Escalation Charges) وغیرہ کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں پلاٹ کی الاٹمنٹ منسوخ (Cancelled) کردی جائے گی

10۔ مذکورہ پلاٹ کی فروخت (Sale)، رہن (Mortgage)، لیز (Lease)، ہبہ (Gift)، تقسیم (Division) یا منتقلی (Transfer) کمپنی کی پیشگی منظوری کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ ایسی صورتوں میں کمپنی کے قواعد لاگو ہوں گے۔

11۔ پلاٹ صرف رہائشی مقاصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

12۔ انتظامیہ کو پلاٹ کا فزیکل قبضہ حوالے کیے جانے تک پلاٹ نمبر، محلِ وقوع اور سائز تبدیل کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

13۔ کمپنی الاٹی/مالک سے مقررہ شیڈول/کمپنی پالیسی کے مطابق مینٹیننس/سروس چارجز وصول کرے گی۔

14۔ فورس میجر (Force Majeure) کے سبب پروجیکٹ/ڈیولپمنٹ ورک کی تکمیل یا پلاٹ حوالے کرنے میں کسی بھی خلل یا تاخیر کی صورت میں کمپنی اس دوران ہونے والی کسی بھی تاخیر کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔

15۔ تمام ادائیگیاں فیصل ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے نام ڈیمانڈ ڈرافٹ/پے آرڈر یا کسی مجاز بینک کے کسی دیگر قابلِ قبول انسٹرومنٹ کے ذریعے کی جائیں گی۔ حکومت کی جانب سے متعلقہ جائیداد/پلاٹ پر وقتاً فوقتاً عائد کردہ کوئی بھی ٹیکس بھی الاٹی/ٹرانسفری سے وصول کیا جائے گا۔

16۔ الاٹی اپنے واجبات آن لائن ادائیگی کے ذریعے بھی ادا کرسکتا ہے۔

17۔ الاٹی ڈیولپمنٹ ورک کی تکمیل کی تاریخ سے دو سال کے اندر پلاٹ کا فزیکل قبضہ حاصل کرکے مکان/عمارت کی تعمیر کا آغاز کرے گا، بصورتِ دیگر الاٹی کمپنی کی پالیسی کے مطابق نان یوٹیلائزیشن/نان کنسٹرکشن چارجز کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔

18۔ اصل الاٹمنٹ لیٹر گم ہوجانے کی صورت میں متعلقہ پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروا کر اس کی ایک کاپی کمپنی کے دفتر میں جمع کروانا ہوگی۔

19۔ اس الاٹمنٹ لیٹر کی درستگی متعلقہ اتھارٹی کی منظوری سے مشروط ہوگی۔

20۔ الاٹی اس لیٹر میں مذکور کمپنی کی تمام شرائط و ضوابط، یا جو بھی شرائط وقتاً فوقتاً تبدیل ہوں، کی سختی سے پابندی کرے گا۔

جواب

واضح رہے کہ بیع کے معاملے کے درست ہونے کے لیے عقد اور معاملہ کرتے وقت مبیع ( یعنی جو چیز خریدی جائے) کا متعین، مخصوص ہونا، اس کی مقدار  اور ثمن (قیمت) کا معلوم ہونا، نیز قسطوں پر معاملہ ہونے کی صورت میں کل قیمت، اقساط کی مقدار اور مدت کا متعین ہونا ضروری ہے۔اگر معاملہ میں مبیع یا ثمن مجھول ہو تو ایسی بیع درست نہیں ہوتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں کمپنی کی ذکرکردہ شرائط کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ معاملہ میں چند قباحتیں اور مفاسد پائی جاتی ہیں:

1: مذکورہ معاملے میں پلاٹ (مبیع) متعین اور مخصوص نہیں ہے، شق نمبر 7 میں پلاٹ کا محلِ وقوع اور سائز قبضہ کے وقت پیمائش اور اسی کے مطابق تصحیح سے مشروط ہے، نیز اسی طرح شق نمبر 12 میں مذکور ہے کہ کمپنی کو پلاٹ کا نمبر، سائز اور محل قبضہ دینے تک تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

 ان شقوں کی روشنی میں عقد میں مبیع (پلاٹ) میں جہالت پائی جارہی ہے، پلاٹ کا محلِ وقوع، سائز متعین نہیں ہے، جو کہ اس معاملہ کے فاسد ہونے کا سبب ہے۔

2: پلاٹ کے متعین نہ ہونے کے سبب ثمن میں بھی جہالت پائی جارہی ہے، جیسا کہ شق نمبر 7 میں مذکور ہے کہ پلاٹ کے سائز اور محل کے اعتبار سے قیمت میں تبدیلی ہوگی، اور ثمن کے نامعلوم ہونے سے معاملہ ناجائز ہوتا ہے۔

عقدِ بیع میں مبیع اور ثمن کا اس طور پر متعین اور معلوم ہونا ضروری ہے کہ اس میں کسی قسم کا ابہام اور جہالت نہ ہو، جوکہ جھگڑے اور فساد کا سبب ہو،چونکہ عقد میں پلاٹ اوراس کی قیمت متعین نہیں ہے، بلکہ بعد میں کمپنی اور اس کے نمائندے کی مقرر کردہ پیمائش پر موقوف ہے، تو ایسی صورت میں مبیع اور ثمن دونوں میں جہالت پائی جارہی ہے، لہذا ایسا معاملہ درست نہیں۔

3: شق نمبر 9 میں قسط کی تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں کمپنی کو یک طرفہ طور پر پلاٹ کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، عقد میں کمپنی کو یک طرفہ طور پر معاملہ منسوخ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔یہ شق بھی شرعاً عقدِ بیع کے منافی ہے۔

4: شق نمبر 5 میں مذکور ہے کہ کمپنی کی طرف سے اگر مقررہ مدت میں پلاٹ الاٹ نہ ہوسکا تو اس صورت میں رقم کی واپسی پر 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی، اور اگر مشتری (خریدنے والا) خود درخواست دے، اور پلاٹ کسی اور کی ممبر شپ میں منتقل کیا جائے تو اس صورت میں 15 فیصد کٹوتی ہوگی، یہ شق بھی شریعت کے اصل کے منافی ہے، اس لیے کہ یہ گذشتہ بیع کو ختم کرنا ہے، جسے شرعاً اقالہ کہا جاتا ہے، اور اقالہ میں پہلی مقررہ قیمت ہی دینا لازم ہوتا ہے، یک طرفہ طور پر کٹوتی کرنا درست نہیں ہے، نیز  عقد ختم کرنے کی وجہ سے مخصوص رقم کاٹنا مالی جرمانہ وصول کرنے کی قبیل سے ہے، اور مالی جرمانہ عائد کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔

لہذا موجودہ شرائط کی موجودگی میں کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ درست نہیں ہے، اس میں بعد میں پلاٹ کے سائز اور محل میں تبدیلی، اور اسی کے مطابق ثمن میں تبدیلی، اور کمپنی کو یک طرفہ طور پر معاملہ ختم کرنے کا اختیار ہونا، اور رقم ریفنڈ ہونے کی صورت میں 30 یا 15 فیصد کٹوتی جیسی شرائط پائی جارہی ہیں۔

اگر کمپنی کی طرف سے درج ذیل امور کی وضاحت اور درستی ہوجائے تو پھر قسطوں پر پلاٹ خریدنے کا معاملہ کرنا درست ہوگا:

(1) عقد کے وقت مخصوص پلاٹ کو متعین کیا جائے۔

(2) پلاٹ کا سائز اور قیمت بھی واضح طور پر معلوم ہو۔

(3) کمپنی کو معاملہ ہونے کے بعد یک طرفہ فسخ کا اختیار حاصل نہ ہو۔

(4) پلاٹ کے نمبر اور محل اور سائز میں تبدیلی خریدار کی رضامندی کے بغیر نہ کی جائے۔

(5) معاملہ ختم کرنے کی صورت میں رقم ریفنڈ کرنے میں مخصوص کٹوتی کی شرط نہ لگائی جائے۔

(6) قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کسی بھی قسم کی اضافی رقم نہ وصول کی جائے۔

(7) قسطوں کی رقم، اور تاریخیں اور ادائیگی کا طریقہ پہلے سے مکمل طور پر واضح کردیا جائے۔

مذکورہ معاہدہ میں پلاٹ کا قبضہ رقم کی مکمل ادائیگی کے بعد دینے کا ذکر ہے، لہذا کمپنی اس بات کو واضح کرلے کہ مذکورہ معاملہ بیع کا ہے، یا وعدۂ بیع اور بکنگ کا ہے۔

اگر حتمی بیع کا معاملہ ہو تو پلاٹ کمپنی کے قبضہ میں ہونا ضروری ہے، تاکہ یہ معاملہ بیع قبل القبض (قبضہ میں لینے سے قبل آگے بیع کرنا) کی وجہ سے فاسد نہ ہو۔

فتاوی قاضی خان میں ہے:

" رجل قال:بعت منك نصيبي من هذه الدار بكذا جاز إذا علم المشتري بنصيبه من الدار، وإن لم يعلم به البائع لكن يشترط تصديق البائع فيما يقول، وإن لم يعلم المشتري نصيبه، لا يجوز في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى : علم البائع بذلك أو لم يعلم."

(کتاب البیع، باب البیع الفاسد، ج:2، ص:22، ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

" وإذا باع سهماً من الدار ولم يعين موضعه ذكر شمس الأئمة الحلواني أنه لا يجوز إجماعاً."

(کتاب البیوع، الفصل السابع فیما یجوز بیعہ ومالایجوز، ج:8، ص:380، ط:مکتبہ زکریا، دیوبند)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

[(المادة 109) البيع الفاسد]

" البيع الفاسد هو المشروع أصلا لا وصفا يعني أنه يكون صحيحا باعتبار ذاته فاسدا باعتبار بعض أوصافه الخارجة (راجع الباب السابع) .
يكون البيع فاسدا إذا كان البيع أو الثمن مجهولا أو كان الأجل الذي سيدفع فيه الثمن مجهولا أو كان شرط انعقاد البيع غير مشروع باعتبار بعض أوصافه الخارجة."

(الكتاب الأول البيوع، مقدمة في بيان الاصطلاحات الفقهية المتعلقة بالبيوع، ج:1، ص:103، ط:دار الجیل)

وفیہ ایضا:

" لها ثلاثة أحكام:
الأول - عند الإمام وهو فسخ موجبات العقد في حق المتعاقدين وموجبات العقد هي ما يثبت بنفس العقد بغير حاجة إلى شرط وذلك كتعيين الثمن جنسا وقدرا ووصفا وتعيين المبيع فعلى هذا إذا تقايل المتبايعان البيع بعد قبض ثمن المبيع فيجب رد مثل الثمن أو مقداره الذي اتفق عليه حين العقد.........................................مثال ذلك: ‌إذا ‌باع ‌رجل ‌من ‌آخر ‌مالا ‌بخمسين ‌ريالا وبعد أن قبض الثمن تقايلا البيع واتفقا على أن يدفع البائع للمشتري خمسة وأربعين ريالا عوضا عن الثمن الذي قبضه فالإقالة صحيحة وعلى البائع أن يرد الخمسين ريالا للمشتري دون زيادة ولا نقصان."

(الكتاب الأول البيوع، الفصل الرابع في إقالة البيع، حكم الإقالة، ج:1، ص:172، دار الجیل)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌ إذا ‌شرط ‌الأجل ‌في ‌المبيع ‌العين ‌فسد ‌العقد وإن شرط الأجل في الثمن والثمن دين فإن كان الأجل معلوما جاز البيع وإن كان مجهولا فسد البيع."

(کتاب البیوع، الباب العاشر في الشروط التي تفسد البيع والتي لا تفسده، ج:3، ص:142، ط:رشیدیة)

البحر الرائق میں ہے :

" وفي شرح الآثار ‌التعزير ‌بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال، وأما التعزير بالشتم فلم أره إلا في المجتبى قال وفي شرح أبي اليسر التعزير بالشتم مشروع ولكن بعد أن لا يكون قاذفا، وصرح السرخسي بأنه ليس في التعزير شيء مقدر بل هو مفوض إلى رأي القاضي لأن المقصود منه الزجر وأحوال الناس مختلفة فيه."

(کتاب الحدود، فصل فی التعزیز، ج:5، ص:44، دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803100771

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں