بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

فرض نمازوں میں قرآن ترتیب وار ختم کرنا مسنون یا لازم سمجھنا جائز نہیں


سوال

درج ذیل باتوں کے پیش نظر، کیا فرض نمازوں میں مکمل قرآن ختم کرنا امام کے لیے بہتر ہے؟

1۔ اگر امام یہ بتانا بھول جائے کہ اس رکعت میں سجدۂ تلاوت ہے، یا امام تو بتا دے لیکن کچھ مقتدی بعد میں شامل ہوں اور وہ سجدہ میں چلے جائیں جبکہ باقی مقتدی رکوع میں ہوں، تو ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا؟

2۔ اگر امام سے کوئی غلطی ہو جائے تو کیا لقمہ دینا جائز ہے؟ اور اگر لقمہ دینے والا حافظِ قرآن نہ ہو تو ایسی غلطی کا کیا حکم ہوگا؟

ان احتمالات کے ہوتے ہوئے، کیا امام کا فرض نمازوں میں مسلسل قرآن ختم کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ امام اور منفرد کے لیے پنج وقتہ نمازوں میں تلاوت کی مسنون مقدار یہ ہے کہ:فجر اور ظہر کی نماز میں طوالِ مفصل (سورہ حجرات سے سورہ بروج تک) میں سے کوئی سورت یا اتنی مقدار کسی اور جگہ سے تلاوت کرے،عصر اور عشاء کی نماز میں اوساطِ مفصل (سورہ طارق سے سورہ بینہ تک) میں سے کوئی سورت یا اتنی مقدار پڑھے،اور مغرب کی نماز میں قصارِ مفصل (سورہ زلزال سے سورہ ناس تک) میں سے کوئی سورت یا اتنی مقدار پڑھے۔لہٰذا اگر امام فرض نمازوں میں مفصلات کے بقدر قرآن میں کہیں سے مضمون اور معنی کا لحاظ کرتے ہوئے بھی  تلاوت کرے، اور ترتیب وار قرآن ختم کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔البتہ فرض نمازوں میں اس طرح قرآن کو ترتیب وار ختم کرنےکو مسنون یا لازم سمجھنا جائز نہیں۔

باقی رہاسائل کا یہ کہناکہ اس میں احتمال ہے”     کہ سجدۂ تلاوت کے بارے میں اگر امام یہ بتانا بھول جائے کہ اس رکعت میں سجدۂ تلاوت ہے، یا بتا دے لیکن کچھ مقتدی بعد میں شامل ہوں اور وہ رکوع کی بجائے سجدے میں چلے جائیں “تو پہلی بات یہ ہے کہ سجدۂ تلاوت کا اعلان کرنا ضروری نہیں۔دوسرا یہ کہ اگر مقتدی غلطی سے رکوع میں چلا گیا اور اُسے بعد میں پتہ چلا تو وہ رکوع کو چھوڑ کر سجدے میں چلا جائے۔اور اگر امام سجدۂ تلاوت سے اٹھ چکا ہو اور مقتدی کو تب پتہ چلے، اور وہ امام کے ساتھ سجدے میں شریک نہ ہوا بلکہ صرف رکوع کیا، تب بھی اُس کی نماز ہو جائے گی۔

2-  اسی طرح فرض نماز میں ضرورت کے وقت لقمہ دینا جائز ہے، اور اگر لقمہ دینے والا حافظ نہ ہو تب بھی بعض غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، اور بعض ایسی ہوتی ہیں جن سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔یہ وہ احتمالات ہیں جو قرآن کو فرض نمازوں میں ترتیب وار پڑھنے کے دوران بھی پیش آ سکتے ہیں ،اور اس کے بغیر بھی۔لہٰذا ان احتمالات کی بنیاد پر فرض نمازوں میں قرآن کو ترتیب وار ختم کرنے کو غلط نہیں کہا جا سکتا، بشرطیکہ اُسے مسنون یا لازم نہ سمجھا جائے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال ، فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟"

(کتاب الصلوٰۃ، الفصل الأول،ج:2،ص:755، ط:دارالفکر)

الفقہ الإسلامي وأدلتہ میں ہے:

"قال الحنفية في المعتمد عندهم : ‌طوال ‌المفصل: من سورة الحجرات إلى آخر البروج (أو قدر أربعين أو خمسين آية) وأوساط ‌المفصل: من الطارق إلى أول البينة (أو مقدار خمس عشرة آية)، وقصار ‌المفصل: من البينة إلى آخر القرآن الكريم (أو مقدار خمس آيات في كل ركعة)."

(‌‌‌‌‌‌‌‌الباب الثاني: الصلاة،الفصل السادس،المبحث الأول،المستحب في مقادير السور في الصلوات،ج:2،ص:887،ط:دار الفکر)

فتاویٰ ھندیہ میں ہے :

"والصحيح أن ينوي الفتح على إمامه دون القراءة قالوا هذا إذا أرتج عليه قبل أن يقرأ قدر ما تجوز به الصلاة أو بعدما قرأ ولم يتحول إلى آية أخرى وأما إذا قرأ أو تحول ففتح عليه تفسد صلاة الفاتح والصحيح أنها لا تفسد صلاة الفاتح بكل حال ولا صلاة الإمام لو أخذ منه على الصحيح. هكذا في الكافي."

(كتاب الصلاة،الباب السابع،الفصل الأول فيما يفسدها،ج:1،ص:99،ط:دارالفکر)

وفیه  أیضاً:

"إذا قرأ الإمام آية السجدة وبعض القوم في الرحبة فكبر الإمام للسجدة وحسب من كان في الرحبة أنه كبر للركوع فركعوا ثم قام الإمام من السجدة فكبر فظن القوم أنه رفع رأسه من الركوع فكبروا ورفعوا رءوسهم إن لم يزيدوا على ذلك لم تفسد صلاتهم."

(كتاب الصلاة،الباب الثالث عشر في سجود التلاوة،ج:1،ص:134،ط:دارالفکر)

شرح منیۃ المصلی میں ہے :

"القاعدة عند المتقدمین أن ما غیره تغیراً یکون اعتقاده کفراً تفسد في جمیع ذلک سواء کان في القرآن أو لم یکن إلا ما کان من تبدیل الجمل مفصولاً بوقف تام، ثم قال بعد ذلک: فالأولی الأخذ بقول المتقدمین".

(مفسدات الصلوۃ ،فصل فی زلة  القاری ،ج:2،ص:309،ط:دار الکتب)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144702100023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں