
ہمارے والد صاحب کی دو شادیاں تھیں۔ پہلی شادی سے ان کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، جب کہ دوسری شادی سے ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ ہمارے بڑے بھائی، جو پہلی اہلیہ سے ہیں، تقریبا پندرہ سال قبل والد صاحب سے عملی طور پر الگ ہو گئے تھے اور گاؤں میں رہنے کے بجائے کوئٹہ شہر میں رہائش پذیر ہو گئے تھے، جبکہ ہم دو بھائی اور دو بہنیں والد صاحب کے ساتھ ہی رہتے رہے۔
تقریبا دس سال قبل والد صاحب کی حیات میں ان کی زمین میں ہم دو بھائیوں نے اپنی ذاتی آمدنی اور اپنی محنت سے ایک باغ لگایا۔ باغ لگانے سے لے کر اس کے مکمل طور پر تیار ہونے تک تقریبا سات سے دس سال کا عرصہ لگا۔ اس دوران پودوں کو پانی، کھاد، مزدوری، آبپاشی، دیکھ بھال اور دیگر تمام ضروری اخراجات ہم دونوں بھائیوں نے اپنی ذاتی کمائی سے برداشت کیے۔ باغ کی دیکھ بھال، آبپاشی ، محنت مزدوری اور نگرانی بھی ہم دونوں بھائی ہی کرتے رہے۔
یہ بات بھی خاص طور پر واضح رہے کہ ان تقریبا دس سالوں کے پورے عرصے میں ہمارے بڑے بھائی نے نہ ایک دن باغ کی طرف آکر اسے دیکھا، نہ باغ کی دیکھ بھال میں کسی قسم کی عملی شرکت کی ، نہ اس میں ایک روپیہ بھی خرچ کیا نہ کسی قسم کی مالی معاونت کی اور نہ باغ کی آبپاشی، مزدوری یا دیگر ضروری اخراجات میں کوئی حصہ لیا اور نہ ہی کسی قسم کا دعوہ شراکت کیا۔ بلکہ آج بھی بڑے بھائی کو اس باغ کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہیں،انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ باغ کہاں سے شروع ہوتا ہے، کہاں تک ہے، اس کی حدود کیا ہیں اور کون سا باغ مذکورہ زمین میں قائم کیا گیا ہے۔
ہمارے والد صاحب اس وقت کافی ضعیف ہو چکے تھے، اس لیے باغ لگانے اور اس کی پرورش کے سلسلے میں ان کی طرف سے کوئی مالی خرچ نہیں کیا گیا، بلکہ باغ پر آنے والے تمام اخراجات ہم دونوں بھائیوں نے اپنی جیب سے ادا کیے اور عملی محنت بھی ہم دونوں نے کی۔
اس سلسلے میں ایک اہم واقعہ یہ بھی ہے کہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں مجھ سے فرمایا تھا کہ:”میں کچھ بوٹیاں آپ کے لیے خرید دیتا ہوں، آپ انہیں اس خالی زمین میں لگا دیں، تا کہ کل وہ بڑے بھائی کے کام آسکیں۔ “ اس پر میں نے والد صاحب سے عرض کیا کہ: ”میں اپنی زمین اور وہ باغ بھی، جو میں نے اپنی محنت اور خرچ سے لگایا ہے، بڑی مشکل سے سنبھال رہا ہوں؛ اس لیے میں بڑے بھائی کے لیے الگ باغ کس طرح سنبھال سکوں گا؟ اگر بڑے بھائی خود اس باغ کو لگانے اور بعد میں سنبھالنے کے لیے تیار ہوں، تو میں صرف باغ لگانے کی حد تک ان کے ساتھ تعاون کر سکتا ہوں، لیکن اس باغ کی دیکھ بھال، آبپاشی، محنت مزدوری اور اخراجات کی ذمہ داری میں قبول نہیں کر سکتا۔ “اس گفتگو سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ والد صاحب کے ذہن میں بڑے بھائی کے لیے الگ اور غیر آباد زمین میں باغ لگانے کا تصور تھا، نہ یہ کہ ہمارے پہلے سے قائم کر دہ باغ میں بڑے بھائی کو شریک کیا جائے۔
والد صاحب کا انتقال بقضائے الہی تقریبا دو سال قبل، یعنی 2024ء میں ہوا۔ ان کی وفات کے وقت باغ ابھی مکمل طور پر پیداوار کے مرحلے تک نہیں پہنچا ۔ اب 2026ء میں باغ مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے اور اس سے با قاعدہ پیداوار حاصل ہونے لگی ہے۔
اب ہمارے بڑے بھائی، جنہوں نے باغ کے قیام ، اخراجات، دیکھ بھال اور محنت میں کوئی حصہ نہیں لیا، یہ دعوی کر رہے ہیں کہ چونکہ باغ والد صاحب کی زندگی میں ان کی زمین پر لگایا گیا تھا، اس لیے وہ بھی اس باغ اور اس کی پیداوار میں شریک ہیں۔ یہ امر بھی واضح رہے کہ جس زمین کے ایک حصے میں مذکورہ باغ لگایا گیا حصے ہے، اس کے علاوہ بھی والد صاحب کی اس سے کہیں زیادہ رقبے پر مشتمل زمین غیر آباد اور خالی پڑی ہوئی ہے۔ اگر ہمارے بڑے بھائی اس غیر آباد زمین میں سے کسی حصے کو آباد کرتا، اس میں باغ لگاتا یا اسے قابل کاشت بنانا چاہیں، تو ہماری طرف سے اس پر نہ کوئی قدغن ہے، نہ کوئی ممانعت اور نہ ہم اس سلسلے میں کوئی رکاوٹ ڈالنا چاہتےہیں۔
ہماری طرف سے اعتراض صرف اس باغ کے متعلق ہے جسے ہم دونوں بھائیوں نے اپنی ذاتی کمائی، مالی اخراجات اور مسلسل محنت سے قائم کیا ہے۔ مزید یہ کہ والد صاحب کی جائیداد کے بارے میں جب میں نے اپنے بڑے بھائی سے بات کی تھی تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا:”کوئٹہ کی زمین اور لورالائی کی زمین میں، میں آپ کے ساتھ حق دار ہوں، باقی میرا آپ کے ساتھ کوئی حق داری نہیں۔"
شرعی سوالات
1۔ کیا مذکورہ باغ، جو والد صاحب کی زمین میں ان کی زندگی میں قائم ہوا، لیکن جس کے پودوں، باغ لگانے، آبپاشی، دیکھ بھال اور دیگر تمام اخراجات ہم دو بھائیوں نے اپنی ذاتی کمائی سے برداشت کیے اور تمام محنت بھی ہم دونوں نے کی، شرعا والد صاحب کی ملکیت شمار ہو گا یا ان دو بھائیوں کی ملکیت شمار ہو گا جنہوں نے باغ لگایا اور اس پر مکمل خرچ کیا ؟
2۔ کیا یہ امر کہ تقریبا دس سال کے عرصے میں بڑے بھائی نے ایک دن بھی باغ کا رخ نہیں کیا، اسے دیکھنے نہیں آئے، اس کی دیکھ بھال میں کوئی عملی حصہ نہیں لیا، اس پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا اور نہ کسی مالی یا عملی ذمہ داری میں شریک ہوئے، شرعی طور پر باغ کی ملکیت یا ان کے دعوائے حق کے تعین میں کوئی اثر رکھتا ہے؟ اگر بڑے بھائی کو آج تک یہ بھی معلوم نہیں کہ مذکورہ بات کہاں واقع ہے، اس کی حدود کہاں سے کہاں تک ہیں اور مذکور زمین میں کون ساحصہ بالغ پر مشتمل ہے، تو کیا یہ امر ان کے اس دعوے کے مقابلے میں بطور قرینہ معتبر ہو گا؟
3۔ والد صاحب کا یہ کہنا کہ ” میں کچھ پودے آپ کے لیے خرید دیتا ہوں، آپ انہیں خالی زمین میں لگا دیں تا کہ کل وہ بڑے بھائی کے کام آئیں “، اور اس کے جواب میں میرا یہ کہنا کہ میں صرف لگانے کی حد تک تعاون کر سکتا ہوں، لیکن بڑے بھائی کے باغ کی دیکھ بھال، آبپاشی اور اخراجات کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتا۔ کیا اس گفتگو سے شرعاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ والد صاحب بڑے بھائی کے لیے الگ بالغ قائم کرنا چاہتے تھے ، نہ کہ پہلے سے میرے اور میرے بھائی کے قائم کردہ باغ میں اسے شریک کرنا چاہتے تھے ؟
4۔ اگر والد صاحب نے ہمیں اپنی زمین میں باغ لگانے کی اجازت دی تھی اور باغ کے قیام و پرورش میں ان کی طرف سے کوئی مالی سرمایہ نہیں لگایا گیا، تو کیا محض زمین والد صاحب کی ہونے کی وجہ سے باغ اور اس کی موجودہ پیداوار میں ان کے تمام ورثاء کا حق ثابت ہو گا ؟
5۔اگر باغ کے درخت اور باغ کی تعمیر و تیاری شرعا ان دو بھائیوں کی ملکیت قرار پائے جنہوں نے اپنی ر قم اور محنت سے اسے قائم کیا، تو کی بڑے بھائی کا اس باغ میں بطور وارث حصہ طلب کر ناشر عادرست ہو گا؟
6۔کیا بڑے بھائی کا یہ دعوی کہ ” چونکہ باغ والد صاحب کی زندگی میں لگایا گیا تھا، اس لیے میں بھی اس میں شریک ہوں “ شرعا درست ہے؟
7۔بڑے بھائی کا والد صاحب کی زندگی میں یہ کہنا کہ کوئٹہ کی زمین اور لورالائی کی زمین میں میں آپ کے ساتھ حق دار ہوں، باقی میرا آپ کے ساتھ کوئی حق داری نہیں ۔ اگر یہ بات معتبر گواہوں یا کسی دوسرے شرعی ثبوت سے ثابت ہو جائے، تو کیا اس اقرار کا موجودہ دعوے پر کوئی شرعی اثر ہو گا؟
8۔اگر باغ شرعا ہم دونوں بھائیوں کا ثابت ہو، تو کیا والد صاحب کی وفات کے بعد بڑے بھائی سمیت دیگر ورثاء اس باغ یا اس کی پیداوار میں میراث کی بنیاد پردعوی کر سکتے ہیں ؟
9۔اگر باغ کی زمین والد صاحب کے ترکہ میں شامل ہو، لیکن باغ کے درخت، تعمیر و ترقی اور اخراجات ہم دونوں بھائیوں کی ملکیت ہوں، تو ایسی صورت میں زمین اور باغ کی ملکیت کو شرعا کس طرح الگ کیا جائے گا؟ نیز باغ کے موجودہ پھل اور آئندہ پیداوار کا حق کسی کو ہو گا؟
10۔اگر باغ کے علاوہ اسی جائیداد میں اس سے کہیں زیادہ غیر آباد اور خالی زمین موجود ہو، اور ہم دونوں بھائی بڑے بھائی کو اس غیر آباد زمین میں اپنی مرضی کے مطابق باغ لگانے یا اسے آباد کرنے سے منع نہیں کرتے، بلکہ اگر وہ خود باغ لگانا اور سنبھالنا چاہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، تو کیا اس امر کا بھی موجودہ باغ کے حق ملکیت کے تعین میں کوئی شرعی اعتبار ہو گا ؟
از راہِ کرم قرآن و سنت، فقہ حنفی اور معتبر فقہی کتب کی روشنی میں اس پورے معاملے کا واضح ، مدلل اور شرعی حکم تحریر فرمادیں، تا کہ تمام فریقین کے در میان حق وباطل واضح ہو جائے اور کسی کے حق پر زیادتی نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ باغ والد صاحب کی حیات میں دونوں بھائیوں نے اپنی ذاتی رقم اور محنت سے اپنے لیے قائم کیا تھا، اور والد صاحب نے باغ کے اخراجات میں شرکت نہیں کی تھی، نہ یہ طے ہوا تھا کہ درخت والد صاحب کی ملکیت ہوں گے، بلکہ انہوں نے صرف اپنی زمین میں باغ لگانے کی اجازت دی تھی، تو شرعاً باغ کے درخت اور ان کی پیداوار دونوں بھائیوں کی ملکیت ہیں۔ محض اس وجہ سے کہ درخت والد صاحب کی زمین میں لگے ہوئے ہیں، وہ والد صاحب یا ان کے ورثاء کی ملکیت قرار نہیں پائیں گے؛ کیونکہ زمین کی ملکیت اور اس پر قائم کیے گئے درخت کی ملکیت الگ الگ ہوسکتی ہے۔
البتہ باغ کی زمین چونکہ والد صاحب کی ملکیت تھی، اس لیے ان کے انتقال کے بعد وہ تمام شرعی ورثاء کا ترکہ ہے اور ہر وارث اپنے شرعی حصے کے بقدر اس میں حق دار ہوگا۔
تمام ورثاء باہمی رضامندی سے والد صاحب کی متروکہ زمین کو شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرلیں، اور جس حصے پر آپ دونوں بھائیوں کا قائم کردہ باغ موجود ہے، اسے حتی الامکان آپ دونوں کے شرعی حصوں میں شامل کردیا جائے۔ اگر باغ کا رقبہ آپ دونوں کے شرعی حصوں سے زائد ہو تو زائد رقبے کے بقدر دیگر ترکہ میں سے اپنا حق چھوڑ دیں، یا دیگر ورثاء کو ان کے حصے کی زمین کی موجودہ بازاری قیمت بطورِ عوض ادا کرکے مذکورہ رقبہ اپنی ملکیت میں لے لیں۔
اور اگر تقسیم کے نتیجے میں باغ والی زمین کا کوئی حصہ کسی دوسرے وارث کے حصے میں آجائے ،تو صرف زمین کا مالک بننے سے وہ درختوں کا مالک نہیں بنے گا؛ بلکہ زمین اس کی اور درخت بدستور دونوں بھائیوں کی ملکیت رہیں گے۔ ایسی صورت میں باہمی رضامندی سےمناسب قیمت دے کر زمین حاصل کی جاسکتی ہے، یا درختوں کو برقرار رکھتے ہوئے زمین کے استعمال کا مناسب معاملہ اور اجرتِ مثل طے کی جاسکتی ہے۔
اور اگر فی الحال زمین کی تقسیم ممکن نہ ہو تو باغ کے درختوں کے نیچے کی زمین چونکہ ترکہ میں مشترک ہے، اس لیے آپ دونوں بھائی دیگر ورثاء کے شرعی حصوں کے بقدر اس زمین کا اجرتِ مثل ادا کرتے رہیں، تاکہ کسی وارث کے حق میں کمی نہ ہو۔
لہٰذا مذکورہ تفصیل کے مطابق باغ کے درخت اور ان کی پیداوار دونوں بھائیوں کی ملکیت ہیں، جبکہ باغ والی زمین والد صاحب کا ترکہ ہے اور تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"والحكم في البناء مماثل لهذا، وهو أنه إذا أنشأ أحد الشريكين بناء في العرصة المشتركة بدون إذن شريكه وطلب الشريك رفع البناء فيقسم القاضي بطلب أحد الشريكين العرصة المذكورة فإذا أصاب البناء مقسم صاحب البناء فبها وإذا أصاب البناء مقسم الشريك الآخر فيقلع البناء ويهدم أو يشتري الشريك الآخر البناء من الشريك الباني بالثمن يتفقان عليه (الفيضية)."
(الكتاب العاشر الشركات، الباب الاول، الفصل الثاني، ج:3، ص:33، ط:دار الجيل)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"دار مشتركة بين قوم فلبعضهم أن يربط فيها دابة وأن يتوضأ فيها ويضع فيها خشبة ولو عطب به إنسان لم يضمن وليس له أن يحفر فيها بئرا أو يبني بناء بغير إذن شريكه وإن بنى أو حفر ضمن النقصان ويؤمر برفع البناء كذا في الفتاوى العتابية."
(كتاب الكراهية، الباب التاسع والعشرون، ج:5، ص:370، ط:دار الفكر)
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية میں ہے:
"وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك اهـ.
وأجاب الخير الرملي عن سؤال آخر بقوله حيث كان من جملة عياله والمعينين له في أموره وأحواله فجميع ما حصله بكده وتعبه فهو ملك خاص لأبيه لا شيء له فيه حيث لم يكن له مال ولو اجتمع له بالكسب جملة أموال؛ لأنه في ذلك لأبيه معين حتى لو غرس شجرة في هذه الحالة فهي لأبيه نص عليه علماؤنا رحمهم الله تعالى فلا يجري فيه إرث عنه لكونه ليس من متروكاته اهـ.
وأجاب أيضا عن سؤال آخر بقوله إن ثبت كون ابنه وأخويه عائلة عليه وأمرهم في جميع ما يفعلونه إليه وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله فيما لديه بيمينه وليتق الله فالجزاء أمامه وبين يديه وإن لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الأربعة سوية بلا إشكال وإن كان ابنه فقط هو المعين والإخوة الثلاثة بأنفسهم مستقلين فهو بينهم أثلاثا بيقين والحكم دائر مع علته بإجماع أهل الدين الحاملين لحكمته."
(كتاب الدعوي، ج:2، ص: 18، ط:دار المعرفة)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"سئل الفقيه أبو القاسم - رحمه الله تعالى - عن رجل زرع أرض رجل بغير إذنه ولم يعلم صاحب الأرض حتى استحصد الزرع فعلم ورضي به هل يطيب للزارع قال نعم قيل له فإن قال لا أرضى ثم قال رضيت هل يطيب له قال يطيب له أيضا قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - وهذا استحسان وبه نأخذ كذا في الذخيرة."
(كتاب الكراهية، الباب الثلاثون في المتفرقات، ج:5، ص:375، ط:دار الفكر)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"[ (المادة 1246) كل نوع من حاصلات البذر الذي زرعه أحد لنفسه هو ملكه]
المادة (1246) - (كل نوع من حاصلات البذر الذي زرعه أحد لنفسه هو ملكه فلا يتعرض لها من أحد) .
كل نوع من حاصلات البذر الذي زرعه أحد لنفسه كالحنطة والتبن إذا كان البذر حنطة هو ملكه فلا يتعرض لها من أحد ولا يؤخذ منها. انظر المادة (97) ، والفقرة الثانية من المادة (1089) سواء زرع البذر في ملكه أو زرعه في ملك الغير بإذن من صاحب الملك أو بطريق الإجارة أو الاستعارة منه أو غصبا بدون (إذن الزيلعي بزيادة) حتى أنه لو زرع أحد بذرا في أرضه ومرت مدة ولم ينبت الزرع ثم باع صاحب الأرض أرضه لآخر وسلمها له فنبت البذر بعد ذلك فيكون النبات للبائع لأن هذا النبات هو ملك لصاحب البذر حيث إنه فرع عن البذر (الولوالجية قبيل كتاب الشرب) وقد ذكر في كتاب البيوع أيضا أن الزرع المزروع في الأرض لا يدخل في المبيع."
(الكتاب العاشر الشركات، الباب الرابع في بيان شركة الاباحة، الفصل الاول، ج:3، ص:257، ط:دار الجيل)
وفيه أيضاً:
"[ (المادة 1173) بنى أحد الشركاء لنفسه في الملك بدون إذن الآخرين]
المادة (1173) - (إذا بنى أحد الشركاء لنفسه في الملك المشترك القابل للقسمة بدون إذن الآخرين ثم طلب الآخرون القسمة تقسم فإن أصاب ذلك البناء حصة بانيه فبها، وإن أصابت حصة الآخر فله أن يكلف بانيه هدمه ورفعه) .
ليس لأحد الشركاء في عرصة مشتركة أن يحدث بناء أو أن يغرس أشجارا بلا إذن، انظر المادتين (46 و 96)
فلذلك إذا بنى أحد الشركاء لنفسه في الملك المشترك القابل للقسمة بدون إذن الآخرين ولم يطلب أي شريك من الشركاء التقسيم وطلب الشريك الآخر رفع البناء يرفع وفي هذه الصورة لا يقسم القاضي العرصة لأن الطلب شرط في قسمة القضاء كما هو مبين في المادة (1129) ويكون البناء المذكور ملكا مستقلا للباني ولا يكون مشتركا بمجرد بنائه في ملك مشترك. أما إذا طلب الشريك الغير الباني أو الشريك الباني أو كلاهما القسمة فتقسم إذا كانت قابلة للقسمة. انظر المادة (1139) لأنه إذا رفع البناء في هذا الحال قبل القسمة يبطل حق الباني بالكلية أما إذا قسم فيكون قد حوفظ على حقه في المقدار الذي أصاب حصته (الولوالجية ويحيى أفندي) .
فإن أصاب بناء على القسمة ذلك البناء حصة بانيه فبها أي يكون أصاب الهدف وإن أصاب حصة الآخر فله أن يكلف بانيه هدمه ورفعه وإذا تراضى مع الباني يدفع بدل البناء للباني ويمتلك الشريك البناء وإذا أصاب بعض البناء حصة الباني وبعضه حصة الشريك الآخر فأمر البناء الذي يصيب الباني يكون عائدا له. أما البناء الذي يصيب حصة الآخر فيهدم ويرفع بطلبه وإذا لزم هدم ورفع البناء وحصل من جراء ذلك نقصان للعرصة يضمنه الباني أيضا، ومع ذلك إذا كان هدم البناء مضرا بالعرصة فيضمن صاحب العرصة قيمة البناء للباني مستحق القلع (رد المحتار) . وكذلك إذا كان ملك مشترك غير قابل للقسمة فيرفع ذلك البناء بطلب الشريك الآخر ويعاد الملك المشترك إلى حاله الأصلي. انظر شرح المادة"
(الكتاب العاشر الشركات، الباب الرابع في بيان شركة الملك، الفصل الثامن، ج:3، ص:180، ط: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803100673
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن