
فتاویٰ عزیزی میں یہ عبارت منقول ہے، جس کی نسبت امام رازی رحمہ اللہ کی طرف کی گئی ہے، اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں:
"روي عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه: إذا مات المؤمن دار روحه حول داره شهرا، فینظر إلى خلفه من ماله كيف يقسم ماله، وكيف یؤدى دينه، فإذا تم شهر رد إلى حفرته، فیدور حول قبرہ حولا وینظر روحه من يدعوا له ويحزن عليه، فإذا تم سنة رفع إلى حيث يجمع الخلائق إلى يوم ینفخ فی الصور انتھیٰ بحر المذاھب."(فتاویٰ عزیزی، مترجم، ص: 159- 160،ط: ایچ۔ ایم۔ سعید، کراچی)
اس روایت کا اصل ماخذ کیا ہے آیا یہ کسی معتبر حدیثی کتاب میں سند کے ساتھ مروی ہے یا نہیں؟ نیز محدثین کے نزدیک اس روایت کی صحت و ضعف کا کیا حکم ہے؟ کیا اسے حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
سوال میں مذکور روایت بعینہٖ انہی الفاظ کے ساتھ صرف ”فتاویٰ عزیزی“ اور "دقائق الأخبار في ذكر الجنة والنار لعبد الرحيم القاضي"وغیرہ میں موجود ہے، لیکن حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حدیث قرار نہیں دیا، بلکہ اسے امام رازی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے، تاہم امام رازیؒ کی کتب میں یہ روایت ہمیں نہیں مل سکی، اسی طرح مذکورہ عبارت کے آخر میں ذکر کی گئی کتاب ”بحر المذہب“ میں بھی یہ روایت دستیاب نہیں ہو سکی۔
البتہ اس کے قریب الفاظ کے ساتھ ایک اور روایت حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو "الفردوس بمأثور الخطاب"، "شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور للسيوطي"اور "بشرى الكئيب بلقاء الحبيب للسيوطي"وغیرہ کتابوں میں موجود ہے، لیکن کافی تلاش کے باوجود مذکورہ روایات کی مکمل سند نہیں مل سکی۔
لہٰذا جب تک یہ روایات کسی صحیح سند کے ساتھ ثابت نہ ہو جائیں، اس وقت تک اسنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا اور بطورِ حدیث بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔
الفردوس بمأثور الخطابمیں ہے:
"أبو الدرداء: الميت إذا مات دير به داره شهرا يعني بروحه وحول قبره سنة ثم ترفع إلى السبب الذي تنتفي فيه أرواح الأحياء والأموات."
(باب الميم، 4/ 240، ط: دار الكتب العلمية)
شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور للسيوطيمیں ہے:
"وفي الفردوس ولم يسنده ولده من حديث أبي الدرداء الميت إذا مات دير به حول داره شهرا وحول قبره سنة ثم يرفع إلى السبب الذي تلتقي فيه أرواح الأحياء والأموات."
(باب تلاقي أرواح الموتى وأرواح الأحياء في النوم، ص: 262، ط: دار المعرفة، لبنان)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101238
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن