
اکتوبر میں دھان (چاول) کی فصل اترنے کا وقت ہوتا ہے۔ چھلکے سمیت چاول کو ساری یا مونجی کہا جاتا ہے۔فصل کٹنے کے بعد کسان مونجی یا ساری کو انویسٹرز، کارخانہ مالکان یا بیوپاریوں کے پاس وزن متعین کرا کے امانتاً رکھوا دیتے ہیں اور استعمال کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔پھر کسان ریٹ بڑھنے کی امید پر انتظار کرتا ہے، پھر چند ماہ بعد ریٹ طے کر کے رقم وصول کر لیتا ہے۔
بعض گودام مالکان اس مدت میں ساری کے خشک ہونے کی وجہ سے فی من ماہوار کے حساب سے وزن میں کٹوتی کرتے ہیں (کیوں کہ خشک ہونے سے وزن کم ہو جاتا ہے) اور بعض کٹوتی نہیں کرتے۔ اس دوران کسان کسی بھی دن ریٹ طے کر سکتا ہے، اور ایک آخری تاریخ بھی مقرر ہوتی ہے، مثلاً یکم جنوری تک اختیار ہوتا ہے۔ اگر اس تاریخ تک ریٹ طے نہ کیا جائے تو یکم جنوری کو جو نرخ ہوگا وہ خود بخود طے ہو جاتا ہے۔
وزن دوبارہ نہیں کیا جاتا، بلکہ ابتدا میں جو وزن کیا گیا ہوتا ہے، اسی میں سے کچھ کمی کر کے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ پھر جو چاول کارخانہ مالک کے پاس موجود ہے اور جو وہ استعمال کر چکا ہے، دونوں کا سودا موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔
ایسی صورت میں مذکورہ بالا بیع کا کیا حکم ہے؟ اگر یہ ناجائز ہے تو اس میں کس طرح تبدیلی کر کے اسے جائز بنایا جا سکتا ہے؟ کیوں کہ کسان اپنے پاس مال محفوظ رکھ کر انتظار نہیں کر سکتے، قانونی مشکلات ہوتی ہیں، اور فوری طور پر سودا بھی نہیں کر سکتے، ورنہ نقصان ہوتا ہے، کیوں کہ عموماً فصل اترنے کے وقت جو نرخ مقرر ہوتا ہے، اس سے کسان بمشکل اپنا خرچہ پورا کر پاتے ہیں۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ استعمال کی صورت میں ساری/مونجی قرض شمار ہوگی جو بعد میں مدیون ہی کو فروخت کی جائے گی۔ مدیون کو قرض کی چیز فروخت کرنے کے جواز کے فتاویٰ بھی موجود ہیں۔ مگر جب ساری/مونجی بطور قرض دی گئی تھی اس وقت اس کی قیمت عموماً دو ہزار تھی، اور جب فروخت کی جاتی ہے تو تقریباً ساڑھے تین ہزار ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں کیا یہ قرض پر نفع لینے کا معاملہ نہیں ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں جب کسان کارخانہِ مالک کو استعمال کی اجازت دے دیتا ہے تو اگرچہ کسان زبانی طور پر اسے امانت کہہ دے، لیکن حقیقتاً یہ معاملہ قرض کا ہوتا ہے، اور قرض کی وصولی کا طریقہ یہ ہے کہ کسان نے انویسٹر یا کارخانہ والوں کو جتنے من کا ساری یا مونجی دیا تھا، اتنے وزن کا ساری یا مونجی وصول کرے، یا اس کی موجودہ قیمت وصول کریں، تو یہ جائز ہوگا، یہ حقیقت میں قرض کی وصولی ہے، بیع نہیں ہے، اور اس میں وزن کم کرنا جائز نہیں ہوگا۔اور بیع کرے گا، تو ساری کارخانہ والوں کو دیتے وقت جو قیمت مقرر ہوگی، بعد میں اس سے زائد رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وإن استقرض دانقا فلوسا، أو نصف درهم فلوس فرخصت، أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذ؛ لأن الضمان يلزمه بالقبض، والمقبوض على وجه القرض مضمون بمثله، وكذلك لو قال: أقرضني دانق حنطة فأقرضه ربع حنطة فعليه أن يرد مثله باعتبار القبض، ولا معتبر بتسمية الدانق.
وكذلك لو قال: أقرضني عشرة دراهم بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها، وكذلك كل ما يكال، أو يوزن فالحاصل، وهو أن المقبوض على وجه القرض مضمون بالمثل"
(کتاب الصرف، ج:14، ص:30، ط:دار المعرفة)
العقودالدریہ میں ہے:
"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى."
(باب القرض، 279/1، ط:دار المعرفة)
الاختیارلتعلیل المختارمیں ہے:
"فإن هلك وهو مثلي فعليه مثله، وإن لم يكن مثليا فعليه قيمته".
(كتاب الغصب في بدايته، ج:3، ص: 59، ط:مطبعة الحلبي)
بہشتی زیور میں ہے:
”مسئلہ اگر کسی نے کچھ روپے پیسے امانت رکھوائے تو بعینہ ان ہی روپے پیسوں کا حفاظت سے رکھنا واجب ہے نہ تو اپنے روپوں میں ان کا ملانا جائز ہے اورنہ ان کا خرچ کرنا جائز۔ یہ نہ سمجھو کہ روپیہ رو پیہ سب برابر۔ لاؤ اس کو خرچ کرڈالیں جب مانگے گی تواپنا روپیہ دید یں گے، البتہ گر اسن نے اجازت دے دی ہو تو ایسے وقت خرچ کرنا درست ہے، لیکن اس کا یہ حکم ہے کہ اگر وہی روپیہ تم الگ رہنے دو تب تھے امانت سمجھا جائے گا۔ اگر جاتا رہا تو تاوان نہ دینا پڑے گا۔اور اگر تم نے اجازت لے کر اُسے خرچ کر دیا تو اب وہ تمہارے ذمہ قرض ہو گیا امانت نہیں رہا ۔ لہذا اب بہر حال تم کو دینا پڑے گا ۔ اگر خرچ کرنے کے بعد تم نے اتناہی روپیہ اس کے نام سے الگ کر کے رکھ دیا تب بھی وہ امانت نہیں وہ تمہارا ہی روپیہ ہے اگر چوری ہو گیا تو تمہارا گیا، اس کو پھر دینا پڑے گا ، غرض یہ کہ خرچ کرنے کے بعد جب تک اس کوادانہ کردو گی تب تک تمہارے ذمہ رہے گا۔“
(پانچواں حصہ، ص:259، ط:اسلامک بک سروس)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101014
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن