
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ میاں بیوی کے درمیان آپس میں یہ مکالمہ ہوا، اس کو پڑھ لیجئے کہ اس کے
نتیجے میں طلاق ہوئی یا نہیں :
بیوی : ہاں مجھ سے بچہ نہیں ہو رہا، آپ دوسری کر لیں گے ۔
شوہر : دوسری سے کیا گارنٹی ہے کہ بچہ ہو جائےگا۔
بیوی : آپ تیسری کر لیں گے۔
شوہر : تیسری سے کیا گارنٹی ہے۔
بیوی : آپ چوتھی کر لیں گے۔
شوہر : چوتھی سے کیا گارنٹی ہے کہ بچہ ہو جائےگا۔
بیوی: آپ پانچویں کر لیں گے۔
شوہر : پانچویں کے لئے پہلی والی کو چھوڑنا ہو گا۔
بیوی : ہاں چھوڑ دیں مجھے ، چھوڑ دیں ۔
شوہر : چھوڑ دیتے ہیں، چھوڑ دیتے ہیں ، ( تین مرتبہ )
بیوی: یہ کیوں کہہ رہے ہیں 3 الفاظ بول کر ختم کر دے۔
شوہر : کہاں چھوڑ دوں گلشن چھوڑ دوں۔
سؤال 1 : کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے (چھوڑ دیتے ہیں کے وقت شوہر کو تھوڑا شک ہوا ہے کہ یہ الفاظ غلط تو نہیں بول رہا) شوہر کے ذہن میں یہ تھا کہ لفظ طلاق سے ہی طلاق ہوتی ہے ، " لفظ چھوڑ دینے " سے طلاق نہیں ہوتی، یہ شوہر کی سمجھ تھی۔ سؤال 2 ( چھوڑ دیتے ہیں ) اس کی وضاحت فرمادیجئے، عام طور پر یہ لفظ مستقبل کے لئے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ :
میں طلاق دے دیتا ہوں۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ)
میں پانی پی لیتا ہوں ۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ)
آؤ چائے پیتے ہیں ۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ)
میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ)
میں تمہیں پیسے دے دیتا ہوں۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ)
پیسے دو میرے ، ہاں بھائی دے دیتا ہوں ۔ ( مستقبل کی طرف اشارہ)
صورتِ مسئولہ میں پورے مکالمے اور اس کے قرائن کو سامنے رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کا مقصد بیوی کو طلاق دینا نہیں تھا، بلکہ دونوں کے درمیان صرف آئندہ کی ایک فرضی بات چل رہی تھی، حقیقت میں شوہر کا بیوی کو طلاق دینا مقصود نہیں تھا۔ مزید یہ کہ بعد میں شوہر کا یہ کہنا: "کہاں چھوڑ دوں، گلشن چھوڑ دوں؟" بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ اس کے پیشِ نظر طلاق دینا مقصود نہیں تھا۔
لہٰذا مذکورہ صورت میں شوہر کے الفاظ "چھوڑ دیتے ہیں، چھوڑ دیتے ہیں، چھوڑ دیتے ہیں" سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور نکاح بدستور برقرار ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وركنه لفظ مخصوص...
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.
وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي."
(كتاب الطلاق، ركن الطلاق،ج: 3،ص: 230، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"في المحيط لو قال بالعربية: أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا."
(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السابع فی الطلاق بالألفاظ الفارسية،ج: 1،ص: 384، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144712100868
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن