بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الاول 1448ھ 06 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر تعمیر شدہ فلیٹوں کو بک کروا کر آگے کسی اور شخص کے ساتھ وعدہ بیع کر کے فلیٹ کی فائل بھی اسی کے نام منتقل کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص اسٹیٹ ایجنٹ/بروکر کا کام کرتا ہے۔ وہ کسی بلڈر سے زیرِ تعمیر یا ابھی غیر تعمیر شدہ فلیٹ بک کرواتا ہے۔ مثلاً بلڈر نے ایک عمارت تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، زمین موجود ہے اور تعمیر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، حتیٰ کہ پہلی یا دوسری منزل بھی تعمیر نہیں ہوئی، جبکہ مذکورہ شخص نے چوتھی منزل پر ایک فلیٹ بک کروایا ہے۔ اس فلیٹ کی کل قیمت مثلاً چار کروڑ روپے ہے، جس کی ادائیگی وہ بلڈر کو اقساط کی صورت میں کرے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ:

1. کیا مذکورہ شخص اس فلیٹ پر ابھی حقیقی خرید و فروخت یا قبضہ نہ ہونے کے باوجود اسے آگے کسی دوسرے شخص کو وعدۂ بیع کے ذریعے پانچ کروڑ روپے میں دینے کا وعدہ کرسکتا ہے؟ یعنی وہ شخص جس قیمت پر بلڈر سے فلیٹ بک کروا چکا ہے، اس سے زیادہ قیمت مقرر کرکے کسی دوسرے شخص سے آگے فروخت کا وعدہ کرسکتا ہے؟

2. کیا اس مقصد کے لیے بکنگ کی فائل یا الاٹمنٹ کے حقوق دوسرے شخص کو منتقل کیے جاسکتے ہیں، جبکہ اصل فلیٹ ابھی تعمیر ہی نہیں ہوا اور پہلے خریدار کو اس پر قبضہ بھی حاصل نہیں ہوا؟

3. اگر ایک شخص نے اس طرح وعدۂ بیع کے ذریعے آگے دینے کی گنجائش رکھی، تو کیا دوسرا شخص بھی اسی فلیٹ کو اپنا نفع رکھ کر تیسرے شخص سے وعدۂ بیع کرسکتا ہے، اور پھر تیسرا شخص چوتھے شخص سے؟ یعنی ایک ہی فلیٹ کی فائل/بکنگ متعدد افراد کے درمیان مسلسل آگے منتقل ہوتی رہے، ہر شخص اس میں اپنا نفع شامل کرتا جائے؟

براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں کہ غیر تعمیر شدہ فلیٹ کی بکنگ، وعدۂ بیع، فائل/بکنگ رائٹس کی منتقلی اور اس میں نفع رکھ کر بار بار آگے منتقل کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 

جواب

زیر تعمیر بلڈنگ میں فلیٹ بک کروانے کی صورت میں جب تک مذکورہ فلیٹ کا وجود نہ ہوجائے یعنی اس فلیٹ کا گرے اسٹرکچر نہ بن جائے، اسے منافع کے ساتھ آگے فروخت کرنا جائز نہیں،  لہذا صورتِ مسئولہ میں بک کرائے گئے فلیٹ کی فائل اگر کسی اور کے سپرد کرنے کا ارادہ ہو، تو جمع شدہ رقم سے زائد رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، ناجائز عمل کو وعدہ بیع کا نام دے کر معدوم فلیٹ کی فروختگی کی شرعاً اجازت نہیں ہو گی، اگر کسی نے نفع رکھ کر سودا کیا، تو زائد رقم سود ہونے کی وجہ سے اپنے استعمال میں لانا حلال نہ ہو گا۔

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم الخ."

(کتاب البیوع،فصل فی الشرائط الذي یرجع إلی المعقود علیه، ج:5، ص:138، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144803100750

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں