
میں نے اپنے بیٹے کا نام "محمد غاسق عُظَّام (Muhammad Ghasiq Uzzaam)" رکھا تھا، غاسق کا معنی جب گوگل میں دیکھتے ہیں، تو "Moon/ Pearl(چاند اور موتی)" لکھا ہوا ہوتا ہے، لیکن جب ہم قرآن میں سورہ فلق میں دیکھتے ہیں، تو اس کا معنی "اندھیرا" لکھا ہوا ہوتا ہے۔
کئی علماء سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ نام صحیح نہ ہونے کی وجہ سے دوسرا نام رکھا جائے، مگر جب ہم نام کی تبدیلی کے لیے نادرا دفتر حاضر ہوئے، تو انہوں نے منع کر دیا اور کہا کہ فتوی لے کر آئیں یا عدالت سے رجوع کریں، وکیل صاحبہ بھی فتوی مانگ رہی ہے، اس لیے آپ حضرات ہماری راہ نمائی فرمائیں!
وضاحت: میں نے اپنے بیٹے کا نام ابھی عبد الہادی عُظَّام رکھنا ہے، کیا یہ نام درست ہے؟
واضح رہے کہ اصل لغوی اور قرآنی سیاق کے اعتبار سے غاسق (Ghasiq) کا بنیادی اور حقیقی معنی "تاریک، گہرا اندھیرا یا تاریک رات" ہی ہے۔
تاہم، اس کا ایک معنی چاند (Moon) بھی ہے، لیکن مطلق عام اور روشن چاند مراد نہیں، بلکہ وہ خاص تاریک چاند مراد ہے جب گہن لگنے کی وجہ سے تاریک ہو کر چھپ جائے، البتہ کسی معتبر لغت و ڈکشنری میں غاسق بمعنی موتی (Pearl) منقول نہیں ہے۔
نیز "ہادی" اللہ تعالی کے صفاتی ناموں میں سے ہے ، اس کا معنی ہے "ہدایت دینے والی ذات"، اور "عُظَام/ عُظَّام" مبالغہ کا صیغہ ہے، جس کا معنی ہے نہایت شان اور عظمت والا بندہ، لہذا عبد الہادی عظام کا معنی "ہدایت دینے والی ذات کا انتہائی عظمت اور بلند شان والا بندہ" ہوا۔
مزید برآں، شریعتِ مطہرہ نے بچوں کے اچھے نام رکھنے کا حکم دیا اور اس کو والدین پر اولاد کا حق قرار دیا ، نام کے اچھا اور بامعنی ہونے کا انسان کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اچھے نام رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، لہذا نام رکھتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ نام اچھا اور بامعنیٰ ہو اور انبیاء کرام علیہ الصلاۃ والسلام، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا دیگر اللہ کے نیک بندوں کے نام پر نام رکھا جائے تو یہ باعثِ برکت اور خیر ہے۔
پس صورتِ مسئولہ میں "محمد غاسق عُظَّام" اچھا نام نہیں ہے، اس طرح کے نام رکھنے سے پرہیز کرنا چاہیے، سائلہ اپنے بیٹے کا مذکورہ نام تبدیل کرکے اس کا نام "عبد الہادی عُظَّام" یا کوئی دوسرا اچھا اسلامی نام رکھ سکتی ہے۔
سنن الترمذی میں ہے:
"عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم نظر إلى القمر، فقال: "يا عائشة استعيذي بالله من شر هذا، فإن هذا هو الغاسق إذا وقب. هذا حديث حسن صحيح."
ترجمہ: "حضرت عائشہ -رضی اللہ عنہ-ا سے روایت ہے کہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ و سلم- نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: (اے عائشہ! اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ یہی غاسق ہے جب وہ چھا جائے یا گرہن میں آ جائے۔"
(أبواب تفسير القرآن، ومن سورة المعوذتين، ج:5، ص:550، ط:دار الرسالة العالمية)
تفسیر القرطبی میں ہے:
"قوله تعالى: (ومن شر غاسق إذا وقب) اختلف فيه، فقيل: هو الليل. والغسق: أول ظلمة الليل، يقال منه: غسقا الليل يغسق أي أظلم... هذا قول ابن عباس والضحاك وقتادة والسدي وغيرهم...
وقيل: هو القمر. قال القتبي: إذا وقب القمر: إذا دخل في ساهوره، وهو كالغلاف له، وذلك إذا خسف به. وكل شي أسود فهو غسق. وقال قتادة: إذا وقب إذا غاب. وهو أصح، لأن في الترمذي عن عائشة...إلخ."
(تفسير سورة الفلق، ج:20، ص:256، ط:دار الكتب المصرية)
لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"قوله: (فإن هذا هو الغاسق إذا وقب) قال في (القاموس المحيط، ص:914، ط:مؤسسة الرسالة) في باب القاف: الغسق محركة: ظلمة أول الليل، وغسق الليل غسقا، ويحرك، وغسقانا، وأغسق: اشتدت ظلمته، والغاسق: القمر أو الليل إذا غاب الشفق، {ومن شر غاسق إذا وقب} أي: الليل إذا دخل... وقال في باب الباء (ص:142): وقب الظلام: دخل، والشمس وقبا ووقوبا: غابت، والقمر: دخل في الكسوف، ومنه {غاسق إذا وقب}... والوجه في الاستعاذة من القمر إذا كسف: أنه من آيات الله الدالة على حدوث بلية ونزول نائبة، كما جاء في الحديث: قام النبي صلى الله عليه وسلم فزعا يخشى أن تكون الساعة."
(كتاب الدعوات، باب الاستعاذة، الفصل الثاني، ج:5، ص:246، ط:دار النوادر)
مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"(وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن بنتا كانت لعمر يقال لها: عاصية) : ولعلها سميت بها في الجاهلية... والحاصل أنها مؤنث العاص لا تأنيث العاصي، لكن لما كان يتبادر منه هذا المعنى غيرها (فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم جميلة) . ولعله لم يسمها مطيعة مع أنها ضد العاصية مخافة التزكية والله أعلم.
ثم رأيت التوربشتي قال: وإنما كان ذلك منه في الجاهلية، فإنهم كانوا يسمون بالعاص والعاصية ذهابا إلى معنى الإباء عن قبول النقائص والرضا بالضيم، فلما جاء الله بالإسلام كره له ذلك، وقال الطيبي: كان من الظاهر أن يسمي بما يقابل اسمها، والمقابل برة وهو أيضا غير جائز للعلتين السابقتين، ولذلك عدل إلى جميلة وهي مقابلة لها من حيث المعنى؛ لأن الجميل لا يصدر منه إلا الجميل والبر. .. قال النووي: وفيه استحباب تغيير الاسم القبيح، كما يستحب تغيير الأسامي المكروهة إلى حسن (رواه مسلم) ."
(كتاب الآداب، باب الأسامي، ج:7، ص:3000، الرقم:4758، ط:دار الفكر)
تاج العروس من جواهر القاموس میں ہے:
"(العظم، بكسر العين) أي مع فتح الظاء، ولو قال: كعنب كان أجرى على قواعده وأضبط: (خلاف الصغر) ، وهو كبر الطول والعرض والعمق.
وقد (عظم - كصغر) أي ككرم - (عظما) بكسر ففتح (وعظامة) كسحابة: كبر، وقال الأصبهاني: ((أصل عظم كبر عظمه ثم استعير لكل كبير، فأجري مجراه محسوسا كان أو معقولا، عينا كان أو معنى)) (فهو عظيم) كأمير (وعظام) وعظام) (كغراب وزنار) ، وفي حديث رقيقة: " انظروا رجلا طوالا عظاما "، أي عظيما بالغا، وهو من ابنية المبالغة، وأبلغ منه فعال بالتشديد."
(فصل العين المهملة مع الميم، ع ظ م، ج:33، ص:110، ط:دار إحياء التراث)
القاموس الوحید میں ہے:
"عظُم الرجلُ: شاندار ہونا، هو عظيم، ج:عِظَام و عُظَماء، و هو عُظَام و عُظَّام۔"
(حرف العین، ع ظ، ص:1097، ط:ادارہ اسلامیات)
و فيه أيضا:
"الغاسق: رات جب کہ شفق غائب ہو جائے اور تاریکی چا جائے/ چاند جب کہ گہن آلود ہو کر تاریک ہو جائے۔"
(حرف الغین، غ س، ص:1167، ط:ادارہ اسلامیات)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100755
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن